المتوکل علی اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

متوکل عباسی[ترمیم]

المتوکل علی اللہ
(عربی میں: أبو الفضل جعفر المتوكل على الله ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Dinar of Al-Mutawakkil, AH 232-247.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 31 مارچ 822  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سامراء  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 دسمبر 861 (39 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سامراء  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد منتصر باللہ،  المعتز باللہ،  المؤید،  المعتمد علی اللہ،  الموفق باللہ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد المعتصم باللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
خلیفہ خلافت عباسیہ (بغداد)   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
10 اگست 847  – 10 دسمبر 861 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png المعتصم باللہ 
منتصر باللہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

ابوجعفر المتوکل علی اللہ (پیدائش: 31 مارچ 822ء— وفات: 10 دسمبر 861ء) خلافت عباسیہ کا دسواں خلیفہ تھا جس نے 847ء سے 861ء تک حکومت کی۔

متوکل عباسی ، ابو الفضل جعفر ابن معتصم (206-247 ہجری) ، دسواں عباسی خلیفہ اور علی ابن ابی طالب (ع) کے اہل خانہ کا سخت ترین دشمن تھا ۔ اس نے 15 سال حکومت کی۔ ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہنے والا یہ شخص لہو و لہب کا دلدادہ اور عیاش ترین آدمی تھا- عباسی خلفا میں سے یہ ایک بد سیرت اور ظالم ترین حکمران تھا – امیر المومنین علیہ السلام نے اس کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی تھی کہ”آل عباس میں سے یہ ایک بد ترین اور کافر ترین مرد ہو گا”، متوکل کی خباثتوں میں سے ایک خباثت یہ بھی تھی کہ یہ جناب امیر (ع) کو ہمیشہ برائی سے یاد کرتا تھا اور برا بھلا کہتا تھا۔

اس نے عمرو بن فرج کو مکہ اور مدینہ کا حاکم مقرر کیا تھا جس نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ کوئی شخص آل ابی طالب پر کوئی احسان نہ کرے – اگر کسی نے تھوڑا سا بھی احسان کیا تو اسے سخت تر سزا دی جائے گی – آل ابی طالب پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا – حالت یہ تھی کہ ان کی عورتوں کے کپڑے بوسیدہ ہو کر تار تار ہو گئے تھے اور وہ چادریں اوڑھ کر نماز ادا کرتی تھیں- کپڑوں کو پیوند پے پیوند لگاتی تھیں تاہم جب یہ ملعون متوکل واصل جہنم ہوا تو ان کو سکھ کا سانس نصیب ہوا –

کربلا معلیٰ میں روضہ امام حسین (ع) کو سترہ بار منہدم کروانا[ترمیم]

سنہ 236 ہجری میں ،اس نے امام حسین (ع) کے روضہ اقدس کو ختم کرنے اور اس کے آس پاس کے مکانات کو منہدم کرنے کے لئے کربلا معلیٰ میں زراعت کا حکم دیا۔ اس ملعون نے امام حسینؑ کی تربت اطہر کو 17 مرتبہ شہید اور مسمار کروایا اور تربت پے ہل چلوایا اور پانی تک جاری کروایا- جب بھی یہ تربت اطہر کو مسمار کرتا لوگ دوبارہ اسے تعمیر کر دیتے – یہی وہ خبیث تھا جو زائرین حسینی کے ہاتھ کٹوا دیتا –

اکثر یہ ایسی محفلیں منعقد کرتا جن میں جناب امیر (ع) پے سب و شتم کیا جاتا-

متوکل نے سرکاری طور پر اعلان کروایا تھا کہ اسلام میں صرف تین خلیفہ ہیں – ایک ابوبکر صدیق ، دوسرے عمر الخطاب اور تیسرا متوکل علی الله جعفر-

متوکل عباسی کے دور میں اللہ کا عذاب[ترمیم]

اس کے دور میں اس کی سلطنت میں کی ایک بار عذاب الہی ، شدید زلزلے، قحط اور باد سموم کی صورت میں بھی نازل ہوا مگر اس کو کوئی نصیحت نہ ہوئی – آسمان سے ستارے ٹوٹ کے ٹڈیوں کی طرح زمین پر گرے جس سے لوگ زخمی اور ہلاک ہوے – آسمان سے دلدوز اور کان پھاڑ دینے والی چیخیں سنی گیں مگر اس حرامزادے کے کان پر جوں تک نہ رینگی – عراق میں مرغی کے انڈے کے برابر اولے گرے جس سے کئی آبادیاں زمین بوس ہو گیں – ٢٤٢ ہجری میں ایک ایسا زبردست زلزلہ آیا جس سے تونس ، رے ، طبرستان ، نیشا پور، خراسان اور اصبہان وغیرہ کی بنیادیں ہل گیں-

مصر کے علاقے سویدا میں آسمان سے پتھروں کی بارش ہوئی جس میں ایک ایک پتھر کا وزن چار سے پانچ سیر تھا – حلب میں ایک مردار خور پرندہ ظاہر ہوا جو چیخ چیخ کر لوگوں سے کہتا تھا ”لوگو خدا سے ڈرو” یہ پرندہ چالیس مرتبہ یہ صدا لگاتا اور غائب ہو جاتا – مسلسل دو دن لوگوں نے اس پرندے کو دیکھا اور پھر متوکل کو اطلاع دی مگر اس نے کوئی اثر نہ لیا-

اپنے بچوں کے استاد کو محبتِ اہل بیتؑ کے جرم میں قتل کروانا[ترمیم]

٢٤٤ ہجری میں متوکل نے اپنے لڑکوں کے استاد یعقوب بن سکیت کو قتل کروایا جس کا قصور یہ تھا کہ ایک دن متوکل نے یعقوب سے پوچھا کہ میرے بیٹے معتز اور موید اچھے ہیں یا حسن اور حسین –

یعقوب نے کہا کہ ان سے تو علیؑ کے غلام قنبر ہی اچھے تھے-

یہ سننا تھا کہ متوکل نے اپنے ترکی غلاموں کو حکم دیا کہ یعقوب کو اتنا کچلو کہ اس کا دم نکل جائے- تاہم کچھ روایات میں یہ ہے کہ ابن سکیت کی زبان گدی سے کھنچوا کر قتل کیا گیا-

متوکل عباسی کی موت[ترمیم]

متوکل نے اپنی سلطنت کے تمام عیسائی باشندوں کو حکم دیا تھا کہ وہ لازمی گلے میں ٹائی باندھیں –

اس کے حرم میں چار ہزار لونڈیاں تھیں جن سے یہ صحبت کر چکا تھا- علی بن جہم کا بیان ہے کہ متوکل ، اپنے بیٹے معتز کی ماں قبیحہ جو کہ اس کی داشتہ اور ام ولد تھی سے بے انتہا صحبت کیا کرتا تھا حالانکہ یہ عورت انتہائی بدصورت تھی اور چہرے پر چیچک کے داغ بھی تھے – اس عورت سے بے پناہ صحبت کی وجہہ سے متوکل اس کے بیٹے کو خلافت سونپنا چاہتا تھا – ایک بار متوکل نے اپنے بیٹے منتصر کو کہا کہ وہ اس کی بجاے معتز کو حکومت دینا چاہتا ہے جس پر باپ بیٹے میں سر دربار ہی تلخ کلامی ہو گئی اور متوکل نے منتصر کو دربار میں ہی گالیاں دیں اور باہر نکال دیا اس بات پے دل برداشتہ ہو کر منتصر نے اس کے قتل پر اپنے چند غلام ، شب منگل ماہ شوال کی تین یا چار تاریخ کو مامور کیے جنہوں نے متوکل کو اس وقت قتل کیا جب وہ شراب پینے میں مشغول تھا –

المتوکل علی اللہ
پیدائش: مارچ 822ء وفات: 10 دسمبر 861ء
مناصب سنت
ماقبل 
الواثق باللہ
خلیفہ اسلام
10 اگست 847ء10 دسمبر 861ء
مابعد 
منتصر باللہ