صحیفہ ہمام ابن منبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(الصحیفۃ الصحییحہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
صحیفہ ہمام ابن منبہ
Title of Sahifah Hammam ibn Munabbih.jpg
مصنف ہمام بن منبہ
زبان عربی
موضوع احادیث نبوی
ناشر المکتب الاسلامی، بیروت، لبنان
تاریخ اشاعت
محرم الحرام 1406ھ/ ستمبر 1985ء
1407ھ/ 1987ء (آخری بار)
صفحات 72

صحیفہ ہمام ابن منبہ جس کا اصل نام الصحیفۃ الصحییحہ ہے۔ یہ ہمام بن منبہ، ابوہریرہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد ابوہریرہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ہجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کا ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933ء میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔ اس صحیفے میں کل 138 احادیث ہیں۔ عبد الرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں:

صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے، ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب دیکھیے احمد بن حنبل کا سن وفات 240ھ ہے۔ بعینہ صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے۔ اور دو سو سال کے عرصے میں صحیفہ ہمام بن منبہ کی روایات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے ہی امام موصوف تک منتقل ہوتی رہیں۔ اب دونوں تحریروں میں کمال یکسانیت کا ہونا کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ زبانی روایات کا سلسلہ مکمل طور پر قابل اعتماد تھا۔
صحیفہ کی اشاعت اور تقابل کے بعد دو باتوں میں ایک بات بہرحال تسلیم کرنا پڑتی ہے:
1 : زبانی روایات ، خواہ ان پر دو سو سال گزر چکے ہوں ، قابل اعتماد ہو سکتی ہیں۔
2 : یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا۔[1]

جامعہ الازہر کے معروف عالم ڈاکٹر رفعت فوزی عبد المطلب اس مطبوعہ صحیفے کی تحقیق، تخریج اور شرح کا کام کر رہے تھے اور وہ آدھا کام کر چکے تھے، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ "دارالکتب المصریہ" سے ایک اور مخطوطہ ان کے ہاتھ لگ گیا جو سن 557 ہجری کا مکتوب تھا۔ اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔ صحیفہ ہمام بن منبہ کی 139 احادیث کی تفصیل کچھ یوں ہے :

  • 61 - عقائد و ایمانیات
  • 46 - عبادات
  • 9 - معاملات
  • 17 - اخلاق و آداب
  • 9 - متفرقات
  • 12 - احادیث قدسیہ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئینۂ پرویزیت ، ص:533-534
  2. صحیفہ ہمام بن منبہ،حافظ عبد اللہ شمیم،ناشر: انصار السنہ پبلیکیشنز لاہور