السیر الکبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(السيرالکبیر سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

السیر الکبیر امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف ہے جو ظاہر روایت کی 6 کتابوں میں شامل ہے۔ السیر الکبیرخارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات پر اہم کتاب ہے، یہ امام محمد کی آخری کتاب ہے۔ شمس الائمہ حلوانی اور شمس الائمہ سرخسی نے اس کی شرح (یہ شرح 5 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے)لکھی، علامہ سرخسی نے اوز جند میں دوران قید اس کا آغاز کیا اور 480ھ میں رہائی کے بعد مرغینان میں پایہ تکمیل تک پہنچائی۔

وجہ تصنیف[ترمیم]

امام شمس الائمہ سرخسی السیر الکبیر کی شرح میں فرماتے ہیں کہالسیرالکبیر امام محمدکی آخری تصنیف ہے۔ اس کی وجہ تصنیف یہ تھی کہ آپ کی کتاب السیر الصغیر اہل شام کے ایک جلیل القدر عالم عبدالرحمن بن عَمْرْو الاوزاعی کے پاس پہنچی۔ انہوں نے پوچھا یہ کس کی تصنیف ہے بتایا گیا کہ امام محمد بن الحسن عراقی کی برجستہ ان کی زبان سے نکلا اہلِ عراق کو اس موضوع میں تصنیف سے کیا لگاؤ وہ علم السیراور مغازی رسول اﷲصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا جانیں کیونکہ غزوات زیادہ تر شام میں ہوئے۔ غزوات کا علم وہاں کے لوگو ں کو زیادہ ہے اور حجاز کے لوگوں کو، نہ کہ عراق والوں کو۔ امام اوزاعی کی یہ بات جب امام محمد کو پہنچی آپ کو بہت شاق گزری اور اس کا عملی جواب دینے کے لیے السیرالکبیرتصنیف فرمائی۔ آپ کی یہ کتاب جب عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعی نے مطالعہ فرمائی تو وہ حیرت زدہ رہ گئے اور فرمایا:اگر اس کتاب میں احادیث صحیح نہ ہوتیں تو میں کہہ دیتا کہ وہ من گھڑت علم سے کام لیتے ہیں بے شک ﷲ تعالیٰ نے آپ کی رائے کو صحیح جواب کے لیے متعین فرمایا ہے۔ اﷲ رب العزت نے صحیح فرمایا (وَفَوْقَ کُلِّ ذِیۡ عِلْمٍ عَلِیۡمٌ اس کتاب کو تصنیف فرمانے کے بعد امام محمد نے اس کوساٹھ جلدوں (دفتروں) میں لکھوایا اور اس کو خلیفہ وقت کے دربار میں بھجوایا۔ خلیفہ وقت نے اسے بے حد پسند کیا اور اس کو اپنے زمانہ حکومت کا عظیم اور قابلِ فخر کارنامہ قرار دیا۔[1]

تکمیل کتاب[ترمیم]

دنیائے اسلام میں اس کتاب کا غیر معمولی استقبال کیا گیا۔ اس کتاب کی تکمیل کے موقع پر بڑا جشن منایا گیا۔ کیوں کہ اس موضوع پر اس سے پہلے اتنی ضخیم اور مفصل کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔ جس دن یہ کتاب مکمل ہوئی اس دن پورے بغداد میں خوشیاں منائی گئیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے خود بھی اس جشن میں حصہ لیا۔ امام محمد کے گھر سے سرکاری طور پر ایک جلوس نکالا گیا جس میں اس کتاب کی جلدیں رکھی گئیں اور لوگ اس کتاب کر جلوس کی شکل میں خلیفہ کے ہاں گئے اور امام محمد نے یہ کتاب ہارون الرشید کو پیش کی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مجموعۃ رسائل ابن عابدین، الرسالۃ الثانیۃ:شرح عقود رسم المفتی،ج1،ص19
  2. محمود احمد غازی۔ محاضرات فقہ۔ لاہور: الفیصل ناشران۔ صفحہ 187-88۔ آئی ایس بی این 969-503-399-7۔ |pages= اور |page= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)