الاشباہ والنظائر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الاشباہ والنظائر زین العابدین ابن نجیم فقہ حنفی کے قواعد و ضوابط میں معروف ومشہور اور بلند پایہ تصنیف ہے ۔

الاشباہ والنظائر کے معنی[ترمیم]

اہل لغت کے نزدیک ”الاشباہ“ جمع ہے شبہ کی۔ اس کا معنی ہے مثل اور شبیہ اور”النظائر“ نظرۃ کی جمع ہے بمعنی مثل۔ گویا لغت کے اعتبار سے یہ دونوں الفاظ (الاشباہ اور النظائر) ہم معنیٰ اور مترادف ہیں الاشباہ و النظائر ان کی آخری کتاب ہے جو انہوں نے اخیر عمر میں لکھی۔ ان کتب کے علاوہ بھی ابن نجیم نے کئی رسائل اور کتب تالیف کیں۔

کتاب لکھنے کی وجہ[ترمیم]

مصنف علام ابن نجیم دسویں صدی ہجری کے فقیہ ہیں فرماتے ہیں ”ہمارے مشائخ اور فقہا کرام اپنے اپنے انداز میں فقہ کے عنوان پر اگر چہ چھوٹی بڑی بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان کتابوں میں متون ،شروحات اور فتاویٰ سب شامل ہیں لیکن ان کتابوں میں کوئی ایسی کتاب مجھے دیکھنے میں نہیں ملی جو علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ کی اس کتاب جیسی ہو جو فقہی فنون پر مشتمل ہے، چنانچہ جب میں نے اپنی کتاب ”شرح الکنز یعنی البحر الرائق“ کے ”باب البیع الفاسد“ تک پہنچا تو اس دوران فقہی قواعد و ضوابط پر مشتمل ایک مختصر سی کتاب لکھی جس کا نام” الفوائد الزینیۃ فی فقہ الحنفیۃ“ تجویز کیا۔ میں نے اس کتاب میں 500 فقہی قواعد و ضوابط تحریر کیے اس کے بعد میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اسی” فوائد الزینیۃ “کے طرز پر ایک اور کتاب لکھی جائے جو سات فنون پر مشتمل ہو۔ “

سات فنون[ترمیم]

” الاشباہ والنظائر“ کو مصنف نے سات فنون پر تقسیم کیا ہے،

الفن الاول[ترمیم]

القواعد الکلیہ: یہ پہلا فن ہے اس فن کو صاحب کتاب نے دو انواع میں تقسیم کیا پہلی نوع میں 6قواعد جب کہ دوسری نوع میں کل 19 قواعد بیان کیے گئے ہیں، پھر ان میں سے ہر ایک قاعدہ مختلف اصول و قواعد پر مشتمل ہے۔

الفن الثانی[ترمیم]

الفوائد: اس میں مصنف نے کتب فقہ کی طرز پر (یعنی کتاب الطہارۃ، کتاب الصلوٰۃ، کتاب الزکوٰۃ، کتاب الصوم، کتاب الحج……کتاب القسمۃ تک) ہر باب کے اہم مسائل کے فوائد مخصوص انداز میں ذکر کیے ہیں۔

الفن الثالث[ترمیم]

الجمع والفرق: اس میں بتایا گیا ہے کہ باہم ملتے جلتے مسائل کہاں متحد اور کس مقام پر مختلف ہوجاتے ہیں۔ مصنف نے اس فن کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا کہ اس فن میں ایسے مسائل و احکام بیان کیے گئے ہیں جو کثرت سے پیش آتے رہتے ہیں ،ان اصول و قواعد سے بے خبر رہنا ایک فقیہ و مفتی کے شایان شان نہیں نیز اسی فن میں ایک خاتمہ بھی ہے جس کے تحت بہت سے اہم قواعد و فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔

الفن الرابع[ترمیم]

الالغاز:الغاز لغز کی جمع ہے لغز پہیلی کو کہتے ہیں، پڑھنے والے کے ذہن کو تازگی دینے اور آسان طریقے سے فقہ سے مناسبت پیدا کرنے کی غرض سے مصنف رحمہ اللہ نے فقہی مسائل کو پہیلی کے طرز پر بیان کیا ہے اس فن میں بھی موصوف نے کتب فقہ والی ترتیب ملحوظ رکھی۔

الفن الخامس[ترمیم]

الحیل: حیل؛ حیلہ کی جمع ہے اس کا معنیٰ تدبیر ہے اس فن کے تحت مصنف نے مختلف ابواب کے ان فقہی احکام و مسائل کو قلمبند کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی ان پیچیدہ مسائل کا شکار ہو جائے اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے اور خلاصی اور چھٹکارے کی صورت کیا ہوگی؟ اس فن میں ان متبادل طریقوں کو بیان کیا گیا ہے۔

الفن السادس[ترمیم]

الفروق: یہی وہ فن ہے جس کی طرف نسبت کرتے ہوئے مصنف نے اپنی کتاب کا نام” الاشباہ والنظائر“ رکھا ہے اس فن میں احکام فقہیہ اور ان کے درمیان فرق کو نہایت دل نشین انداز میں تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔

الفن السابع[ترمیم]

فی الحکایات: اس فن میں امام اعظم ابو حنیفہ اور دیگر فقہا احناف کے خاص خاص واقعات، مکالمات اور مراسلات وغیرہ کو جمع کیا گیا ہے۔ ابن نجیم نے اپنی اس کتاب میں قواعد کلیّہ، فروق اور اشباہ ونظائر ملتے جلتے علوم سے بحث کی ہے۔ جو ترتیب اور اکثر مضامین کے لحا ظ سے سیوطی کی کتا ب الاشباہ والنظائر سے منقول ہے سوائے ان تنقیحات کے جو حنفی نقطہ نگاہ سے آپ نے اس میں کی ہے۔ قواعدِ فقہیہ میں یہ اہم ترین کتب میں سے ہے۔ اشباہ ونظائر پرلکھی جانے والی اس کتاب میں صرف ظاہری ملتے جلتے مسائل کے ذکر پر ہی اکتفاء نہیں کیا گیاہے بلکہ ان میں قواعد وضوابط اور حیَل و الغاز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاشباہ والنظائر ازابن نجیم،زین العابدین بن إبراہیم المصری