اقوام متحدہ سلامتی کونسل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اقوام متحدہ سلامتی کونسل

مخفف (انگریزی میں: UNSC)،  (جاپانی میں: 国連安保理)،  (کوریائی میں: 안보리)،  (فرانسیسی میں: CSNU)،  (جرمنی میں: Weltsicherheitsrat)،  (ہسپانوی میں: CSNU)،  (روسی میں: СБ ООН)،  (آسان چینی میں: 安理会)،  (روایتی چینی میں: 安理會)،  (یوکرینی میں: РБ ООН)،  (بلغاری میں: СС на ООН)،  (بیلا روسی میں: СБ ААН)،  (ترکی میں: BMGK)،  (پولش میں: RB ONZ)،  (ڈچ میں: V-Raad)،  (آذربائیجانی میں: BMT TŞ)،  (سلوواک میں: BR OSN)،  (رومانیائی میں: CSNU)،  (چیک میں: RB OSN)،  (افریکانز میں: VNVR ویکی ڈیٹا پر (P1813) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ تاسیس 1946
قسم صدر دفتر
سربراہ ارکان سے چنا جاتا ہے
جدی تنظیم اقوام متحدہ  ویکی ڈیٹا پر (P749) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ http://un.org/sc/

اقوام متحدہ سلامتی کونسل یا مختصر طور پر سلامتی کونسل (انگریزی: United Nations Security Council مختصراً (UNSC)) اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے جو دنیا میں امن سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہوتی ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین ہیں۔ ان مستقل اراکین کو حق تنسیخ حاصل ہے جس کی رو سے سلامتی کونسل میں زیر غور کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے سادہ اکثریت ہونے کے علاوہ ضروری ہے کہ پانچوں مستقل اراکین اس پر متفق ہوں ورنہ اس پر را‎ئے شماری نہیں ہو سکتی۔ اس کے اختیارات، اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ ہیں اور انھیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ اختیارات کا استعمال قیام امن کی کارروائیوں کے لیے، بین الاقوامی پابندیوں کے قیام اور فوجی کارروائی کی اجازت لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔

مستقل اراکین[ترمیم]

ملک موجودہ مندوب موجودہ نمائندہ ملک سابقہ نمائندہ ملک
 چین لی باؤڈونگ[1]  چین (1971–تاحال)  تائیوان (1946–1971)
 فرانس گرارڈ اراؤڈ[1]  فرانس (1946–تاحال)
 روس وٹالی چرکن[1]  سوویت یونین (1992–تاحال)  سوویت یونین (1946–1991)
 مملکت متحدہ سر مارک لیال گرانٹ[1]  مملکت متحدہ (1946–تاحال)
 ریاستہائے متحدہ سوسان رائس[1]  ریاستہائے متحدہ (1946–تاحال)

غیر مستقل اراکین[ترمیم]

دیگر غیر مستقل ارکان میں براعظم افریقہ سے 3 ممبر، براعظم لاطینی امریکا سے 2 ممبر، مغربی یورپ سے 2 ممبر، مشرقی یورپ سے 1 ممبر، ایشیا سے 2 ممبر لیے جاتے ہیں۔ آج کل برکینا فاسو، کوسٹاریکا، کروشیا، لیبیا، ویتنام، آسٹریا، جاپان، میکسیکو، ترکی اور یوگینڈا اس کے غیر مستقل اراکین ہیں۔

1 جنوری 2011–31 دسمبر 2012
ملک علاقائی اتحاد مستقل مندوب
 کولمبیا لاطینی امریکا اور کیریبین نیسٹر اوسوریو لنڈونو
 جرمنی مغربی یورپ و دیگر پیٹر وٹگ
 بھارت ایشیا ہردیپ سنگھ پوری
 پرتگال مغربی یورپ و دیگر جوز فلپ مورائس کابرال
 جنوبی افریقا افریقہ باسو سنکو
1 جنوری 2012–31 دسمبر 2013
ملک علاقائی اتحاد مستقل مندوب
 آذربائیجان مشرقی یورپ اگشین مہدی ایو
 گواتیمالا لاطینی امریکا و کیریبین گرٹ روزنتھال
 مراکش افریقہ و عرب گروہ محمد لاوؑلچکی
 پاکستان ایشیا عبد اللہ حسین ہارون
 ٹوگو افریقہ کوجو مینن

مستقل رکنیت کے امیدوار ممالک[ترمیم]

جاپان، جرمنی اور برازیل اس ادارے کی مستقل رکنیت کے امیدوار ہیں۔

تنقید[ترمیم]

حق تنسیخ نے اس ادارے کے وقار کو بری طرح مجروح کر دیا ہے اور یہ بڑی طاقتوں کا آلہ کار بن گیا ہے، روس نے 123 مرتبہ امریکا نے 82 مرتبہ، برطانیہ نے 32 مرتبہ، فرانس نے 18 مرتبہ اور چین نے قدرے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہو‎ئے صرف 6 مرتبہ اس حق کو استعمال کیا ہے۔ روس اور امریکا نے اس حق کو نہایت ہی غیر ذمہ داری سے بار بار استعمال کیا ہے۔ ان کی اسی غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین آج تک حل طلب ہیں۔ تیسری دنیا خاص کر عالم اسلام کی اس میں کو‎ئی مستقل نمائندگی نہیں۔

مزید دیکھے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]