السلام علیکم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

السلام علیکم دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا ہے۔

لغوی و اصطلاحی مفہوم[ترمیم]

سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یا آفت سے نجات پانا۔ سلام کے ایک معنی صلح کے بھی ہیں۔

سلام اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالٰی کے صفاتی ناموں میں سے بھی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ سلام کا مترادف سلامتہ ہے اور بعض نے سلامتہ کی جمع سلام بتائی ہے۔

سلام تسلیم کا اسم ہے اور شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا یعنی السلام علیکم کہنا ہے۔ جواب کے لیے وعلیکم السلام کے الفاظ ہیں۔ سلام کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں و رحمتہ اللہ و برکاتہ و مغفرتہ کے کلمات کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔

سلام کی ابتداء[ترمیم]

احادیث سے یہ ثابت ہے کہ سلام کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہی ہو گیا تھا۔

سلام کی قسمیں[ترمیم]

علماء نے سلام کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

  • سلام تحیۃ

دعائیہ سلام جس کا ذکر سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔

  • سلام متارکت

کسی سے پیچھا چھڑانے کے لیے جو سلام کیا جائے اسے سلام متارکت کہتے ہیں۔

سلام کے آداب و مسائل[ترمیم]

  • سلام کہنے والا السلام علیکم کہے خواہ مخاطب ایک ہو یا زیادہ۔ اگر مخاطب ایک ہو تو السلام علیک بھی کہا جا سکتا ہے۔
  • السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہنا بھی درست ہے۔
  • ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کہنا سنت ہے۔
  • سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن میں ہے سورۃ النساء آیت نمبر 86 میں یوں آیا ہے:
  • سلام کا جواب اس سے بہتر اور عمدہ طریقے سے دینا مستحب ہے۔

سلام کی اہمیت و فوائد[ترمیم]

دین اسلام میں سلام کی بڑی تاکید ہے۔ اسلامی معاشرہ کی تشکیل و اصلاح میں سلام کا اہم کردار مندرجہ ذیل فوائد کا ضامن ہے:

  • یہ باہمی تعارف کا نقطہ آغاز ہے جو اجنبیت کو دور کرنے اور محبت و یگانگت کے جذبات کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔
  • ادنی و اعلی کے فرق کو مٹا کر اہل اسلام میں اس احساس کو اجاگر کرتا ہے کہ سب مسلمان ایک ہی برادری سے وابستہ ہیں۔