مندرجات کا رخ کریں

افضل خان لالا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
افضل خان لالا
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1926ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 1 نومبر 2015ء (88–89 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان
برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت عوامی نیشنل پارٹی   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد افضل خان لالا کو لوگ افضل خان لالا کے نام سے جانتے ہیں۔ آپ مشہور قوم پرست شخصیت، عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا اور سابقہ وفاقی وزیر برائے کشمیر امور تھے۔

پیدائش


افضل خان لالا 1926 کو وادی سوات کے تحصیل مٹہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام حبیب اللّٰہ خان تھا جو دارمئی خان کے نام سے مشہور تھے۔

تعلیم

آپ نے ابتدائی تعلیم سیدو شریف اور بی۔اے کی ڈگری اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور اور ایم۔اے سیاسیات کی ڈگری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔اور اس کے بعد پشاور یونیورسٹی لا کالج سے ایل۔ایل۔بی کی ڈگری حاصل کی۔[1 1]

حالات زندگی

افضل خان لالا زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں حصہ لے رہے تھے۔آپ نے سوات بار کونسل کی بنیاد رکھی آپ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما مرکزی جرگے کے رکن تھے۔

1928ء میں جب آپ ایک سال کے تھے تو آپ کے خاندان کے والئی سوات سے اختلافات پیدا ہوئے اور آپ کے خاندان کو سوات سے جلاوطن کر دیا گیا تھا تو آپ کے خاندان نے زندگی کے کئی سال ریاست دیر میں گزارے۔

1940ء میں سوات کے حکمران کے ساتھ صلح ہو گئی اور آپ واپس سوات چلے آئے ۔

سال 1949ء کو سوات کے حکمران نے آپ کے دو بھائیوں سمیت سینکڑوں افراد کے ساتھ آپ کو گرفتار کر لیا اور ریاست سوات سے بدر کر لیا آپ نے اپنے جلاوطنی کی کئی سال ریاست دیر اور ملاکنڈ ایجنسی میں گزارے۔1953 میں ریاست سوات کے حکمران کے ساتھ آپ کا صلح ہوا اور واپس سوات آ کر اپنے علاقے میں آباد ہو گئے۔[1 2]

عملی سیاست کا آغاز

آپ زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست کا حصہ رہے۔1969 ء میں جب ریاست سوات کا پاکستان سے الحاق ہوا تو تو ایک سال بعد 1970ء میں آپ کو عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے ملاکنڈ ڈویژن سے ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا منتخب ہوئے۔

مفتی محمود کی کابینہ میں آپ صوبائی وزیر زراعت،لوکل باڈیز اور وزیر اطلاعات رہے۔ 1973ء میں جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ سرحد اور بلوچستان کی وزارتیں ختم کردی گئی تو اس کی اس غیر آئینی فیصلے کے خلاف آپ نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا اور اس بعد تمام کابینہ کے اراکین مستعفی ہوئے۔بھٹو حکومت میں اس وقت کے گورنر کی طرف سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی جسے آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔1973ء میں بھٹو حکومت کے غیر آئینی اقدام کے مخالفت میں آپ کو جیل بھیج دیا گیا۔1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی تو افضل خان لالا اور خان عبد الولی خان کو حیدرآباد سازش کیس میں ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا یہ قید و بند کی صعوبتیں یہ زندان کی تکالیف بھی آپ کے ہمت اور حوصلے کو شکست نہ دے سکی اور 1977ء میں بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد آپ جیل سے رہا ہو گئے۔ ضیاء الحق کے دور میں آپ کو وفاق میں وزارت دینے کی پیشکش کی گئی تو آپ نے اس پیشکش کو مستر کر دیا اور ثابت کیا کہ اصولوں کے آگے منصب کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔[3 1]آپ نے ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی اور اپنے اصولوں اور مؤقف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ اسی ضمن میں جب عوامی نیشنل پارٹی نے 1989ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تو افضل خان لالا نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں اس اتحاد کو مسترد کر دیا۔1990ء میں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اپنے ساتھیوں سمیت جن میں افراسیاب خٹک اور عبد لطیف لالا بھی شریک تھے۔ایک نئی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی (حقیقی) کا اعلان کیا۔اسی سال پشاور میں ایک کنونشن میں شرکت کی اور وہاں پر عوامی نیشنل پارٹی (حقیقی) اور قومی انقلابی پارٹی ضم ہو کر ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام پختونخوا قومی پارٹی رکھا گیا۔افضل خان لالا اس پارٹی کے مرکزی صدر اور افراسیاب خٹک اس پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے ۔

1993ء میں وفاقی وزیر برائے کشمیر امور منتخب ہوئے اور 1996ء میں مرکزی کابینہ میں وفاقی وزیر ریلوے اور پاپولیشن ویلفیئر رہے۔ اس کے بعد 1997ء میں سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور اپنے آپ کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔2005ء میں خان عبد ولی خان کی کوششوں سے واپس عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو گئے۔

سیاسی و سماجی خدمات

افضل خان لالا کی زندگی پشتون قوم کی خدمت میں گذری تھے آپ نے پوری زندگی پشتون قوم کی خدمت اور انھیں سیاسی و نظریاتی طور پر بحال کرنا اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنا تھا اور یہ جنگ انھوں نے ہر میدان میں لڑی۔1990ء میں آپ قومی اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے اور اس موقع پر نو منتخب وزیر اعظم کو مبارکباد دی اور یہ فرمایا کہ میں "پختون خواہ" سے تعلق رکھتا ہوں اور اس کے خلاف قومی اسمبلی میں پنجاب کے جو ارکان تھے انھوں نے اس لفظ کی مخالفت کی اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔افضل خان لالا وہ پہلے رہنما تھے جنھوں نے قومی اسمبلی میں میں صوبہ سرحد کے لیے خیبرپختونخوا کا لفظ استعمال کیا اور اقتدار کے ایوانوں میں ثابت کیا کہ پختون قوم ایک الگ شناخت رکھتے کیں۔

1969ء میں جب ریاست سوات کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا تو نیا عدالتی نظام سوات میں رائج ہوا آپ سوات بار کونسل کے پہلے ممبر تھے آپ انتھائی مخلص اور خدا ترس انسان تھے آپ تین سال تک وکیل رہیں اور ان تین سالوں میں کبھی کسی مقدمے کی فیس نہیں لی اور جو لوگ دور دراز علاقوں سے آتے اور واپس جانے میں دیر ہو جاتے تو افضل خان لالا ان کو اپنے حجرہ لے کر جاتے اور صبح اسے اپنے ساتھ واپس گاڑی میں لے کر آتے اور یہ آپ کی سب سے بڑی خدمت تھی پشتون قوم کی لیے اور ان تین سالوں میں افضل خان لالا کوئی بھی کیس نہیں ہارے۔

طالبان کے خلاف مزاحمت

افضل خان لالا اس وقت مقبول اور دلیر رہنماء کے طور پر ابھرے جب 2007ء کو دہشت گردوں نے سوات پر حملہ کرکے سوات میں اپنا کنٹرول سنبھال لیا اور اس جنگ نے پورے ملاکنڈ ڈویژن کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اس صورت حال میں لاکھوں لوگوں نے طالبان کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے۔لیکن افضل خان لالا وہ واحد پشتون رہنما تھے جو سوات چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ اپنے گاؤں میں رہ کر طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سوات کو تنہا نہیں چھوڑا آپ طالبان کے لیے دہشت کی علامت تھے۔خان لالا پر طالبان کے دور میں پانچ قاتلانہ حملے ہوئے تھے اور آپ کے خاندان کے کئی افراد کو طالبان نے انتھائی بے دردی سے مار دیا مگر ان حالات کے باوجود آپ ڈٹ کر کھڑے رہے۔[4 1]سال 2008ء میں آپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں آپ کے ڈرائیور اور محافظ جانبحق ہوئے۔آپ اور آپ کے بھتیجے عبد الجبار خان اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔

تمغا شجاعت

2009ء میں آپ کی جرات،بہادری اور شجاعت کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کے لیے نشان ہلال شجاعت سے نوازا[5 1]

تصانیف

افضل خان لالا سیاسی و سماجی میدان کے علاؤہ علمی میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔آپ چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں مشہور کتاب "منتشر پشتون" جو 1993ء کو شائع ہوئی۔"Pakthun National unity" یہ کتاب 1996ء میں شائع ہوئی۔"Pakhtunkhwa Ghag" یہ کتاب 1994ء میں شائع کی گئی۔"پشتون/افغان قامی جرگہ" یہ کتاب 2000ء میں شائع ہوئی۔"ڈیورنڈ لائن" جو آپ کی مشہور کتاب ہے اور یہ 2004ء کو شائع ہوئی۔"پختون قومی وحدت" یہ 2015ء کو شائع ہوئی[6 1]۔

وفات

یکم نومبر 2015ء کو عظیم قوم پرست رہنما،دلیر اور بہادر شخصیت افضل خان لالا اس دار فانی سے کوچ کرگئے اور انھیں اسی دن آپ کو آپ کے آبائی گاؤں برہ درشخیلہ میں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]

[http://www.pashtoonkhwa.com/?page=pashtoonkhwa&cnt=507 1]

  1. http://www.pashtoonkhwa.com/?page=pashtoonkhwa&cnt=507
  2. http://www.pashtoonkhwa.com/?page=pashtoonkhwa&cnt=507
  1. "آرکائیو کاپی"۔ 06 فروری 2023 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2023 
  1. https://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151101_afzal_khan_lala_rwa
  1. https://english.alarabiya.net/News/gulf/2015/11/02/Pakistan-anti-Taliban-hero-dies-aged-89-
  1. https://www.dawn.com/news/1216963
  1. https://historygreatest.com/afzal-khan-lala-pakistani-politician-died-at-89
  2. http://www.swatnews.com/national-news/7919-%D8%A7%D9%81%D8%B6%D9%84-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%D8%A7%D8%AA