البینات شرح مکتوبات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

البینات شرح مکتوبات مکتوبات امام ربانی کی پہلی مبسوط اردو شرح ہے جو ابو البیان محمد سعید احمد مجددی کی تصنیف ہے۔

مکتوبات امام ربانی کی شرح اس لحاظ سے ایک مشکل ترین کام ہے کہ مکتوبات امام ربانی کے فہم کے لیے صرف عربی و فارسی زبان پر عبور اور اصطلاحات تصوف کو جان لینا ہی کافی نہیں بلکہ حضرت مجدد پاک علیہ الرحمہ کے لا محدود مکشوفات، حقائق و معارف کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ روحانی استعداد کے ساتھ ساتھ بلندی فکر و نظر اور علم کسبی و وہبی کی بھی ضرورت ہے جو خداداد صلاحیت ہے نیز یہ قال کا علم نہیں بلکہ حال کا علم ہے۔ اس کا تعلق واردات قلبیہ اور مشاہدات ذاتیہ کے ساتھ ہے نیز قلبی واردات و کیفیات اور ذاتی مشاہدات و مکاشفات کا ادراک کر کے ان کو الفاظ کی حسین لڑی میں پرونا اور بھی مشکل کام ہی۔ اللہ تعالٰیٰ نے یہ ساری قابلیتیں اور صلاحیتیں ابو البیان محمد سعید احمد مجددی کی ذات با برکات میں ودیعت فرما ئی تھیں۔[1] اس لیے یہ عظیم سعادت آپ ہی کا نصیبا ٹھہری۔ خود حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی نے حضرت مصنف موصوف مدظلہ کو عالم رویا میں قلم اور کاغذ عطا فرما کر تحریر کا حکم ارشاد فرمایا اور مسلسل رہنمائی فرمائی۔ آپ خود فرماتے ہیں :

اس شرح کے سلسلے میں جب کسی مشکل مسئلہ کی کوئی صورت نہ بن پڑتی تو حضور مجدد پاک کی بارگاہ میں فاتحہ پڑھ کر متوجہ ہوتا تو اس مسئلہ کا حل معلوم ہو جاتا، کبھی القائی طور پر تو کبھی یوں کہ اچانک کسی نہ کسی کتاب میں فوراً وہی مسئلہ سامنے آجاتا۔[2]

شارح کے اس کام نے علما کے علاوہ اخص الخواص کو بھی ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔

یہ شرح عالمی ادارہ تنظیم الاسلام کے زیر اہتمام شائع ہونے والے مجلہ ماہنامہ دعوت تنظیم الاسلام میں اسی عنوان البینات شرح مکتوبات کے تحت شامل ہوتی ہے۔

خصوصیات[ترمیم]

یہ شرح اپنی گوناگوں خوبیوں کے باعث کئی اعتبار سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایک نظر میں اس کے خصائص اس طرح دیکھے جا سکتے ہیں :

  • مکتوبات کے مندرجات کو قرآن و حدیث سے موئید کیا گیا ہے۔
  • نفسِ مضمون کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔
  • مکتوبات میں شامل اصطلاحاتِ تصوف کو پہلی مرتبہ اتنی وضاحت کے ساتھ مکتوبات کے سیاق و سباق میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
  • حضرت مجدد الف ثانی خود حنفی تھے اور مکتوبات میں فقہ حنفی کے مطابق مسائل کا استنباط کیا۔ یہ بجائے خود ایک وسیع موضوع ہے کہ مکتوبات شریفہ میں شامل مسائل فقہیہ کی فقہ حنفی کے مطابق تطبیق کی جائے۔ خدا کا شکر ہے کہ مولف البینات نے شرح کے دوران یہ اہم فریضہ بھی انجام دینے کی سعی فرمائی ہے۔
  • مکتوبات میں شامل احادیث نبویہ(علیہ الصلوۃ والسلام) کی تخریج ایک دقیق ترین مرحلہ ہے لیکن آج کے دور میں احادیث کے انڈیکس طبع ہو چکے ہیں اور احادیث کے ذخائر کمپیوٹرز میں منتقل ہو چکے ہیں اس لیے اب یہ مرحلہ طے ہو جانا چاہیے۔ ہمارے شارح بزرگ نے اس مقام پر بھی سعی ِ تمام فرمائی ہے اورحدیث مقتبسہ کو اس کے اصل متون سے مطابقت دے دی ہے۔
  • مکتوبات کی شرح کے دوران ایک مرحلہ اور دشوار گزار ہے کہ اس میں روحانی مقامات کا اندراج جس طرقہ سے ہوا ہے آج کا قاری ان مقامات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ان مقامات کو صرف وہی سمجھا سکتا ہے جس پر یہ واردات ہوئے ہوں اور عملی طور پر وہ خود بھی شیخ طریقت ہو، وہ ان روحانی کیفیات کا ادراک کر کے اس کی شرح کر سکتا ہو۔ ہمارے بزرگ شارح چونکہ خود ایک محقق عالم دین ہیں اور نہ صرف سلسلہ عالیہ نقشبندیہ بلکہ دیگر سلاسل طریقت(قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، شاذلیہ وغیرھا) کے پیر ماذون ہیں اس لیے انہوں نے ان تمام روحانی مراحل کو بڑے احسن طریقے سے سلجھایا ہے۔
  • اس شرح کی ایک اور خوبی یہ ہے شارح نے علوم اسلامیہ کے متعارف سارے مآخذ سامنے رکھ کر شرح کی ہے اور ہر مقام کو مستند بنانے کے لیے ان کے حوالے بھی دیے ہیں گویا اس شرح پر علمی تحقیقات کا رنگ غالب ہے۔
  • ہر مکتوبات میں سے صرف دقیق مقامات منتخب کرکے اس کی شرح کی گئی ہے۔
  • شارح بزرگ نے اس شرح میں یہ التزام کیا ہے جس حصہ کی شرح کرنا ہے اس کا فارسی متن نقل کیا ہے اس کے بعد اس کا اردو ترجمہ دیا ہے اور پھر اس کی شرح بیان کی ہے۔ اس شرح میں حتی الامکان ایسے تمام نکات یکجا کر دیے گئے ہیں جن کا اس اقتباس کے فہم و تفہیم کے لیے ہونا لازم ہے۔ قابلِ شرح اقتباس کی مکتوبات میں سے دوسرے جن جن مقامت سے توضیح ہو سکتی تھی اس مقام پر وہ بھی نقل کرکے اسے آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. البینات شرح مکتوبات، جلد اول، مختصر سوانح حیات، ص8
  2. البینات شرح مکتوبات، جلد اول، پیش لفظ، از ابو الحبیب محمد رفیق احمد مجددی ص6
  3. البینات شرح مکتوبات، شارح ابو البیان محمد سعید احمد مجددی، مقدمہ از پروفیسر محمد اقبال مجددی صدر شعبہ تاریخ، اسلامیہ کالج لاہور سول لائنز، لاہور۔ ص84-85