افضل احسن رندھاوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
افضل احسن رندھاوا
معلومات شخصیت
پیدائش 1 ستمبر 1937  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 19 ستمبر 2017 (80 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مرے کالج سیالکوٹ
جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف، شاعر، مترجم، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

افضل احسن رندھاوا (پیدائش: یکم ستمبر، 1937ء - وفات: 19 ستمبر، 2017ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے ناول نگار، افسانہ نگار، شاعر، مترجم اور سیاست دان تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

افضل احسن رندھاوا یکم ستمبر، 1937ء میں امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل محمد افضل تھا لیکن ادبی حلقوں میں افضل احسن رندھاواکے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور وکالت کا شعبہ بطور پیشہ اختیار کیا۔ 1972ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب میں فیصل آباد کی نشست سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ عرصہ دراز سے سیاست سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد پنجابی زبان میں نظمیں، کہانیاں اور ڈرامے لکھتے رہے۔[1]

انہوں نے پنجابی شاعری کی ابتدا 1958ء سے کی۔ ان کی تصانیف میں دیواتے دریا، دوآبہ، سورج گرہن، پندھ، شیشہ اک لشکارے دو، رُت دے چار سفر، پنجاب دی وار، مٹی دی مہک، پیالی وچ آسمان، چھیواں دریا اور اک سورج میرا بھی شامل ہیں۔ وہ ایک اچھے مترجم بھی تھے اور انہوں نے گیبریئل گارسیا مارکیز کے ناول سمیت کئی کتابوں کو پنجابی زبان میں منتقل کیا۔[2] ان کے پنجابی تراجم میں چینوا اچیبے کا ناول ٹٹ بھج، اوریانافلاشی کی انٹرویوز پر مشتمل کتاب تاریخ نال انٹرویو، افریقی نظموں کے تراجم پر مشتمل مجموعہ کالا پینڈا، مارکیز کا ناول پہلوں دس دتی گئی موت دا روزنامچہ اور لوئسے پلویدا کا ناول بڈھا جو عشقیہ کہانیاں پڑھدا شامل ہیں۔ ان کی کتابوں کو بطور نصاب بھارتی صوبہ پنجاب کی امبالہ اور امرتسر کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  1. دیواتے دریا
  2. دوآبہ
  3. سورج گرہن
  4. پندھ
  5. شیشہ اک لشکارے دو
  6. رُت دے چار سفر
  7. پنجاب دی وار
  8. مٹی دی مہک
  9. پیالی وچ آسمان
  10. چھیواں دریا
  11. اک سورج میرا

پنجابی تراجم[ترمیم]

  1. انہوں نے گیبریئل گارسیا مارکیز کے ناول سمیت کئی کتابوں کو پنجابی زبان میں منتقل کیا
  2. چینوا اچیبے کا ناول ٹٹ بھج
  3. اوریانا فلاشی کی انٹرویوز پر مشتمل کتاب تاریخ نال انٹرویو
  4. افریقی نظموں کے تراجم پر مشتمل مجموعہ کالا پینڈا
  5. مارکیز کا ناول پہلوں دس دتی گئی موت دا روزنامچہ
  6. لوئسے پلویدا کا ناول بڈھا جو عشقیہ کہانیاں پڑھدا

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے افضل احسن رندھاوا کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 1995ء کو صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا[2] اور اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پاکستان کے سب سے بڑے ادبی انعام کمال فن ادب انعام برائے سال 2013ء دیا گیا۔[3]

وفات[ترمیم]

افضل احسن رندھاوا 19 ستمبر، 2017ء کو فیصل آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ انہیں غلام محمد آباد کے بڑے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]