الفوز الکبیر فی اصول التفسیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الفوز الکبیر فی اصول التفسیر اصول تفسیر کی ایک مشہور و معروف کتاب ہے جسے احمد بن عبد الرحیم یعنی شاہ ولی اللہ دہلوی (1114 – 1176ھ / 1703-1762ء) نے تحریر کی ہے۔ یہ کتاب فنِّ اصولِ تفسیر میں نہایت ہی جامع اور مختصر اور نادر اصول وضوابط سے پُر ہے۔ عمومی خیال ہے کہ فہمِ قرآن کے حوالے سے تنہا اس کتاب کا مطالعہ، بہت سی اصول تفسیر کی کتابوں اور تفسیروں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب عام طور پر مدارس اسلامیہ میں داخلِ نصاب ہے اور بڑی اہمیت کے ساتھ اب تک پڑھائی جاتی ہے۔ یہ کتاب اصولِ تفسیر سے رغبت رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔ یہ کتاب نہ صرف برّ صغیر؛ بلکہ عرب اور افریقی و یورپی ممالک میں بھی متعارف ہے۔ شاہ صاحب نے اصلًا یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی تھی؛ اِس لیے کہ اُس وقت ہندوستان میں فارسی زبان کی حیثیت مادری زبان کی سی تھی۔

ابواب[ترمیم]

الفوز الکبیر پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ ان پانچ ابواب سے کتاب کی اہمیت وجامعیت کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ وہ پانچ ابواب مع اردو ترجمہ بالترتیب درج ذیل ہیں۔

  1. الباب الأول: في بیان العلوم الخمسة التي يدل عليها القرآن العظیم نصاً، وكأنّ نزول القرآن بالإصالة كان لهذا الغرض (ترجمہ: باب اوّل: ان پانچ علوم کے بیان میں ہے، قرآن عظیم جن پر باعتبار نص کے دلالت کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اصلا قرآن عظیم کا نزول اسی مقصد کے ہوا ہے۔)
  2. الباب الثاني: في بیان وجوه الخفاء في معاني نظم القرآن بالنسبة إلى أهل هذا العصر، وإزالة ذلك الخفاء بأوضح بيان (ترجمہ: باب دوم: اپنے زمانے کے لوگوں کے اعتبار سے، ان دشواری کے وجوہات کے بیان میں ہے جو نظم قرآن کے معانی میں پیش آتی ہے اور نہایت وضاحت کے ساتھ اس دشواری کو حل کرنے کے بیان میں ہے۔)
  3. الباب الثالث: في بيان لطائف نظم القرآن، وشرح أسلوبه البدیع، بقدر الطاقة والإمکان (ترجمہ: باب سوم: (انسانی) طاقت اور امکان کے بقدر نظم قرآن کے لطائف اور اس کے انوکھے اسلوب کی وضاحت کے بیان میں ہے۔)
  4. الباب الرابع: في بیان مناهج التفسير، وتوضیح الاختلاف الواقع في تفاسير الصحابة والتابعين. (ترجمہ: باب چہارم: تفسیر کے طریقوں اور صحابہ وتابعین کی تفاسیر میں واقع ہونے والے اختلاف کی وضاحت کے بیان میں ہے۔)
  5. الباب الخامس: في ذكر جملة صالحة من شرح غریب القرآن، وأسباب النزول التي یجب حفظها علی المفسر، ويمتنع ویحرم الخوض في كتاب الله بدونها (ترجمہ: باب پنجم: قرآن کریم کے غریب (دشوار فہم الفاظ) کی تشریح کی وافر مقدار اور ان اسباب نزول کے بیان میں ہے جن کو مفسر کے لیے یاد کرنا ضروری ہے۔ ان کےبغیر قرآن کریم میں غور وخوض کرنا ممنوع اور حرام ہے۔)

نوٹ: ناشرین حضرات کتاب کا پانچواں باب شائع نہیں کرتے ہیں؛ کیوں کہ پانچواں باب شاملِ نصاب نہیں ہے۔ نیز شاہ ولی اللہ نے بھی پانچویں باب کو ایک مستقل علاحدہ رسالہ شمار کر کے اسے: "فتح الخبیر" کے نام سے موسوم کیا ہے۔

عربی مترجمین[ترمیم]

جس وقت یہ کتاب لکھی گئی تھی، اس وقت ہندوستان میں فارسی زبان لکھی، بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ پھر رفتہ رفتہ فارسی زبان کا چلن باقی نہیں رہا؛ چناں چہ متعدّد اہل علم نے اِس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ کیا؛ تاکہ اس کی افادیت باقی رہے اور علما و طلبہ اس سے مستفید ہوتے رہیں۔ درج ذیل علما کرام نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔

  1. محمد منیر دمشقی
  2. مفتی سعید احمد پالنپوری
  3. سلمان حسینی ندوی
  4. اعزاز علی امروہوی (مبحث "الحروف المقطعات" فقط)۔

مصنف نے کتاب کا پانچواں باب عربی زبان میں ہی تحریر کیا تھا۔

اردو تراجم و شروحات[ترمیم]

اردو زبان میں اس کتاب کے کئی ترجمے دست یاب ہیں۔ مولانا سعید انصاری نے اس کتاب کا لفظی ترجمہ کیا۔ پروفیسر مولانا محمد رفیق چودھری نے بھی اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے جو آسان اور عام فہم ہے مگر ترجمہ سے کہیں زیادہ ترجمانی ہے۔ یہ ترجمہ مطبوعہ اور عام طور پر دست یاب ہے۔ مولانا یاسین اختر مصباحی نے بھی الفوز الکبیر اصل فارسی عبارت کو پیشِ نظر رکھ کر اس کا عمدہ اردو ترجمہ کیا ہے۔ مولانا مصباحی نے اپنے اردو ترجمہ کے اخیر میں کتاب کا عربی ترجمہ از امحمد منیر الدین دمشقی کو بھی شامل اشاعت کیا ہے۔

اردو زبان میں اس کتاب کی کئی شروحات میں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

صوفی عبد الحمید سواتی صاحب نے اس کتاب کی شرح لکھی ہے جو "عون الخبیر"، اردو شرح "الفوز الکبیر في أصول التفسیر" کے نام سے چھپ چکی ہے۔ خورشید انور قاسمی فیض آبادی نے بھی اس کتاب کی شرح تحریر کی ہے جو "الفوز العظیم" اردو شرح "الفوز الکبیر في أصول التفسیر" کے نام سے شائع ہوئی۔ مفتی محمد امین صاحب پالن پوری استاذ حدیث دار العلوم، دیوبند نے بھی اردو زبان میں اس کتاب کی ایک ضخیم اور عمدہ شرح بنام: "الخیر الکثیر" تحریر کی۔ یہ شرح بھی چھپ چکی ہے۔

واضح رہے کہ مفتی سعید احمد پالن پوری نے اس کتاب کی شرح عربی زبان میں بنام: "العون الکبیر" تحریر کی اور حسب ضرورت کتاب پر حاشیہ بھی درج کیا۔

اہمیت وافادیت[ترمیم]

مصنّفِ کتاب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مقدمہ میں حمد وصلاۃ کے بعد اس کتاب کی اہمیت وافادیت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

لما فتح الله تعالى عليّ بابا من كتابه المجید، خطر ببالي أن أجمع وأقيّد بعض النّكات النّافعة التي تنفع الأصحاب في رسالة مختصرة، والمرجوّ من لطف الله –الذي لا انتهاء له–، أن يفتح لطلبة العلم، بمجرّد فهم هذه القواعد، شارعا واسعا في فهم معاني كتاب الله، بحیث لو صرفوا عمرهم في مطالعة التفاسیر، والقراءة علی المفسّرین علی أنّهم أقلّ قلیل في هذا الزمان، لم تتحصّل لهم هذه الفوائد بهذا الضبط والربط. (الفوز الکبیر في أصول التفسیر، ص: 11، مکتبة البشری، کراتشی، باکستان)

ترجمہ: جب اللہ تعالی نے مجھ پر اپنی کتاب مجید کے (سمجھنے کا) دروازہ کھولا؛ تو میرے دل میں خیال آیا کہ میں اُن بعض مفید نکات کو جو دوستوں کے لیے فائدہ مند ہیں، ایک مختصر رِسالہ میں، جمع کروں اور قید تحریر میں لاؤں۔ اللہ کی نوازش –جس کی کوئی انتہا نہیں ہے– سے امید ہے کہ صرف اُن قواعد کے سمجھ لینے سے، قرآن کریم کے معانی کے سمجھنے میں، اللہ تعالی طالب علموں کے لیے ایسی کشادہ راہ وا کر دیں گے کہ اگر وہ اپنی عمر تفسیروں کے مطالعہ کرنے اور مفسروں سے پڑھنے میں ختم کر دیں –باوجود اس کے کہ اس زمانے میں اس طرح کے لوگ بہت ہی کم ہیں–؛ تو بھی ان کو اِس ربط وضبط کے ساتھ یہ فائدے حاصل نہیں ہوں گے۔

عبید اللہ سندھی "الفوز الکبیر في أصول التفسیر" کی اہمیت وافادیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے مقالہ: "امام ولی اللہ کی حکمت کا اجمالی تعارف" میں لکھتے ہیں:

"ہم نے مولانا شیخ الہند قدس سرہ سے اصول تفسیر پر کتابیں مانگیں۔ آپ نے کتاب "الاتقان في علوم القرآن"، از: حافظ جلال الدین (عبد الرحمن بن ابی بکر سیوطی متوفی سن 911) ہمیں مرحمت فرمائی۔ میں نے پوری کوشش سے ساری کتاب بارہا پڑھی، سوائے چند اوراق کے، مجھے اس میں کوئی چیز دلچسپ نظر نہ آئی، جسے اصول کا درجہ دیا جاسکے۔ یہ زمانہ ایسا تھا کہ میں اصول فقہ سے فارغ ہوکر، اس میں ایک مستقل تصنیف لکھ چکا تھا۔ اسی زمانہ میں حضرت مولانا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ایک مختصر سا رسالہ اصول تفسیر میں، شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی لکھا ہے، جس کا نام "الفوز الکبیر" ہے۔

یہاں میں خیال کرتا ہوں کہ حضرت مولانا قدس سرہ کی عادت مبارکہ کا ضمنا ذکر کروں۔ آپ جانتے تھے کہ امام فخر الدین رازی اور علامہ (مسعود بن عمر المتوفی 791) تفتازانی کو عموما طلبہ میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان نام بردہ حضرات کے مقابلہ میں طلبہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ نجم الائمہ شیخ الہند اگر کسی مسئلے میں امام رازی یا علامہ تفتازانی کی تغلیط کرتے تو مبہم طور پر یہ فرماتے کہ محققین کی رائے اس مسئلہ میں یوں ہے۔ طلبہ سمجھتے کہ یہ محققین ان حضرات سے بھی کوئی متقدم ہستیاں ہوں گی۔ میں ایک لمبے عرصے کے بعد متفطن ہوا کہ محققین سے مراد حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد قاسم اور ان کے اساتذہ کرام اور مشائخ عظام ہیں جو شاہ ولی اللہ صاحب پر ختم ہوجاتے ہیں۔

یہ باعث تھا کہ آپ نے "الفوز الکبیر" مجھے شروع میں عطا نہ کی بلکہ فقط اس کا تذکرہ کر دیا۔ جب میں سندھ پہنچا؛ تو مجھے "فوز کبیر" کا نسخہ ملا۔ اس سے پیشتر میں امام رازی کی تفسیر کا مطالعہ کرکے کافی پریشان ہوچکا تھا۔ فصل اوّل کا مطالعہ ختم کرلینے کے بعد، میں مطمئن ہو گیا کہ ان شاء اللہ علم تفسیر مجھے آسکتا ہے۔ پھر اس دن سے آج تک میں ان کے مسلک سے باہر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرسکا۔" (الفرقان، بریلی کا شاہ ولی اللہ نمبر، ص: 247-248، ج: 7، شمارہ نمبر: 9-12، رمضان-ذی الحجۃ، 1359)

حوالہ جات[ترمیم]

1۔ الفوز الکبیر في أصول التفسیر، مکتبۃ البشری، کراتشی، باکستان
2۔ ترجمہ الفوز الکبیر از مولانا محمد رفیق چودھری صاحب، مکتبہ قرآنیات، لاہور، پاکستان
3۔ الخیر الکثیر، اردو شرح الفوز الکبیر از مفتی محمد امین صاحب پالن پوری، دار الاشاعت، کراچی، پاکستان
4۔ الفرقان، بریلی (لکھنؤ) کا شاہ ولی اللہ نمبر، (ص: 247-248)