افغان منگولیا تعلقات
افغانستان اور منگولیا کے دو طرفہ تلعقات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تلعقات ہیں۔ بیجنگ میں افغانستان کا ایک غیر مستقل سفیر ہے۔
تاریخ
[ترمیم]منگول سلطنت نے موجودہ افغانستان پر 1219 سے 1332 تک حکومت کی۔ افغانستان کے مغربی اور جنوبی حصے ایل خانی سلطنت کے زیرِ اثر تھے، جبکہ مشرقی حصہ بشمول کابل خانیت چغتائی کے زیرِ نگیں تھا۔[1]
افغانستان اور منگولیا ان تین ممالک (تیسرا شمالی کوریا) میں شامل تھے جن کی سرحدیں بیک وقت سوویت اتحاد اور چین دونوں سے ملتی تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 1 فروری 1962 کو قائم ہوئے،[2] جب منگول رہنما یومژاگین سیدنبال نے کابل کا دورہ کیا۔[1]
چینی سوویت تقسیم کے دوران دونوں ممالک سوویت اثر و رسوخ کے دائرے میں شامل تھے۔ 1978 میں منگولیا نے کابل میں سفارتخانہ قائم کیا جبکہ 1980 میں افغانستان نے اولان باتور میں اپنا سفارتخانہ کھولا، جہاں اسداللہ سروری سفیر مقرر ہوئے۔ افغانستان کے صدر ببرک کارمل نے 1982 میں منگولیا کا دورہ کیا، تاہم 1988 تک اولان باتور میں افغان سفارتخانہ بند کر دیا گیا۔[1]
2001 میں بین الاقوامی سلامتی معاونت فورس (ISAF) کے مشن کے تحت منگول فوجی بطور امن دستے افغانستان آئے۔ 2009 سے 2014 کے درمیان تقریباً 4,500 منگول مسلح افواج کے اہلکار افغانستان میں تعینات رہے۔[1]
2015 اور 2018 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے، جن میں علمی اور فکری تعاون بھی شامل تھا۔[1]
دوطرفہ تعلقات
[ترمیم]منگولیا اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور سفارتی سطحوں پر کئی ادوار سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کا تعلق وسطی و جنوبی ایشیا کے قدیم تجارتی راستوں، خصوصاً ریشم کی شاہراہ سے رہا ہے، جس کے ذریعے منگولیائی تاجر اور علما کابل و بلخ تک آتے رہے۔ قرونِ وسطیٰ میں افغانستان کے علمی مراکز جیسے بلخ اور غزنی میں منگول حملوں کے بعد بھی علم و فن کا تبادلہ محدود پیمانے پر جاری رہا۔
سوویت دور کے دوران، منگولیا اور افغانستان نے اشتراکی نظریات کے تحت باہمی روابط استوار کیے۔ دونوں ممالک نے سوشلسٹ بلاک کے تحت سیاسی وفود کے تبادلے کیے اور زراعت، طب اور تعلیم کے میدان میں تکنیکی اشتراک پر معاہدے کیے۔
1980 کی دہائی کے اوائل میں، ببرک کارمل کی حکومت کے دوران منگول ماہرین تعلیم اور انجینئرز افغانستان میں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران منگول زبان میں کچھ افغان طلبہ کی تعلیم اولان باتور کی یونیورسٹیوں میں بھی ممکن ہوئی۔
عسکری و سلامتی تعاون
[ترمیم]2000 کی دہائی میں، منگولیا نے نیٹو کی قیادت میں افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا۔ منگول فوجیوں نے کابل میں افغان نیشنل آرمی کی تربیت، لاجسٹک سپورٹ اور حفاظت کے فرائض انجام دیے۔ ان کے زیادہ تر دستے ISAF مشن کے تحت بگرام ہوائی اڈہ اور کابل بین الاقوامی ہوائی اڈہ کے اردگرد تعینات رہے۔[3]
تعلیمی و ثقافتی تعلقات
[ترمیم]2010 کے بعد منگولیا نے افغان طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی وظائف (scholarships) کی پیشکش کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان انسانی وسائل اور ثقافتی تفاہم کو فروغ دیا جا سکے۔ کابل یونیورسٹی اور منگول نیشنل یونیورسٹی کے درمیان تحقیقی تعاون پر بھی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔
دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کے پروگراموں میں موسیقی، گھڑ سواری اور بدھ مت و اسلامی فنونِ لطیفہ پر مبنی نمائشیں بھی شامل رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد وسطی و جنوب ایشیائی اقوام کے مابین تاریخی روابط کو از سرِ نو اجاگر کرنا ہے۔[4]
موجودہ دور
[ترمیم]2020 کی دہائی میں افغانستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کے باوجود، منگولیا نے انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھا۔ منگولیائی وزارتِ خارجہ نے 2022 میں افغانستان کے لیے غذائی امداد اور طبی سامان روانہ کیا۔ دونوں ممالک علاقائی فورمز جیسے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے تعاون کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ Bolor Lkhaajav۔ "The Mongolian Armed Force's Contribution to Afghanistan"۔ دی ڈپلومیٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-10
- ↑ "LIST OF STATES WITH DIPLOMATIC RELATIONS"۔ Ministry of Foreign Affairs and Trade۔ 2011-07-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-26
- ↑ "Mongolia's contribution to NATO's mission in Afghanistan"۔ نیٹو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-05
- ↑ "Mongolia and Afghanistan Discuss Cultural Cooperation"۔ Montsame News Agency۔ 15 ستمبر 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-05