مندرجات کا رخ کریں

الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
(عربی میں: الاستيعاب في معرفة الأصحاب ویکی ڈیٹا پر (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصنف ابن عبد البر   ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع علم سوانح رجال ،  تاریخ نگاری   ویکی ڈیٹا پر (P921) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عربی الاستيعاب في معرفة الأصحاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال پر ابن عبد البر (368ھ -463ھ) کی مشہور کتاب ہے۔ یہ صحابہ کے حالات، روایات اور سیرت پر لکھی گئی ابتدائی اور مستند ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔ مصنف نے ہر صحابی کا نام، نسب، روایت، وفات اور دیگر ضروری معلومات نہایت محققانہ انداز میں جمع کیں۔

مؤلف کا نقطہ نظر

[ترمیم]

اسے حافظ ابو عمر یوسف بن عبد اللہ النمری نے لکھا تھا، جسے ابن عبد البر (368-463) کہا جاتا ہے، اس کتاب کو صحابہ کے بارے میں لکھی گئی پہلی کتابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کی کتاب میں مصنف کا نقطہ نظر تھا۔ صحابہ کے بارے میں لکھی جانے والی پہلی کتابیں اور مصنف کا اپنی کتاب میں طریقہ یہ تھا کہ وہ صحابہ اور ان سے روایت کرنے والوں کا ذکر کرے اور ان لوگوں میں سے کچھ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور اس سے متعلق کچھ معاملات، ان کی موت اور ان کی عمر تک کا تذکرہ کیا گیا ہے۔[1][2]

کتاب کی اہمیت

[ترمیم]
  • اسلامی تاریخ اور علمِ رجال کی بنیادی مراجع میں سے ایک۔
  • ابن اثير اور ابن حجر جیسے ائمہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا۔
  • کتاب میں ہر اس مسلمان کا تذکرہ ہے جو رسول اللہ کے عہد میں موجود تھا، خواہ ملاقات مختصر ہی کیوں نہ ہو۔
  • مجموعی تراجم کی تعداد طباعتِ حاضرہ میں 4225 تک پہنچتی ہے۔

مصنف کا مقدماتی بیان

[ترمیم]

ابن عبد البر نے مقدمے میں سنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ قرآن کا عملی مفہوم سنت ہی سے سمجھا جا سکتا ہے اور سنت کے راوی صحابہ کی معرفت دین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا مقصد صحابہ کی ایسی جامع فہرست مرتب کرنا ہے جس سے روایات اور تاریخ کا فہم آسان ہو جائے۔[3]

کتاب کا منہج

[ترمیم]

ابتدا رسول اللہ کے حالات و فضائل سے۔

پھر مرد صحابہ کے نام، پھر ان کی کُنى۔

پھر صحابیات کے نام اور آخر میں ان کی کُنى۔

ترتیب بنیادی طور پر حروفِ تہجی (اندلسی/مغربی ترتیب) پر ہے۔[4]

مصنف نے ہر موضوع کی متعدد روایات کا تقابل کر کے زیادہ مستند روایت اختیار کی۔

بعض روایات پر نقد بھی کیا اور بعض کو بغیر ترجیح کے محض نقل کیا۔[5]

شرطِ صحابیت

[ترمیم]

ابن عبد البر نے وضاحت کی کہ انھوں نے صرف وہی افراد درج کیے:

جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا یا ان سے کوئی روایت سنی یا وہ بچے جو اس دور میں پیدا ہوئے اور جن کے لیے دعا کی گئی یا جن کا ایمان، ملاقات یا معاملہ ثابت ہے۔[6]

تنقیدات

[ترمیم]

چونکہ کتاب 3500 تراجم پر مشتمل ابتدائی کوشش تھی، اس لیے بعض صحابہ کے نام رہ گئے۔ ابن فتحون نے بعض اوہام کی نشان دہی کی اور انہی ذيول و استدراکات نے بعد میں مجموعی تراجم کو 4225 تک پہنچا دیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مشكاة الإسلامية:الاستيعاب في معرفة الأصحاب - ابن عبد البر آرکائیو شدہ 2016-03-04 بذریعہ وے بیک مشین
  2. "قصة الإسلام:الاستيعاب في معرفة الأصحاب"۔ 14 أبريل 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 سبتمبر 2010 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= و|آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  3. الموسوعة الشاملة:الاستيعاب في معرفة الأصحاب آرکائیو شدہ 2017-10-07 بذریعہ وے بیک مشین
  4. الأسلوب النقدي ف عرض الرواية التاريخية عند ابن عبد البر، أحمد عليوي صاحب، ص. 7 وما بعدها.
  5. الأسلوب النقدي ف عرض الرواية التاريخية عند ابن عبد البر، أحمد عليوي صاحب، ص. 8 وما بعدها.
  6. الإصابة في تمييز الصحابة، ص. 9/214و 9/238.