الخازن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ان کا نام “عبد الرحمن ابو جعفر الخازنی” ہے، خراسان میں ساتویں صدی ہجری کے ابتدائی دور کے سائنسدان ہیں، ان کی زندگی پر اسراریت سے بھری ہوئی ہے، بعض مصنفین ان میں اور کچھ دوسرے سائنسدانوں میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور ان کے بعض کاموں کو دوسروں سے منسوب کردیا، ان کی اہم تصانیف میں “میزان الحکمہ” ہے، یہ کتاب گزشتہ صدی کے وسط میں دریافت ہوئی، اس کتاب کو طبعی علوم کی اولین کتاب سمجھا جاتا ہے خاص طور سے ایک مادہ “ہیڈروسٹیٹیکا” کے حوالے سے، یہ کتاب انگریزی میں ترجمہ ہوکر امریکہ میں شائع ہوچکی ہے، جبکہ اس کا عربی نسخہ فؤاد جمعان کی تحقیق سے شائع ہوا.

“میزان الحکمہ” میں ان کی علمیت پھوٹ پھوٹ کر نظر آتی ہے، یہ کتاب عربوں کے ہاں علوم کی نفیس ترین کتاب سمجھی جاتی ہے، اس میں انہوں نے تمام پیمانے جمع کیے اور وزن کی وجوہات بیان کیں اور اس طرح پیرومیٹر، تھرمومیٹر اور دیگر جدید پیمانوں کی ایجاد کی راہ ہموار کی جو یورپی سائنسدانوں کے ہاتھوں معرضِ وجود میں آئے.

انہوں نے فزکس اور میکینکل میں بھی کام کیا اور فلکیاتی ٹیبل بھی بنائے جو “الزیج المعتبر السیخاری” کے نام سے جانے گئے، انہوں نے ہوا اور پانی میں اجسام کا وزن کرنے کے لیے خاص پیمانے بنائے اور اس طرح گویا دباؤ اور درجہ حرارت کے ناپ کی راہ ہموار کرنے والے پہلے سائنسدان بنے، ان کی کششِ ثقل پر بھی تحقیق ہے.

ان کے کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے جس سے ان کا شمار یقیناً عرب اور مسلمانوں کے بڑے سائنسدانوں میں ہوتا ہے، انہوں نے نہ صرف اہم دریافتیں کیں بلکہ ایسی ایجادات بھی چھوڑیں جس سے انسانیت اور سائنس کی ترقی میں مدد ملی.