اقبال کی شاعری کا ہندی ادب پر اثر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اقبال کی شاعری کا ہندی ادب پر اثر ان کی زندگی کے دور ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ حالانکہ دو باتیں ان کے معاصر ہندی شعرا کو اکھرتی تھی۔ ایک ان کے سیاسی نظریات اور دوسرے خود اردو زبان سے سیاسی صفبندیوں کی وجہ سے نفرت۔ اس کے باوجود بھی بہت سے ہندی زبان کے ادیب اور شعرا اپنے زمانے اردو اور بعض تو فارسی زبان کی بھی تعلیم پا چکے تھے۔ اس وجہ سے شعوری یا لاشعوری سے وہ اقبال کی شاعری سے متاثر تھے اور اس کی جھلک ان کے کلام صاف دیکھی گئی ہے۔

کچھ مشہور معاصرشعرا اور نظمیں[ترمیم]

  • پربھاکر ماچوے کے مطابق اقبال کی نظم ہمالہ سے متاثر ہو کر ہندی کے مشہور شاعر دنکر نے بھی ایک ہندی نظم لکھی تھی۔
  • ان ہی پربھاکر ماچوے کے مطابق سوریاکانت ترپاٹھی نرالا نے اقبال کے مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا سے متاثر ہو کر بھِن جاتی بھِن روپ لکھی جو اسی کا شعری ترجمہ ہے۔

اقبال کی شاعری سے متاثرہ ہندی کلام کی واضح مثالیں[ترمیم]

کلام اقبال ہندی شاعری
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
شوشن کے شاسن کی اِتی ہو تم ایسا پرن ٹھان اٹھو
اٹھو اٹھو او بھوکے ننگو اور مزدور کسان اٹھو (بال کرشن شرما نوین)
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
شت سہسر رَوی ششی اسنکھیہ گرہ اُپ گرہ اُڈگن
جلتے بجھتے سپھلنگ سے تم میں تتکشن
اچِروِشو میں اکھِل وِشاوِدھ کرم وچن من تمہیں چرنتن
اے وِورتن ہیں وِورتن (سُمِترا نندن پنت)
وائے نادانی کہ تو محتاج ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تو
ناش بھی ہوں میں، اننت وکاس کا کرم بھی
تیاگ کا دن بھی، چرم شکتی کا تم بھی
تار بھی، آگھات بھی، جھنکار کی گیتی بھی
پاتر بھی مدھو بھی مدھپ بھی، وسمرتی بھی (مہادیوی ورما)

حوالہ جات[ترمیم]

  • جدید ہندی شاعری اور اقبال، ڈاکٹر نریش، ہماری زبان، تاریخ اشاعت: 17-07-17، 8-14 جولائی، 2017، شمارہ 26، جلد 76، مدیر: اطہر فاروقی، عبد الباری کی جانب سے انجمن ترقی اردو (ہند) کی اشاعت، صفحہ 1 اور 6۔