الزبتھ باتھوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الزبتھ باتھوری
الزبتھ باتھوری
الزبتھ باتھوری

معلومات شخصیت
پیدائش 7 اگست 1560

نیرباتور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 اگست 1614(1614-80-21) (عمر  54 سال)
چاختیتسے، مملکت مجارستان (اب چاختیتسے، سلوواکیہ)
چاختیتسے قلعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Hungary.svg مجارستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر Ferenc Nádasdy
اولاد Paul
Anna
Ursula
Katherine
عملی زندگی
پیشہ سلسلہ وار قاتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مجارستانی زبان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

الزبتھ باتھوری (انگریزی: Elizabeth Báthory) یا الزابتھ باتھوری (مجاری زبان: Báthory Erzsébet، سلوواک: Alžbeta Bátoriová) ایک مجارستانی معزز خاتون تھی جو مبینہ طور پر ایک سلسلہ وار قاتل تھی۔ اس کا خاندان باتھوری مملکت مجارستان (موجودہ مجارستان، سلوواکیہ اور رومانیہ) کا ایک بڑا زمیندار خاندان تھا۔ اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سب سے زیادہ قتل کتنے والی کے طور پر درج کیا ہے، [2] تاہم مقتولین کی اصل تعداد قابل بحث ہے۔ الزبتھ باتھوری اور اس کے چار ساتھیوں پر 1585ء اور 1609ء کے درمیان سینکڑوں نوجوان خواتین کو تشدد اور قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ [3]

اس سلسلہ وار قتل کی داستانوں کی گواہی 300 سے زائد گواہوں، زندہ بچ جانے والوں اور اس کے علاوہ اس کی گرفتاری کے وقت ظاہری ثبوتوں، پر تشدد لاشوں اور مرتی ہوئی قید لڑکیوں نے دی۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11970254s — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. "Most prolific female murderer"۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز۔ Guinness World Records Limited۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مئی 2018۔ The most prolific female murderer and the most prolific murderer of the western world, was Elizabeth Bathory, who practised vampirism on girls and young women. Described as the most vicious female serial killer of all time, the facts and fiction on the events that occurred behind the deaths of these young girls are blurred. Throughout the 15th century, she is alleged to have killed more than 600 virgins
  3. Katherine Ramsland۔ "Lady of Blood: Countess Bathory"۔ Crime Library۔ Turner Entertainment Networks Inc.۔ مورخہ 11 مارچ 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2014۔
  4. Letter from Thurzó to his wife, 30 December 1610, printed in Michael Farin۔ Heroine des Grauens: Wirken und Leben der Elisabeth Báthory: in Briefen, Zeugenaussagen und Phantasiespielen (جرمن زبان میں)۔ صفحہ 293۔ او سی ایل سی 654683776۔

بیرونی روابط[ترمیم]