مندرجات کا رخ کریں

الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع
(عربی میں: الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع ویکی ڈیٹا پر (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصنف خطیب بغدادی
محقق محمود الطحان
اصل زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع علوم الحديث
ناشر مكتبة المعارف
تاریخ اشاعت سنة النشر: 1403 - 1989

"الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع" علمِ حدیث کی ایک مشہور کتاب ہے جسے خطیب بغدادی نے تصنیف کیا۔ اس کتاب میں راوی کے اخلاق اور حدیث سننے والے کے آداب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، نیز یہ کہ ان پر کیا چیز واجب ہے، کیا مستحب ہے اور کس چیز سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اہلِ حدیث کے لیے ان باتوں کا جاننا ضروری ہے۔

خطیب بغدادی نے اس کتاب میں محدث اور طالبِ حدیث کے لیے ان آداب و واجبات کا بھرپور احاطہ کیا ہے جو فنِ تحدیث (حدیث روایت کرنے کے فن) کا تقاضا ہیں۔ بلکہ انھوں نے نہایت جامع انداز میں ان امور کو پیش کیا، ہر پہلو پر روشنی ڈالی اور اس موضوع پر مزید کسی اضافے کی گنجائش نہ چھوڑی۔ سچ یہ ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ہر اس شخص کی علمی تشنگی کو سیراب کرتی ہے جو اس باب میں کمال حاصل کرنا چاہے یا اس کے گہرائیوں تک پہنچنا چاہے۔[1]

کتاب کے بعض فوائد

[ترمیم]

حدیث کے طلبہ کے لیے لازم ہے کہ وہ ادب و اخلاق میں تمام لوگوں سے بہتر ہوں، سب سے زیادہ فروتنی اختیار کریں، پاکیزگی، تقویٰ اور دین داری میں سبقت رکھیں اور جذباتی و غصے میں بہت کم مبتلا ہوں۔ کیونکہ ان کے کان ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے حسنِ اخلاق، آداب، اہل بیت و صحابہ کرام کی سیرت، محدثین کے طریقے اور گذشتہ اہلِ فضل کے کارنامے سنتے رہتے ہیں۔ چنانچہ انھیں چاہیے کہ وہ ان میں سے عمدہ باتوں کو اختیار کریں اور کم تر اور ناپسندیدہ باتوں سے دُور رہیں۔[2]

کتاب کا مضمون

[ترمیم]

خطیب بغدادی نے اس کتاب میں 239 عنوانات قائم کیے ہیں، جو 30 سے زائد ابواب میں منقسم ہیں اور تقریباً 2000 فقروں پر مشتمل ہیں۔ کتاب کا مجموعی خاکہ کچھ یوں ہے:

  • . ابتدائی مقدمہ:

مختصر دیباچے میں مصنف نے موضوع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

  • . طلبِ حدیث میں نیت:

اس باب میں اخلاص نیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، خواہ طالب علم ہو یا استاد۔

  • . طالبِ حدیث کے اوصاف:

اخلاق، حلال روزی، تجرد (شادی نہ کرنا) کو ترجیح دینا اور دوسرے صفات بیان کیے گئے۔

  • . اسناد کی تحقیق:

معتبر اسناد کے حصول، اچھے شیوخ کے انتخاب اور ضعیف راویوں سے اجتناب پر ابواب لکھے۔

  • . شیخ کے ساتھ آداب:

مجلس میں جلد آنا، اجازت لینا، داخلے و خروج کے آداب اور استاد کا احترام۔

  • . سوال کرنے اور یادداشت کے آداب:

سوال کا سلیقہ، ادب اور حفظ کے طریقے بیان کیے۔

  • . حدیث لکھنے کا طریقہ:

نقل کے اصول، تحریر کے آداب، خوش خطی، نسخ کے آلات اور تقابل کی اہمیت پر بحث۔

  • . شیخ سے حدیث پڑھنے کے آداب:

قراءت کے مخصوص آداب پر باب باندھا۔

  • . راوی کے عمومی اوصاف:

شاگردوں سے تعامل، مجلس کے قبل و بعد کی حالت اور پسندیدہ و ناپسندیدہ امور۔

  • . علمی دیانت و تحقیق:

دیانت داری، درست نقل، احتیاط اور فہم کے ساتھ روایت کرنے کی تلقین۔

  • . نحو اور عربی زبان کی اہمیت:

عربی و صرف و نحو سیکھنے کی ترغیب اور لغزش سے بچاؤ کی تاکید۔

  • . مجالسِ املا:

ان کے انعقاد، ترتیب، آداب، اساتذہ اور طلبہ کے احکام اور مجلس کے اختتام پر نوادر و اشعار کے ذکر کی سنت۔

  • . کذاب راویوں کا تعارف:

ان کی حقیقت ظاہر کرنے اور حکام کے حوالے کرنے کی تاکید۔

  • . حدیث کی درست کتابت:

مکمل اور صحیح نقل کی سخت تاکید۔

  • . حدیث کے لیے سفر:

سفر کی اہمیت، شرائط، والدین کی اجازت، ہم سفر کے انتخاب اور اس کے آداب۔

  • . حفظ و عمل:

محض سننے یا لکھنے پر اکتفا نہ کرنا، بلکہ حدیث یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

  • . حفظ کے اسباب:

یادداشت بڑھانے کے طریقے، حتیٰ کہ کھانے پینے کی اشیاء پر بھی تفصیل سے بحث۔

  • . طلبہ کی حوصلہ افزائی:

حدیث جمع کرنے، لکھنے اور اس پر کتابیں تصنیف کرنے کے فضائل۔

  • . علما کا منہج اور اہم کتب:

حدیث کی کتب، فنون، رجال اور علمِ حدیث میں معروف تصانیف کا تعارف۔

  • . بڑھاپے میں تحدیث سے اجتناب:

عمر رسیدگی میں حافظے کی کمزوری کے سبب روایت سے اجتناب کی ہدایت۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. علوم الحديث (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي[مردہ ربط] ) آرکائیو شدہ 2020-09-11 بذریعہ وے بیک مشین
  2. فوائد من كتاب الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع آرکائیو شدہ 2019-12-16 بذریعہ وے بیک مشین
  3. تحقيق الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، محمد عجاج الخطيب، ص. 75 وما بعدها.