اقبال حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اقبال حسن
معلومات شخصیت
وفات 14 نومبر 1984[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات ٹریفک حادثہ[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں چن وریام،  وشیر خان،  ودارا بلوچ،  ودادا استاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

اقبال حسن پنجاب کے ایک روایتی گھبرو اور دیہاتی جوان کی طرح ہمیشہ یاد رکھے جائینگے جو ایک بڑے کارآمد اور مفید اداکار تھے۔ سب سے پہلے 1965ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’پنجاب دا شیر‘‘ میں فلم کے ولن مظہر شاہ کے چمچوں میں ایک ایکسٹرا اداکار کے طور پر نظر آئے تھے۔ یہی صورت حال دوسال بعد ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ نغماتی فلم ’’دل دا جانی‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملی لیکن اس فلم کے عین وسط میں مرکزی ولن کے مرکزی چمچے کے غائب ہونے کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ اسی فلم کا ہدایتکار ریاض احمد راجو اقبال حسن کو اپنی اگلی فلم سسی پنوں میں نغمہ اور عالیہ کے ساتھ ہیرو کاسٹ کر چکا تھا اور ظاہر ہے کہ جب ایک اداکار ہیرو بن جائے تو پھر وہ ایکسٹرا کردار تو نہیں کرسکتا تھا۔

اقبال حسن نے تقریبًا بیس سالہ فلمی کیرئیر میں تین سو کے قریب فلموں میں اداکاری کی تھی جن میں پچاس کے قریب فلموں میں سولو ہیرو کے طور پر نظر آئے تھے، وہ علاؤالدین کے بعد دوسرے فنکار تھے جنھیں صحیح معنوں میں آل راؤنڈر کہا جاسکتا ہے۔ 14 نومبر 1984ء کے دن فلم ’’جورا‘‘ کی شوٹنگ سے واپسی پر ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اقبال حسن کے انتقال کے بعد ان کے بھائی تنظیم حسن کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]