مائی اللہ وسائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اللہ وسائی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مائی اللہ وسائی
مائی اللہ وسائی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1928  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ضلع سجاول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 29 اپریل 2003 (74–75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات گلے کا سرطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل نیم کلاسیکی موسیقی،  لوک موسیقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

مائی اللہ وسائی (انگریزی: Mai Allah Wassai) (پیدائش1928ء-وفات: 29 اپریل 2003ء) سندھ پاکستان کی مشہور و معروف لوک اور نیم کلاسیکی کلوکارہ تھی جس نے اپنے منفرد انداز گائیکی کی وجہ سے بڑی مقبولیت حاصل کی[1][2][3]

حالات زندگی[ترمیم]

مائی اللہ وسائی برطانوی ہندوستان میں موجودہ تحصیل اور ضلع سجاول، سندھ پاکستان کے گاؤں محمد شاہ ڈھڈھڑ میں 1928ء میں خموں میر بحر (مچھیرا) کے گھر میں پیدا ہوئی۔ خموں نڑ (بین کی قسم)بجانے اور بنانے کا ماہر تھا۔ مائی اللہ وسائی نے 12 سال کی عمر میں گانے کی تربیت حاصل کرنا شروع کی اور 20 سال کی عمر میں باقاعدہ گانا شروع کیا۔[4] مائی اللہ وسائی نے گانے کی تربیت وقت کے کائک استاد حاجی ماڑیچو اور استاد فداحسین سے حاصل کی۔ انہوں نے ڈھولک نواز یا طبلہ نواز استاد خمیسو چانڈیو سے شادی کی۔ مائی اللہ وسائی نے 300[1] سے زیادہ کلام گائے جو ریڈیو پاکستان حیدرآباد، سندھ اور پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کراچی سینٹر سے نشر ہوئے۔[4] اس کی مدھر آواز سندھ کے کونے کونے میں پھیلی۔ مائی اللہ وسائی کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوئی اور وفات پائی۔[4]

انعامات[ترمیم]

مائی اللہ وسائی سندھ کے ہر شہر میں گانے جاتی تھی۔ اس کی آواز ریڈیو اور ٹی وی کے دوش ہواؤں میں پھیلی اور گلی کونچوں تک پنہچی۔[5] انسٹی ٹیوٹ آف سندھالاجی، جامعہ سندھ جامشورو نے 1999ء میں مائی اللہ وسائی کے گائے ہوئے کلام کی آڈیو کیسیٹ جاری کی۔[6] مائی اللہ وسائی کو وفات کے حکومت پاکستان نے 23 مارچ 2007ء میں تمغا امتیاز سے نوازا۔[7] اللہ وسائی مائی کو 2004ء میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس میں استاد بخاری کے کلام گانے پر شاہ لطیف ایوارڈ دیا گیا۔[8]

وفات[ترمیم]

مائی اللہ وسائی گلے کے کینسر میں مبتلا ہو کر 29 اپریل، 2003ء پر انتقال کر گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]