التربیع والتدویر
| التربیع والتدویر | |
|---|---|
| مصنف | جاحظ |
| اصل زبان | عربی |
| موضوع | هجاء |
| باضابطہ ویب سائٹ | رسالة التربيع والتدوير |
| درستی - ترمیم | |
رسالۃ التربیع والتدویر یہ ایک طنزیہ (ہجائی) کتاب ہے جو ابو عثمان الجاحظ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب ایک مکتوب (رسالے) کی صورت میں ہے، جس میں وہ احمد بن عبد الوہاب نامی شخص کو مخاطب کرتا ہے۔
اس کتاب میں معاشرتی رویّوں پر گہری طنزیہ ضربیں لگائی گئی ہیں۔ جاحظ اپنے مخاطَب کو ایک خط کے انداز میں، نہایت تمسخر آمیز اسلوب کے ساتھ اس کی خامیوں اور منفی صفات کا ذکر کرتا ہے، جن کے ذریعے دراصل وہ اُس زمانے میں رائج معاشرتی برائیوں پر تنقید کرتا ہے، جیسے: خود غرضی، لالچ، خود پسندی اور علمی کمال کا جھوٹا دعویٰ۔[1][2]
رسالے کا مقدمہ
[ترمیم]“اللہ تمھاری عمر دراز کرے اور اپنی نعمت و کرم تم پر مکمل فرمائے۔ اللہ تمھاری حفاظت کرے، تم جانتے ہو کہ تم کسی نعمت میں قابلِ رشک نہیں، مگر تمھیں رشک کیا جاتا ہے تمھارے خوش قامت اور مضبوط جسم پر، آنکھوں کی خوبصورتی پر، اچھے قد و قامت پر، خوش گفتاری اور قابلِ تحسین طرزِ عمل پر۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جن کی بنا پر تم تکلف کرتے ہو اور وہ معانی ہیں جنہیں تم بار بار دہراتے رہتے ہو۔
اس کے بعد، اللہ تمھیں باقی رکھے، تمھارے ہاتھ میں ایسا پیمانہ ہے جو ٹوٹتا نہیں، ایسا جواب ہے جو ختم نہیں ہوتا، تمھاری ایسی دھار ہے جو کند نہیں پڑتی اور ایسی تلوار ہے جو مڑتی نہیں۔ یہی تمھارا وہ پیمانہ ہے جس کی طرف تم اپنی نسبت کرتے ہو اور وہی تمھارا مذہب ہے جس کی طرف تم جاتے ہو؛ کہ تم کہتے ہو: مجھے اس سے کیا کہ لوگ مجھے چوڑا اور بھدا دیکھیں اور اپنے فیصلے میں مجھے سخت جانیں، حالاں کہ میں اللہ کے نزدیک لمبا اور خوب صورت ہوں اور حقیقت میں متناسب اور چست ہوں۔”[3]
رسالے کے بارے میں آرا
[ترمیم]- ابراہیم المُدَبِّر
ابو الفرج اصفہانی نے عبد اللہ بن جعفر الوکیل سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں:“ایک دن میں ابراہیم المدبر کے پاس تھا، میں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک رقعہ (تحریر) رکھی ہوئی ہے جسے وہ بار بار دیکھ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اس رقعے کا کیا معاملہ ہے؟ کیا اس کا کوئی حصہ آپ پر مشکل ہو گیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: یہ ابو عثمان الجاحظ کی تحریر ہے اور اس کا کلام مجھے بے حد پسند ہے، اسی شدید پسندیدگی کی وجہ سے میں اسے بار بار اپنے دل میں دہراتا ہوں۔”[4]
المسعودی لکھتے ہیں: “جاحظ کی کتابیں ذہنوں کے زنگ کو صاف کرتی ہیں اور واضح دلیل کو آشکار کرتی ہیں، کیونکہ اس نے انھیں بہترین ترتیب کے ساتھ مرتب کیا، نہایت عمدہ اسلوب میں بیان کیا اور اپنے کلام سے انھیں نہایت فصیح اور بھرپور الفاظ پہنائے۔ اور جب اسے یہ اندیشہ ہوتا کہ قاری اکتا نہ جائے یا سامع بور نہ ہو جائے، تو وہ سنجیدگی سے مزاح کی طرف اور گہری حکمت سے لطیف نادرہ کی طرف منتقل ہو جاتا۔ معتزلہ میں، خواہ پہلے ہوں یا بعد کے، اس جیسا فصیح کوئی معلوم نہیں۔”[5]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ الجاحظ، الرسائل، تحقيق عبد السلام هارون، د/تا، د/طبعة، ج3 ،ص:83
- ↑ أ. كركب محمد۔ أدب الفكاهة عند الجاحظ –رسالة التربيع و التدوير-أنموذج.۔ مخبر الدراسات النحوية واللغوية بين التراث و الحداثة، جامعة ابن خلدون – تيارت-الجزائر۔ 2022-12-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-16
- ↑ الجاحظ (البيان و التبيين)المطبعة الكاثوليكية، لبنان، د/ط 1959 ،ص:192
- ↑ ياقوت الحموي، معجم الأدباء، مطبعة المأمون، ج16 ،ص:92
- ↑ المسعودي، مروج الذهب، تح:محمد محي الدين، ج4 ،ص:98