الرسالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الرسالہ
(عربی میں: كتاب الرسالة خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عنوان (P1476) ویکی ڈیٹا پر
مصنف محمد بن ادریس شافعی
محقق احمد محمد شاکر
اصل زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع اصول فقہ
ادبی صنف اصول فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
ناشر دار الکتب العلمیہ

کتاب الرسالہ امام شافعی کی "اصول فقہ" کے فن میں لکھی گئی پہلی کتاب ہے

  • الرسالہ جو 200ھ بمطابق 830ء کے لگ بھگ عربی زبان میں لکھی گئی۔ اسے امام شافعی نے دو مرتبہ مرتب کیا
  • اس کتاب کے متعلق امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں کہ امام شافعی کی کتاب رسالہ کی اصول فقہ میں وہ حیثیت ہے جو ارسطو کی علم منطق میں ہے
  • امام شافعی کی کتب میں سب سے اہم کتاب ’’الرسالہ‘‘ہے جس میں انہوں نے اسلامی قانون سازی کے جملہ اصول مر تب کیے ہیں۔ مجتہدین مطلق میں سے صرف امام شافعی واحد اور پہلے ایسے امام ہیں جنہوں نے اپنے اصول ہائے فقہ کو خود مرتب کیا اور باقاعدہ اس فن کو مدون کیا،باقی ائمہ کے اصولوں کو ان کے بعد آنے والوں نے یاان کے شاگردوں نے مرتب کیا۔
  • اصول فقہ(Principles of Jurisprudence) تمام مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ) کے اہل علم نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کر کے کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ امام شافعی﷫ کی یہ کتاب اصول فقہ واصول حدیث کے فن پر سب سے پہلی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے حدیث اور فقہ کے اصول قرآن وحدیث کی روشنی میں مرتب فرمائے ہیں۔ یہ کتاب تمام اہل علم کے ہاں معروف اور دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرسالہ ،مؤلف: محمد بن إدريس الشافعی الناشر: مكتبہ الحلبی، مصر