المبسوط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

المبسوط (الاصل فی الفروع) یہ کتاب قاضی ابو یوسف کی تصنیف ہے جن کے مسائل کو امام محمد نے زیادہ توضیح اور خوبی سے لکھا ہے۔

مصنف[ترمیم]

اس کتاب کو الاصل فی الفروع بھی کہا جاتا ہے جو امام محمد بن حسن شیبانی نے لکھی یہ کتاب ظاہر روایت کی 6 کتابوں کا حصہ بھی ہے

اصل کہنے کی وجہ[ترمیم]

کتاب الاصل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کو "اصل"اس لیے کہا جاتاہے کہ امام محمد نے سب سے پہلے اسی کو تصنیف کیا۔ اس میں آپ نے سینکڑوں مسائل سے متعلقہ امام اعظم ابوحنیفہ کے فتاویٰ جات جمع کیے ہیں نیز ایسے مسائل بھی ذکر کیے ہیں جو ان کے اور امام ابویوسف کے درمیان اختلافی ہیں۔ اور جس مسئلے میں امام محمد نے اختلاف ذکر نہیں کیا وہ سب کا متفقہ ہوتاہے۔

فقہ حنفی میں مقام[ترمیم]

جہاں فقہ حنفی کی کتابوں میں مطلق مبسوط کا حوالہ ہو اس سے مراد امام محمد کی مبسوط ہو گی اور جہاں ہدایہ کی شرح میں مبسوط ہو گا اس سے مراد شمس الائمہ محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی کی مبسوط ہوگی، اس کی کئی شروحات لکھی گئیں جیسے شیخ الاسلام بکر المعروف خواہر زادہ نے شرح لکھی جسے مبسوط کبیر کہا جاتا ہے اس کے علاوہ شمس الائمہ حلوانی نے بھی شرح لکھی۔[1] (الاصل فی الفروع): کے نام سے نسخہ ترکی کے شہر استنبول میں موجود ہے، دوسرا نسخہ جامع ازہر میں بھی موجود ہے لیکن ناقص ہے۔ استنبول والے نسخہ کی چھ جلدیں ہیں جن میں سے چار جلدیں دائرہ معارف العثمانیہ حیدرآباد سے شائع ہو چکی ہیں جو کتاب المعاقل پر ختم ہوتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مؤطا امام محمد، امام محمد بن حسن شیبانی، صفحہ 33، فرید بکسٹال لاہور