الغ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن تغلق، جو تخت نشینی سے قبل الغ خان کے نام سے مشہور تھے ان سے مغالطہ نہ کھائیں۔
الپ خان، جن کو جیمز مک نیب کیمپ بیل نے اپنی تحریروں میں غلطی سے الغ خان سمجھ کر ذکر کیا ہے ان سے مغالطہ نہ کھائیں۔
الغ خان
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 13  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1315 (113–114 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خلجی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ جرنیل  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری سلطنت دہلی  ویکی ڈیٹا پر وفاداری (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں معرکہ کلی  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

الماس بیگ (وفات: 1301ء یا 1302ء) جو اپنے لقب الغ خان سے معروف ہیں، سلطنت دہلی کے فرماں روا علاء الدین خلجی کے بھائی اور سالار تھے۔ انہیں بیانا کا اقطاع حاصل تھا۔ سنہ 1296ء میں علاء الدین خلجی کے سلطنت دہلی کی تخت نشینی میں الغ خان کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ الغ خان سلطان جلال الدین خلجی کو بہلا پھسلا کر کڑا لے آئے جہاں علاء الدین نے انہیں قتل کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے ملتان کا انتہائی کامیاب محاصرہ کیا اور جلال الدین کے خاندان کے بچ رہنے والے افراد کو زیر کر لیا۔

سنہ 1298ء میں خانیت چغتائی کی جانب سے منگول ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔ چنانچہ الغ خان ان منگولوں کے خلاف ڈٹے رہے، بالآخر ان منگولوں کو پسپا ہونا پڑا۔ علاء الدین کی اس فتح نے ان کے قد کو مزید بلند کر دیا۔ اگلے سال الغ اور نصرت خان نے متمول صوبہ گجرات پر حملہ کیا۔ اس فتح کے نتیجے میں علاء الدین کے شاہی خزانے بھر گئے۔ نیز الغ خان نے منگولوں کے خلاف معرکہ کلی میں بھی فوجی کمک کی قیادت تھی اور محاصرہ رنتھمبور (1301ء) کے ابتدائی مرحلوں کے کماندار رہے تھے۔ رنتھمبور کی مہم ختم ہونے کے کچھ مہینوں بعد الغ خان کا انتقال ہو گیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

الغ خان کا اصل نام الماس خان تھا۔ ان کے والد شہاب الدین مسعود خلجی خاندان کے بانی سلطان جلال الدین خلجی کے بڑے بھائی تھے۔ علاء الدین خلجی کے علاوہ الغ کے مزید دو بھائی قطلغتگین اور محمد بھی تھے۔[1]

علاء الدین اور الغ خان دونوں کا نکاح جلال الدین خلجی کی بیٹیوں سے ہوا تھا۔ جب جلال الدین سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے علاء الدین کو امیر تزک اور الماس بیگ کو آخور بیگ (شہ سوار) کے منصب عطا کیے۔[2]

علاء الدین کی تخت نشینی[ترمیم]

سنہ 1291ء میں سلطان جلال الدین خلجی نے علاء الدین کو صوبہ کڑا کا حاکم بنایا۔ اگلے کچھ برس میں علاء الدین نے جلال الدین خلجی کو تخت سے ہٹانے کی سازش رچی۔ سنہ 1296ء میں علاء الدین دیوگیری پر حملہ آور ہوا، فتح کے بعد ہاتھ آئے مال غنیمت کو بجائے دلی بھیجنے کے کڑا لے آیا اور یہاں سے سلطان کو معذرت نامہ روانہ کر دیا۔[3] تاہم الغ خان نے سلطان کو یقین دلایا کہ علاء الدین باغی نہیں ہوا ہے۔ نیز انہوں نے سلطان کو یہ کہہ کر کڑا جانے کے لیے رضامند کر لیا کہ اگر سلطان خود کڑا جا کر علاء الدین کو معاف نہ کریں تو وہ اس احساس جرم کی وجہ سے خود کشی کر لے گا۔ چنانچہ سلطان کڑا پہنچے جہاں علاء الدین نے 20 جولائی 1296ء کو انہیں قتل کر دیا۔[4]

بعد ازاں جب علاء الدین خلجی سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی الماس کو "الغ خان" (عظیم خان[5]) کا خطاب دے کر بار بیگ بنا دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ۔ 326.
  2. Kishori Saran Lal 1950، صفحہ۔ 41.
  3. Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ۔ 323.
  4. Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ۔ 324.
  5. Sunil Kumar 2013، صفحہ۔ 61.

کتابیات[ترمیم]

  • Asoke Kumar Majumdar۔ Chaulukyas of Gujarat۔ Bharatiya Vidya Bhavan۔ OCLC 4413150۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Banarsi Prasad Saksena۔ "The Khaljis: Alauddin Khalji"۔ بہ Mohammad Habib and Khaliq Ahmad Nizami (مدیر۔)۔ A Comprehensive History of India: The Delhi Sultanat (A.D. 1206-1526)۔ The Indian History Congress / People's Publishing House۔ OCLC 31870180۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Edward Clive Bayley۔ The Local Muhammadan Dynasties - Gujarát۔ The History of India as Told by Its Own Historians۔ W.H. Allen and Co.۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Dasharatha Sharma۔ Early Chauhān Dynasties۔ S. Chand / Motilal Banarsidass۔ ISBN 9780842606189۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Kishori Saran Lal۔ History of the Khaljis (1290-1320)۔ Allahabad: The Indian Press۔ OCLC 685167335۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Peter Jackson۔ The Delhi Sultanate: A Political and Military History۔ Cambridge University Press۔ ISBN 978-0-521-54329-3۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  • Sunil Kumar۔ "The Ignored Elites: Turks, Mongols and a Persian Secretarial Class in the Early Delhi Sultanate"۔ بہ Richard M. Eaton (مدیر۔)۔ Expanding Frontiers in South Asian and World History۔ Cambridge University Press۔ ISBN 978-1-107-03428-0۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)