العصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عصر
نام کے معنیزمانہ
زمانۂ نزولابتدائی مکی دور
اعداد و شمار
عددِ سورت103
عددِ پارہ30
سجودکوئی نہیں
الفاظ14
حروف68
گذشتہالتکاثر
آئندہالھمزہ

سورہ عصر (عربی:العصر) قرآن مقدس کی ترتیب کے لحاظ سے ایک سو تین نمبر سورہ ہے۔ یہ نام سورہ کی پہلی آیت کے لفظ العصر سے ماخوذ ہے۔

نزول

زمانۂ نزول

اگرچہ مجاہد، قتادہ اور مقاتل نے اسے مدنی کہا ہے، جمہور مفسرین نے اسے مکی قرار دیا ہے اور اس کا مضمون بھی اس کی تاہید کرتا ہے کہ یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ۔

شان نزول

کلاہ بن اسید جس کی کنیت ابوالاسدین تھی۔ عہد جاہلیت میں حضرت ابو بکر سے اس کی کافی دوستی تھی، ابو بکر صدیق کے اسلام میں آجانے کے بعد، وہ آپ کوسمجھانے آیا کہ تم تاجر ہو اور تجارت میں ہر سودا تم نے نفع بخش کیا ہے، مگر اسلام قبول کرنا نقصان کا سودا ہے اور تم نے اپنے آباء و اجداد کا طریقہ چھوڑ دیا ہے۔ ۔۔۔، ابو بکر نے جواب دیا جو شخص حق کو قبول کر لیتا ہے اور ثابت قدمی سے راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے، وہ زیان کار نہیں ہوتا، جس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔[1]

مضامیں

یہ سورت جامع اور مختصر کلام کا بے نظیر نمونہ ہے۔ اس کے اندر چند جچے تُلے الفاظ میں معنی کی ایک دنیا بھر دی گئی ہے۔ اس میں بالکل دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی فلاح کا راستہ کون سا ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا راستہ کون سا۔ امام شافعی نے بہت صحیح کہا ہے کہ اگر لوگ اس سورت پر غور کریں تو یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابۂ کرام کی نگاہ میں اس کی اہمیت کیا تھی، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن حصن الدارمی ابو مدینہ کی روایت کے مطابق اصحاب رسول میں سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورۂ عصر نہ سنا لیتے (طبرانی)۔

ترجمہ

عام الفاظ میں

بڑا مہربان نہایت رحم والا اللّہ کا نام سے

1: زمانہ کی قسم ہے

2: یقینا ہر انسان خسارے میں ہے

3: مگر جو لوگ مؤمن ہيں اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے.[2]

مزید پراکرت اور تدبھو الفاظ میں

پرم کرپال اپار دیاوان اللّہ کا نام سے

1: شپتھ ہیں اپراہن کے

2: نِسّںدیہ ہر مانو گھاٹا میں ہیں

3: بنا ان لوگوں جو ہیں وِشواسی اور کرتے ہیں اچّھائی اور سچّائی و سہنتا کا اُپدیش دیتے رہے ہیں.[3]

حوالہ جات

  1. شاہ عبد العزیز دہلوی، تفسیر عزیزی
  2. "Quran bw". اخذ شدہ بتاریخ 01 مارچ 2022. 
  3. "Islamic blog". Islamic blog. اخذ شدہ بتاریخ 01 مارچ 2022.