الابناء
الابناء (لفظی معنی: "بیٹے") ما قبل اسلام دور میں یمن کے علاقے میں آباد ایک مخلوط النسل برادری تھی جو فارسی فوجیوں اور منتظمین اور مقامی عرب خواتین کے ملاپ سے وجود میں آئی۔[1] یہ برادری چھٹی صدی عیسوی میں یمن پر ساسانی قبضہ کے بعد منظم شکل میں سامنے آئی اور خطے کی سیاسی و عسکری تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
تاریخی خلفیہ اور ابتدا
[ترمیم]ساسانی سلطنت کے دور میں یمن میں فارسی فوجیوں اور انتظامی اہلکاروں کی آمد کے نتیجے میں الابناء کی بنیاد پڑی۔[2] یہ عمل 570 عیسوی کے لگ بھگ اس وقت تیز ہوا جب ساسانی فوجوں نے یمن پر قبضہ کیا اور وہاں ایک گورنر مقرر کیا۔ فارسی فوجیوں نے مقامی عرب خواتین سے شادیاں کیں اور ان کے بچوں نے "الابناء" کے نام سے ایک نئی برادری تشکیل دی۔[3] یہ برادری اپنے فارسی النسل ہونے پر فخر محسوس کرتی تھی اور ساسانی سلطنت کے نمائندے کے طور پر کام کرتی تھی۔ ان کا مرکزی کام یمن میں ساسانی مفادات کا تحفظ اور علاقے میں استحکام قائم رکھنا تھا۔
سیاسی و عسکری کردار
[ترمیم]الابناء نے یمن میں ساسانی سلطنت کے گماشتے کے طور پر اہم سیاسی کردار ادا کیا۔[4] وہ نہ صرف فوجی خدمات انجام دیتے تھے بلکہ انتظامی امور میں بھی شامل تھے۔ حمیری سلطنت کے زوال کے بعد انھوں نے خطے میں سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ الابناء کی فوجی طاقت اور تنظیم نے انھیں یمنی معاشرے میں ایک ممتاز مقام عطا کیا۔[5] وہ ساسانی حکومت کے وفادار رہے اور خطے میں ان کے مفادات کے محافظ کے طور پر کام کرتے رہے۔
مذہبی ارتقا
[ترمیم]ابتدا میں الابناء اپنے فارسی ماخذ کے مطابق زرتشتیت کے پیروکار تھے۔[6] یمن میں رہائش کے دوران ان کے مذہبی عقائد میں تبدیلی آئی۔ بعض تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض مسیحیت اور یہودیت قبول کرنے لگے، جو خطے میں ان مذاہب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔[7] اسلام کے ظہور کے بعد، الابناء نے ابتدائی طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے اور بعد ازاں خلافت راشدہ کے دور میں یمن کی فتح کے وقت انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔[8]
ثقافتی و لسانی خصوصیات
[ترمیم]الابناء کی ثقافت فارسی اور عرب ثقافتوں کا امتزاج تھی۔[9] وہ فارسی اپنی آبائی زبان کے طور پر بولتے تھے، جبکہ مقامی زبان یمنی عربی سے بھی واقف تھے۔ ان کی دو لسانی صلاحیت نے انھیں فارسی حکومت اور مقامی آبادی کے درمیان موثر رابطے کا ذریعہ بنا دیا۔[10] معاشرتی طور پر الابناء کو یمنی معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ وہ فوجی اور انتظامی عہدوں پر فائز تھے اور معاشرے میں ان کا اثر و رسوخ قابل ذکر تھا۔
تاریخی اہمیت و ورثہ
[ترمیم]الابناء کی تاریخی اہمیت متعدد پہلوؤں سے ہے۔ فوجی طور پر وہ یمن میں ساسانی فوجی دستوں کا مرکزی حصہ تھے اور خطے کی حفاظت کی ذمہ دار تھے۔[11] انتظامی طور پر انھوں نے یمن میں ساسانی انتظامیہ کے اہم عہدوں پر کام کیا۔[12] ثقافتی طور پر الابناء نے فارسی اور عرب ثقافتوں کے درمیان ثقافتی پل کا کردار ادا کیا، جس نے دونوں تہذیبوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دیا۔[13] اسلام قبول کرنے کے بعد الابناء نے اسلامی تہذیب اور ثقافت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔[14]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Robert G. Hoyland (2001)۔ Arabia and the Arabs: From the Bronze Age to the Coming of Islam۔ Routledge۔ ص 51۔ ISBN:978-0-415-19535-5
- ↑ C. E. Bosworth (1999)۔ The History of al-Tabari, Volume V: The Sasanids, the Byzantines, the Lakhmids, and Yemen۔ State University of New York Press۔ ص 245۔ ISBN:978-0-7914-4355-2
- ↑ Abu Ja'far Muhammad ibn Jarir al-Tabari (915)۔ تاريخ الرسل والملوك (بزبان عربی)۔ ج 2۔ ص 156
- ↑ Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri (892)۔ فتوح البلدان (بزبان عربی)۔ ص 89
- ↑ Robert G. Hoyland (2001)۔ Arabia and the Arabs: From the Bronze Age to the Coming of Islam۔ Routledge۔ ص 52۔ ISBN:978-0-415-19535-5
- ↑ Christian Julien Robin (2012)۔ Scott Fitzgerald Johnson (مدیر)۔ Arabia and Ethiopia۔ The Oxford Handbook of Late Antiquity۔ OUP USA۔ ص 290۔ ISBN:978-0-19-533693-1
- ↑ Christian Julien Robin (2012)۔ Scott Fitzgerald Johnson (مدیر)۔ Arabia and Ethiopia۔ The Oxford Handbook of Late Antiquity۔ OUP USA۔ ص 291۔ ISBN:978-0-19-533693-1
- ↑ Abd al-Malik Ibn Hisham (833)۔ السيرة النبوية (بزبان عربی)۔ ج 1۔ ص 203
- ↑ Robert G. Hoyland (2001)۔ Arabia and the Arabs: From the Bronze Age to the Coming of Islam۔ Routledge۔ ص 53۔ ISBN:978-0-415-19535-5
- ↑ C. E. Bosworth (1999)۔ The History of al-Tabari, Volume V: The Sasanids, the Byzantines, the Lakhmids, and Yemen۔ State University of New York Press۔ ص 247۔ ISBN:978-0-7914-4355-2
- ↑ Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri (892)۔ فتوح البلدان (بزبان عربی)۔ ص 90
- ↑ Abu Ja'far Muhammad ibn Jarir al-Tabari (915)۔ تاريخ الرسل والملوك (بزبان عربی)۔ ج 2۔ ص 158
- ↑ Robert G. Hoyland (2001)۔ Arabia and the Arabs: From the Bronze Age to the Coming of Islam۔ Routledge۔ ص 54۔ ISBN:978-0-415-19535-5
- ↑ Abd al-Malik Ibn Hisham (833)۔ السيرة النبوية (بزبان عربی)۔ ج 1۔ ص 205
مصادر
[ترمیم]- Abu Ja'far Muhammad ibn Jarir al-Tabari (915)۔ تاريخ الرسل والملوك [History of the Prophets and Kings] (بزبان عربی)
- Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri (892)۔ فتوح البلدان [The Origins of the Islamic State] (بزبان عربی)
- Abd al-Malik Ibn Hisham (833)۔ السيرة النبوية [The Prophetic Biography] (بزبان عربی)
- C. E. Bosworth (1999)۔ The History of al-Tabari, Volume V: The Sasanids, the Byzantines, the Lakhmids, and Yemen۔ State University of New York Press۔ ISBN:978-0-7914-4355-2
- Robert G. Hoyland (2001)۔ Arabia and the Arabs: From the Bronze Age to the Coming of Islam۔ Routledge۔ ISBN:978-0-415-19535-5