اقبال احمد فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیرزادہ اقبال احمد فاروقی ناشر ِ رضویات، مدیر ماہنامہ جہان رضا اور روح رواں مجلس رضا، لاہور اہلسنت کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

پیرزادہ اقبال احمد فاروقی 4جنوری 1928ء کو ضلع گجرات (پاکستان) سے چودہ میل دور ایک چھوٹے سے گاوں ”شہاب دیوال“ میں مولانا انور پیر فاروقی کے گھر پیدا ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

اقبال فاروقی کے جد اعلیٰ پیر شاہ عبد الرحیم فاروقی اپنے وقت کے اہل کمال میں تھے انکا خاندان ایک روحانی خاندان تھا۔ ان کے والد پیر انور پیر فاروقی‘ دادا پیر عبد اﷲ شاہ فاروقی‘ پر دادا پیر عبد الرحیم شاہ فاروقی‘ تایا نور پیر فاروقی علمی و روحانی اعتبار سے بلند مقام کے حامل تھے۔ ان کا گھرانہ دینی روحانی تعلیمات کا فیضان تھا۔ ان کے آباؤ اجداد ان کی پیدائش سے ایک سو سال قبل سری نگر کے مضافات سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

قرآن پاک ،تجوید و قرأت کے اسباق اپنے والد اور تایا مولانا نور پیر فاروقی سے حاصل کی، پرائمری تعلیم قریبی گاؤں گھوڑی (ونا سنگھ) سے حاصل کی اورمڈل قریبی قصبے دولت نگر سے پاس کیا۔ فارسی کی ابتدائی کتابوں کے تراجم اپنے دادا کے ایک شاگرد عزیز سید محمد شاہ بخاری سے پنجابی زبان میں پڑھے اور کریما‘ نام حق‘ پندنامہ‘ گلستان سعدی کے معانی پنجابی زبان میں حفظ کرلئے۔ (1937ء) میں شہر علم لاہور کا رُخ کیا جہاں مولانا محمد نبی بخش حلوائی (مصنف، تفسیر نبوی )کے درس میں شریک ہوئے۔ دار العلوم حزب الاحناف میں درس نظامی کے اساتذہ سے استفادے کا بھی موقع ملا۔ ،1939ءضلع بہاولنگر میں واقع مدرسہ تعلیم الاسلام ( جس کے بانی حافظ غلام حسین تھے) کی شہرت انہیں وہاں لے گئی،یہاں حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں میں بھی آپ متعارف ہوئے۔ فارسی ادب کاکورس بہاو لنگر سے 1944ء میں اور منشی فا ضل، 1946ءمیں مولوی فا ضل کا کورس پنجاب یونیوڑسٹی لاہور سے کیا، آپ نے 1948ءمیں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا،آپ نے 1950ءمیں انٹر کیا اور 1952ءمیں گریجویشن بھی مکمل کر لیا۔ اِس دوران میں کچھ عرصہ کے لیے آپ نے مایہ ناز خطاط مولانا عبد الرشید عادل گڑھی سے فن کتابت بھی سیکھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا پھر لا کا لج لاہور سے قانون کا امتحان پاس کرکے سر کاری ملازمت اختیار کرلی

سلسلہ نقشبندیہ[ترمیم]

محمد نبی بخش حلوائی سے سلسلہ نقشبند یہ مجددیہ میں ارادت کا شرف حاصل کیا،

القابات[ترمیم]

سفیر رضا،ادیب ِاہل سنت،ناشر رضویات، وہ افکا رِا مام احمد رضا کی تر و یج و اشاعت کرنے والوں میں نمایا ں ہیں۔ ماہنامہ ’’جہانِ رضا ‘‘ لاہور کے مد یر اور مرکزی مجلس رضا، لاہور کے طویل عرصہ سے نگراں رہے۔

مکتبہ نبویہ کا قیام[ترمیم]

1962ء میں اشاعت کتب اور ابلاغ دین کے جذ بہ سے سرشار ہوکرمولانا باغ علی نسیم کے ساتھ مل کر ’’مکتبۂ نبویہ لاہور‘‘قا ئم کیا اور بے شمار کتب شائع کرنے کا شرف حا صل کیا ذاتی لگن سے کتب کی تصنیف و تالیف کا شر ف بھی حاصل کرتے رہے، کئی نادر کتب کے ترا جم کر کے دنیا ئے علم و ادب میں نام پیدا کیا جن میں ’’معارج النبوت ‘‘اور ’’الد را لثمن ‘‘جیسی کتب شامل ہیں …… خواجہ محمد احسان مجدد ی سر ہند ی کی تالیف ’’روضۃ القیومیہ‘‘ کی تر تیب نو اور تعلیقات کے ساتھ اشاعت کا اعزاز بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔ کتب کے علاوہ آپ کے مضا مین و مقا لات پاک وہند کے جرائد میں بر ابر شائع ہوتے رہے۔ تحریر کے ساتھ ساتھ آپ کو فن خطابت میں بھی شیریں کلامی کا ملکہ حاصل تھا۔ اس انداز سے دلائل دیتے کہ سامع کو قائل ہوئے بغیر چارہ نہ ہوتا۔

جہان رضا[ترمیم]

پیر زادہ اقبال احمد فاروقی گذشتہ 30سالوں سے ماہنامہ ”جہاں رضا“ کی اشاعت میں سرگرم رہے، آج اِس رسالے کے قارئین کا حلقہ پاکستان سے نکل کر ہندوستان، امریکا، جنوبی افریقہ، کینیڈا، عرب امارات اور یورپ کے بسنے والوں تک پہنچ چکا ہے، یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ماہنامہ ”جہاں رضا“ وہ رسالہ ہے جو اپنے آغاز سے ہی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے افکار و نظریات کا ترجمان رہا، اِس رسالے میں فاضل بریلوی کی علمی بصیرت اور سیرت وکردارپر چالیس ہزار سے زیادہ مقالات شائع ہوچکے ہیں،جو ایک ریکارڈ ہے۔

علم و دانش کا مرکز[ترمیم]

اقبال احمد فاروقی ہی تھے جنھوں نے محمد شریف نوری ،مولانا انوار الاسلام ،اور پیر کرم شاہ صاحب الازہری کوگنج بخش روڈ پر مکتبہ اسلامیہ،مکتبہ حامدیہ اور ماہنامہ” ضیائے حرم“ کا دفتر قائم کرنے پر آمادہ کیا۔ اِس طرح گنج بخش روڈ بازار علم ودانش بن گیا جہاں ہروقت علماءوطلباءکتابوں کی تلاش میں رکتے اور اپنی علمی تشنگی مٹاتے۔

مرکزی مجلس رضا[ترمیم]

1967ء میں اقبال احمد فاروقی صاحب نے حکیم محمد موسیٰ امرتسری، مولانا محمد شفیع رضوی،محمد عارف ضیائی اور مولانا باغ علی نسیم کے ہمراہ ”مرکزی مجلس رضا“ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، اِس مجلس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی شخصیت کے علمی گوشوں کو مقبول و متعارف کرانے کے لیے جلسے جلوس اور سیمینار ترتیب دیے، اہل ِعلم سے مقالات و مضامین لکھوائے اور بے شمارکتابیں و پمفلٹ ہزاروں کی تعداد میں شائع کرکے مفت تقسیم کرائیں،اِس میں کچھ شک نہیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی افکار و نظریات کو عوام الناس میں متعارف کرنے میں ”مرکزی مجلس رضا “نے جو کردار ادا کیا اُس کی مثال نہیں ملتی،یہ ”مرکزی مجلس رضا“ ہی تھی جس کی بدولت آج پاکستان ہی میں کیا پورے عالم اسلام میں ” نغمات رضا “کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

اہل علم سے ربط[ترمیم]

پاک و ہند اور دنیا بھر کے اہل سے آپ کے روبط تھے دیگر اہل علم کے علاوہ رضویات پر کام کرنے والوں سے خاص تعلق رکھتے،خاص کرحکیم محمد موسیٰ امرتسری،مولانا سید ریاست علی قادری ،سیدی اُستاذی ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد سے ان کے خاص علمی مراسم تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور کی علمی وادبی دنیا میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی ،ہندوستان کے مختلف شہروں سے علماءکرام،شعراءاور ادیبوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا،جس کی وجہ سے اقبال احمد فاروقی صاحب کے حلقہ احباب میں نئے نئے اہل ِعلم افراد شامل ہوئے اورآپ نے اِن اہل علم کی رفاقت میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا،درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ آپ نے فاضل عربی، ایم اے فارسی اور ایل ایل بی کی اسناد بھی حاصل کیں،آپ نے کچھ عرصے تدریسی خدمات بھی انجام دیں مگر فکر معاش اقبال احمد فاروقی کومدارس دینیہ کی نورانی فضاوں سے نکال کر سرکاری ملازمت کی طرف لے گئی اور آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہو گئے،آپ کا یہ سرکاری سفر پنجاب کے محکمہ صنعت لیبر ویلفیئر کے 19گریڈ آفیسر کی حیثیت سے 1988ءمیں اختتام پزیر ہوا،لیکن اپنی سرکاری زندگی کے دوران میں بھی فاروقی صاحب کا علمائے کرام، مشائخ ِعظام اور اہل ِعلم سے قریبی تعلق برقرار رہا اور انہیں علماءومشائخ کے قریب بیٹھنے اور اُن کی نگاہ ِ التفات سے فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع ملا۔

وفات[ترمیم]

پیرزادہ اقبال احمد فاروقی 16 ؍صفرالمظفر1435ھ 20دسمبر 2013 کو لاہور میں وصال کے بعد اگلے دن بروزجمعۃ المبارک 21دسمبر کولاہور کی مشہور میانی صاحب جنازہ گاہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر خواجہ محمد طاہر بندگی نقشبندی مجددی کے مزار اقدس سے متصل آغوش لحد میں چلے گئے[1]

تصنیفات[ترمیم]

اقبال احمد فاروقی صاحب کو اپنی زندگی میں کتابیں لکھنے اور تراجم کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی، اُن کی 60 ساٹھ سے زائد تالیفات و تصنیفات اہل علم کے مطالعہ میں آئیں، جنہیں نے حد پسند کیا گیا، انہوں نے مکتبہ نبویہ کے زیر انتظام

  • تفسیر نبوی ( پنجابی) کا اردو ترجمہ
  • تذکرہ علمائے اہلسنت لاہور
  • الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین
  • نزھۃ الخواتر، ترجمہ
  • تکمیل الایمان، ترجمہ
  • مرج البحرین، ترجمہ
  • زبدة الآثار، ترجمہ
  • مقامات صوفیا
  • قصر عرفان
  • خزینة الاصفیاء،
  • الدولة المکیة
  • کشف المحجوب، ترجمہ
  • مجالس علما
  • فکر فاروقی
  • نسیمِ بطحا
  • باتوں سے خوش بو آ ئے۔
  • رجال الغیب[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]