الجلدکی خراسانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الجلدکی خراسانی
(عربی میں: علي بن مُحمَّد أيدمر الجِلدكي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 2 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1342 (41–42 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ کیمیادان،  طبیب،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر جابر بن حیان،  ابوبکر الرازی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

الجلدکی خراسانی (وفات: 1342ء) فارسی النسل کیمیادان اور طبیب تھے۔

جلدکی کی کتاب کتاب البرهان فی اسرار علم المیزان سے ایک صفحہ۔

سوانح[ترمیم]

جلدکی کے ابتدائی حالات پردۂ اخفا میں ہے اور پیدائش کے سال اور ابتدائی زندگی کے حالات میسر نہیں آ سکے۔ جلدکی کا نام علی بن محمد ایدمر تھا اور لقب عزالدین تھا۔ چودہویں صدی کے فارسی مؤرخین نے جلدکی کا نام ایدمر الجلدکی لکھا ہے۔اُن کا آبائی شہر جلدک تھا جو خراسان میں مشہد سے 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تھا اور اِسی نسبت سے خراسانی کہلاتے تھے۔[1] منگول فتوحات کے زمانے میں وہ خراسان سے ہجرت کرگئے تھے اور عراق میں مقیم ہوئے۔ جلدکی کی تصانیف سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے بلاد الشام، یمن، مغرب، اناطولیہ اور مصر کے سفر بھی کیے۔

بحیثیت کیمیا دان اور تصانیف[ترمیم]

جلدکی قرون وسطی میں متاخر کیمیا دانوں میں سے ایک ہیں۔ جلدکی کی دو تصانیف اب موجود رہ گئی ہیں: المصباح فی علم المفتاح اور کتاب البرهان فی اسرار علم المیزان۔[2] اُن کی تصانیف پیشرو مسلم کیمیا دانوں کی تحقیق سے مکمل ہوئی ہیں۔ جابر بن حیان، ابوبکر الرازی، ابوالقاسم عراقی، ابن ارفع راس کی کتب کے حوالہ جات جلدکی کی کتب میں موجود ہیں۔

وفات[ترمیم]

جلدکی کا انتقال قاہرہ میں 1342ء میں ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Corbin 2014, p. 331.
  2. "Archived copy". 27 نومبر 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2010.