افغانستان میں ہندومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مکھ لنگ (ایک چہرے والی شیولِنگ)، افغانستان
کابل عجائب گھر کا مجسمہ

افغانستان میں ہندومت کے پیروکار بہت کم ہیں۔ ان کی تعداد اندازہً 1،000 کے قریب ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر کابل اور افغانستان کے دیگر اہم شہروں میں رہتے ہیں۔[1][2][3][4]

افغانستان پر اسلام کی جانب سے کی گئی فتح سے پہلے یہاں کی عوام بہت مذہبی تھی۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکار زیادہ تھے۔ گیارہویں صدی میں تمام ہندو مندروں کو تباہ کر دیا گیا یا مساجد میں تبدیل بدل دیا گیا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

کوشان سلطنت کے بادشاہ کنشک دوم اور بھگوان شیو کے سونے کے دینار

ہندومت کے آغاز کے حوالے سے کوئی قابل بھروسا معلومات نہیں ہے، پر مؤرخین کا ماننا ہے کہ قدیم دور میں جنوبی ہندوکش ثقافتی طور پر وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ساتھ منسلک تھا۔ بہت سے مؤخین کا کہنا ہے کہ 330 ق م میں سکندر اعظم اور ان کی یونانی فوج کے آنے سے قبل افغانستان ہخامنشی سلطنت کے ماتحت تھا اور اس میں قدیم آریاناؤں آباد تھے۔ تین سال کے بعد سکندر کے جانے کے بعد یہ (افغانستان) سلوقی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ 305 قبل-عام زمانہ میں سلوقی موریائی جنگ کے نتیجے میں سلوقی سلطنت ہندوکش کے جنوبی علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھی اور موریا سلطنت اس پر قابض ہو گئی۔

پانچویں اور ساتویں صدی کے درمیان میں جب چینی سیاح فاہیان، سئنگ ین اور ہیون سانگ نے افغانستان کا سفر کیا، انھوں نے کئی سفر نامے لکھے، جن میں افغانستان کے متعلق معتبر معلومات تھیں۔ انھوں نے کہا کہ شمال میں دریائے آمو اور دریائے سندھ کے درمیان کے حصوں میں بدھ مت کی پیروی ہوتی تھی۔[5] تاہم، انھوں نے ہندومت کے حوالے سے زیادہ بحث نہیں کی پر سئنگ ین نے اس متعلق بات کی تھی کہ ہفتھالی (hephthalite) حکمرانوں نے کبھی بدھ مت کو تسلیم نہیں کیا اور ان حکمرانوں نے ”جعلی دیوتاؤں کا پرچار کیا اور اپنی خوراک کے لیے حیوانوں کا قتل کیا“۔[5] چینی بھکشو بدھ مت کے ساتھی تھے۔ ممکن ہے کہ کسی اور مذہب کے موضوع پر لکھنا میں ان سیاحوں کو دلجسپی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ فوجی رہنماؤں اور لٹیروں کی وجہ سے افغانستان جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sikhs struggle for recognition in the Islamic republic, by Tony Cross. November 14, 2009.
  2. "Latest world news, breaking world news - MSN India"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2017۔
  3. Legal traditions of the world: sustainable diversity in law, H. Patrick Glenn Edition 3, Oxford University Press, 2007
  4. "Dark days continue for Sikhs and Hindus in Afghanistan"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئ 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  5. ^ ا ب پ "Chinese Travelers in Afghanistan"۔ Abdul Hai Habibi۔ alamahabibi.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 9, 2012۔

بیرونی روابط[ترمیم]