الجامعۃ الاشرفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

الجامعہ الاشرفیہ ہندوستان کی قدیم اور دینی تعلیم کی معیاری درسگاہ جس کا پرانا نام دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم تھا۔
بحرالعلوم جامعہ اشرفیہ مبارک پور، بھارت میں اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی مسلک کے مسلمانوں کی سب سے بڑی اسلامی درس گاہ ہے۔ یہ ادارہ ہندوستان کے صوبہ یو پی (اتر پردیش) کے ضلع اعظم گڑھ کے اندر قصبہ مبارک پور میں واقع ہے۔ یہ اسلامیان ہند کا معتبر دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کے مختلف شعبے اور بہت سی عمارتیں ہیں۔ اس ادارہ کے فارغ التحصیل علماء ہندوستان میں اور اس کے باہر امریکہ، افریقہ، یورپ وغیرہ کے مختلف ملکوں اور شہروں میں تدریسی، تنظیمی، دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ۔ پہلے یہ مدرسہ محلہ پرانی بستی میں مبارکپور کے بہت بڑے زمیندار گھرانے کی عمارت میں قائم کیا گیا تھا بعد ازاں اس جگہ کے مالکان عبدالوہاب انصاری ،حاجی عبدالرحمن ،اور حافظ عبدالواحد نے اسے 20 مارچ1922ء کو قوم کے نام وقف کردیا اور پھر جب جگہ تنگ محسوس کی گی تو اسی خاندان کے لوگوں نے یعنی شیخ محمّد امین انصاری وغیرہ نے قصبہ کے قلب میں حسب ضرورت اپنا احاطہ27 ستمبر1934ء کو قوم کے نام وقف کیا جو صدر بازار میں واقع ہے۔ بعد میں جگہ کی قلت کو دیکھتے ہوئے مبارکپور قصبہ کے باہر ایک وسیع قطعہ اراضی پر جامعہ اشرفیہ کی عمارتیں تعمیر کی گئیں جہاں فی الحال اس کے دفاتر اور تمام شعبہ جات ہیں۔ اس ادارہ کے فاضلین مصباحی نسبت رکھتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ پر جائیں۔

جامعہ کے فضلا[ترمیم]

ان ارباب علم وفضل میں معروف ترین شخصیات یہ ہیں:

  • 1۔ مفتی محمد شریف الحق امجدی ۔
  • 2۔مفتی محمد وقار الدین۔ (سابقہ مفتی دار العلوم امجدیہ کراچی )
  • 3۔ مفتی ظفر علی نعمانی ( بانی دار العلوم امجدیہ کراچی )
  • 4۔ علامہ ضیاء المصطفیٰ الاعظمی (معروف محدث کبیر انڈیا )
  • 5۔قاری رضاء المصطفیٰ الاعظمی
  • 6۔ علامہ عبد الرؤوف ( مرتب فتاوی رضویہ )
  • 7۔ مفتی عبد المنان الاعظمی ( مرتب فتاوی رضویہ )
  • 8- علامہ محمد احمد مصباحی
  • 9-علامہ یس اختر مصباحی
  • 10-مفتی محمد نظام الدین رضوی
  • 11۔خاندان اشرفیہ کچھوچھہ شریف کے زیادہ تر عظیم ہستیاں بھی فاضلین میں شمار ہیں۔

جامعہ کے شعبہ جات[ترمیم]

تربیت تدریس[ترمیم]

جامعہ میں تربیت تدریس کا بھی ایک مستقل شعبہ ہے جس میں محنتی اور باصلاحیت فارغین اشرفیہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جو دو برس تک اساتذہ کے زیر نگرانی تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں ۔

کمپیوٹر سینٹر[ترمیم]

ایک خوب صورت عمارت میں (حافظ ملت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس ) کمپیوٹر سینٹر قائم ہو چکا ہے۔ جس کے اندر ملٹی میڈیا بیس کمپیوٹرس کی تعداد ۲۵؍ ہے۔ نیلیٹ چنڈی گڑھ (NIELIT CHANDIGARH)سے منظور شدہ ایک سالہ ڈپلوما کورس کے مطابق کمپوزنگ ،ڈیزائنگ اور پروگرامنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

مجلس شرعی[ترمیم]

عہد حاظر کے ابھرتے ہوئے جدید مسائل کے حل کے لیے ۲۳؍ جمادی الآخرہ ۱۴۱۳ھ مطابق ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز شنبہ ’’مجلس شرعی‘‘ کے نام سے اس بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ مجلس شرعی کے زیر اہتمام تا دم تحریر مختلف اہم موضوعات پر چھوٹے بڑے ۲۲؍ فقہی سیمینار منعقد ہو چکے ہیں۔

ادارہ تحقیقات حافظ ملت[ترمیم]

۱۹۸۹ء میں سربراہ جامعہ جناب عبد الحفیظ صاحب (عزیز ملت) کی سرپرستی میں ادارہ تحقیقات حافظ ملت کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد حیات حافظ ملت، جامعہ اشرفیہ اور فرزندان اشرفیہ کے حوالے سے سوانحی، تاریخی اور تحقیقی کام کرنا ہے۔

مجلس برکات[ترمیم]

۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۹ء میں ’’مجلس برکات‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ اس کا ایک مستقل بورڈ ہے اس کا بنیادی نشانہ نظر ثانی اور جدید حواشی کے ساتھ درسی نظامی کی اشاعت ہے اور حسب ضرورت شروحات نویسی اور ان کی اشاعت بھی۔

نشر واشاعت[ترمیم]

قلم کی اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ الجامعۃ الاشرفیہ نے بھی تصنیف واشاعت کی ضرورت واہمیت محسوس کرتے ہوئے ۱۱؍ رجب ۱۹۷۴ء میں شعبہ نشریات قائم کیا جس نے مختلف اوقات میں متعدد کتابیں اور سالے شائع کیے سالانہ کلنڈر بھی شائع کیا جاتا ہے اور ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ سے قبل ضروری مسائل پر مشتمل ہزاروں پوسٹر ملک بھر میں ارسال کیے جاتے ہیں۔

شریعت کالج(درس نظامی)[ترمیم]

مدارس اسلامیہ میں رائج طریقۂ تدریس ، نصاب تعلیم و نظام تدریس کو درس نظامی کہا جاتا ہے ۔ علومِ اسلامیہ پر مشتمل اس آٹھ سالہ کورس کو ’’عالم کورس‘‘ بھی کہتے ہیں۔ درس نظامی میں صرف، نحو،منطق،حکمت، ریاضی، بلاغت، فقہ، اصول فقہ، کلام، تفسیر،حدیث وغیرہ بائیس موضوعات کی تقریباً ساٹھ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ موجودہ دور کے تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نصاب میں ہندی ، انگریزی ، حساب اور کمپیوٹر کی تعلیم کو بھی لازمی طور پر شامل کیا گیا ہے۔

دعوت و تبلیغ[ترمیم]

یوں تو جامعہ کاہر شعبہ دعوت وتبلیغ دین ہی سے متعلق ہے۔ اس کے باوجود ذمہ داران جامعہ نے اس کے لیے باضابطہ یہ شعبہ قائم کیا ہے۔ قرب وجوار اور دور دراز کے علاقوں میں جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے جامعہ کی طرف سے دعاۃ ومبلغین بھیجے جاتے ہیں۔ طلبہ بھی وقت نکال کر قریبی بستیوں میں دعوت کا کام انجام دیتے ہیں۔

حفظ القرآن[ترمیم]

جامعہ میں حفظ کی چار درس گاہیں ہیں۔ ہر درس گاہ میں تقریباً ۴۰؍ طلبہ کا داخلہ ہوتا ہے۔ یہ شعبہ اعظم گڑھ ، خاص طور سے مبارک پور کے طلبہ کے لیے ہے۔

تجوید و قراءت[ترمیم]

یہ درس نظامی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایک مخصوص درجہ میں پہنچنے کے بعد ہر طالب علم کے لیے اس کی تعلیم ضروری ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نصاب بھی مقرر ہے جس میں پاس ہونا ہر طالب علم کے لیے لازم ہے۔ اس کے علاوہ تجوید وقراءت کے خصوصی درجات بھی ہیں جن میں قراءت حفص ، قراءت سبعہ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

تخصص/ اختصاص[ترمیم]

اختصاص فی الفقه الحنفى[ترمیم]

یہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سب سے پہلا تحقیقی شعبہ ہے ، یہ شعبہ بیسوں سال سے اِس اہم کام کو انجام دے رہا ہے ، ابھی تک سیکڑوں کی تعداد میں مفتیان کرام فارغ ہو چکے ہیں جو ہند اور بیرون ہند خدمت دین میں سرگرم ہیں۔

اختصاص عربی ادب[ترمیم]

یہ شعبہ بھی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے اہم شعبہ جات میں سے ایک ہے، اِس کے تحت عربی ادب سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو عربی زبان بولنے ، لکھنے اور سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

اختصاص فی الحدیث[ترمیم]

احادیث نبویہ قرآن کی حقیقی تفسیر اور علوم اسلامی کا سرچشمہ ہیں، اسی مقصد کے پیش نظر اس شعبے میں حدیث و اصول حدیث کے ماہرین پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔

مشق افتا[ترمیم]

تحقیق فی الفقہ کے شعبے میں طلبا کی دلچسپی کو دیکھتے ہوے مشق افتا کا ایک مستقل شعبہ قائم ہو چکا ہے، جس میں ماہر مفتیان کرام کی نگرانی میں فتاوی نویسی کی مشق کرائی جاتی ہے اور فتاوی نویسی کے اصول وضوابط کی جانکاری کے لیے باضابطہ نصاب بھی مقرر ہے۔

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

* جامعہ اشرفیہ کی دفتری ویب سائٹ