الاتقان فی علوم القرآن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الاتقان فی علوم القرآن علامہ جلال الدین سیوطی ؒ (متوفی: 1505ء) کی علوم قرآن پر مشہور تصنیف ہے۔

تاریخ[ترمیم]

872ھ میں علامہ جلال الدین سیوطی نے تفسیر مجمع البحرین و مطلع البدرین کا مقدمہ لکھا جس میں علوم قرآن پر نہایت تفصیل کے ساتھ لکھا۔ اس کا نام التحبیر فی علوم التفسیر رکھا۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے قرآن مجید سے متعلق ایک سودو علوم پر تبصرہ کیا۔ اس کتاب کی بنیاد علامہ بلقینی (متوفی 868ھ) کی کتاب مواقع العلوم تھی جس کے دو مخطوطات جامعۃ الازھر (قاہرہ) کے کتب خانے میں موجود ہیں۔[1] اِس کتاب کی تالیف کے بعد علامہ جلال الدین سیوطی کو علامہ بدر الدین الزرکشی (متوفی 794ھ) کی کتاب البرہان فی علوم القرآن کا علم ہوا تو وہ کتاب اُنہیں میسر آگئی تو اُسے سامنے رکھ کر اَزسر نو مجمع البحرین کا مقدمہ لکھنا شروع کیا جو 878ھ میں مکمل ہوا۔ یہ مقدمہ الاتقان فی علوم القرآن کے نام سے مشہور ہوا۔

حاجی خلیفہ (متوفی 1657ء) نے کشف الظنون میں لکھا ہے کہ: ’’اِس کتاب کی ابتدا الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب سے ہوتی ہے اور یہ شیخ امام جلال الدین عبدالرحمٰن ابن ابی بکر سیوطی ؒ کی تحریر فرمودہ ہے جن کا 911ھ میں انتقال ہوا۔ یہ کتاب اُن کے علمی آثار میں عمدہ ترین اور مفید تر ہے۔ اِس کتاب میں علامہ سیوطی نے اپنے شیخ کافیجی کی تصنیف اور علامہ بلقینی کی مواقع العلوم اور علامہ الزرکشی کی البرہان فی علوم القرآن کو خاص طور پر جمع کیا ہے۔ علامہ سیوطی نے اپنی تصنیف ’’التحبیر‘‘ پر اِضافہ کرنے کے بعد 80 انواع پر مشتمل الاتقان کی تحریر فرمائی جو درحقیقت اُن کی بڑی تفسیر ’’مجمع البحرین‘‘ کا مقدمہ ہے۔[2]

طباعت و اشاعت[ترمیم]

  • پہلی بار یہ کتاب کلکتہ سے 1271ھ مطابق 1852ء میں بشیرالدین اور نورالحق کی تصحیح سے دو جلدوں میں متوسط کے 959 صفحات پر شائع ہوئی تھی۔
  • مطبع بولاق، مصر سے بھی شائع ہوئی۔
  • 1278ھ میں مطبع الموسویہ ، قاہرہ سے شائع ہوئی۔
  • 1279ھ میں مطبع عثمان عبدالرزاق، قاہرہ سے شائع کی گئی۔
  • 1317ھ میں مطبع الیمینیہ، قاہرہ سے شائع کی گئی۔ 1317ھ میں مطبع الازھریہ، قاہرہ سے شائع ہوئی۔
  • 1360ھ میں مکتبہ محمود توفیق، قاہرہ سے شائع ہوئی۔
  • 1368ھ میں مکتبہ التجاریہ الکبریٰ، قاہرہ سے شائع ہوئی۔
  • 1370ھ میں مطبع مصطفیٰ البابی الحلبی سے شائع ہوئی۔
  • 1387ھ میں مکتبہ المشہد الحسینی، قاہرہ سے شائع ہوئی۔
  • 1407ھ میں مطبع داراحیاء العلوم، بیروت اور مکتبہ معارف، ریاض اور مطبع دار اِبن کثیر، دمشق سے شائع ہوئی۔
  • 1419ھ میں مطبع دارالکتاب العربی سے شائع ہوئی۔

کولکتہ سے پہلی اشاعت کے نسخہ میں اغلاط بہت زیادہ تھیں اور یہ نسخہ متوسط تقطیع کے ساتھ 580 صفحات پر مشتمل تھا۔ محمد حسین خان مہتمم مطبع مصطفائی، دہلی نے ماہِ شوال 1280ھ میں مولوی اسد علی اسلام آبادی کی تصحیح سے مطبع احمد خاں اموجان نے دہلی سے شائع کیا اور اِس کے خاتمۃ الطبع میں تصریح کردی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فھرس المکتبۃ الازھریۃ، جلد 1، صفحہ 168۔ مطبوعہ 1371ھ، قاہرہ، مصر۔
  2. جلال الدین سیوطی: الاتقان، جلد اول، صفحہ 30۔