المدثر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
المدثر
AlMudathar.PNG
المدثر
دور نزول مکی
اعداد و شمار
عددِ سورت 74
عددِ پارہ 29
تعداد آیات 56

قرآن مجید کی 74 ویں سورت جو 29 ویں پارے میں ہے۔ اس کے 2 رکوع میں 56 آیات ہیں۔

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ المدثر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ صرف ایک نام ہے، نا کہ سورت کے موضوع کا عنوان۔

زمانۂ نزول

اس کی پہلی سات آیات مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ بعض روایات جو بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے منقول ہیں ان میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کی اولین آیات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئیں۔ لیکن امت میں یہ بات قریب قریب بالاتفاق مسلم ہے کہ پہلی وحی جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی وہ اقرا باسم ربک الذی خلق سے مالم یعلم تک ہے۔ البتہ صحیح روایات سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سر نو نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورۂ مدثر کی انہی آیات سے ہوا تھا۔ امام زہری رحمت اللہ علیہ اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں:

ایک مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کا نزول بند رہا اور اس زمانے میں آپ پر اس قدر شدید غم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرا دینے کے لیے آمادہ ہو جاتے تھے لیکن جب کبھی آپ کسی چوٹی کے کنارے پر پہنچتے جبریل علیہ السلام نمودار ہو کر آپ سے کہتے ہیں آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپ کے دل کو سکون حاصل ہو جاتا تھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دور ہو جاتی تھی

[1]

اس کے بعد امام زہری خود حضرت جابر بن عبد اللہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا: ایک روز میں راستے سے گزر رہا تھا۔ یکایک میں سے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہو گیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اُڑھاؤ، مجھے اُڑھاؤ۔ چنانچہ گھر والوں نے مجھ پر لحاف (یا کمبل) اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یاایھا المدثر ۔۔۔۔۔۔۔ پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا

[2]

سورت کا باقی ماندہ حصہ آیت 8 سے آخر تک اس وقت نازل ہوا جب اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع ہو جانے کے بعد مکہ میں پہلی مرتبہ حج کا موقع آیا۔ اس کا مفصل واقعہ سیرت ابن ہشام میں بیان کیا گیا ہے۔

موضوع اور مضمون

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پہلی وحی جو بھیجی گئی تو وہ سورۂ علق کی ابتدائی پانج آیات پر مشتمل تھی جس میں صرف یہ فرمایا گیا تھا کہ:

پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

یہ نزولِ وحی کا پہلا تجربہ تھا جو اچانک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیش آیا تھا۔ اس پیغام میں آپ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپ کس کارِ عظیم پر مامور ہوئے ہیں اور آگے کیا کچھ آپ کو کرنا ہے، بلکہ صرف ایک ابتدائی تعارف کرا کے آپ کو کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آپ کی طبیعت پر جو شدید بار اس پہلے تجربے سے پڑا ہے اس کا اثر دور ہو جائے اور آپ ذہنی طور پر آئندہ وحی وصول کرنے اور نبوت کے فرائض سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس وقفہ کے بعد جب دوبارہ نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سورہ کی ابتدائی سات آیتیں نازل کی گئیں اور ان میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اٹھیں اور خلق خدا کو اس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں، جہاں دوسروں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں، خدا کی بڑائی کا اعلان کریں۔ اس کے ساتھ آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب جو کام آپ کو کرنا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی زندگی ہر لحاظ سے انتہائی پاکیزہ ہو اور آپ تمام دنیوی فائدوں سے قطع نظر کر کے کامل اخلاص کے ساتھ خلق خدا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ پھر آخری فقرے میں آپ کو تلقین کی گئی کہ اس فریضہ کی انجام دہی میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان پر آپ اپنے رب کی خاطر صبر کریں۔

اس فرمانِ الٰہی کی تعمیل میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ نے سنانا شروع کیا تو مکہ میں کھلبلی مچ گئی اور مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ چند مہینے اس حال پر گزرے تھے کہ حج کا زمانہ آ گیا اور مکہ کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر جا جا کر آنے والے حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور حج کے اجتماعات میں جگہ جگہ کھڑے ہو کر قرآن جیسا بے نظیر اور موثر کلام سنانا شروع کر دیا، تو عرب کے ہر گوشے تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی اور نہ معلوم کون کون اس سے متاثر ہو جائے۔ اس لیے قریش کے سرداروں نے ایک کانفرنس کی جس میں طے کیا گیا کہ حاجیوں کے آتے ہی ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جائے۔ اس پر اتفاق ہو جانے کے بعد ولید بن مغیرہ نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے متعلق مختلف باتیں لوگوں سے کہیں تو ہم سب کا اعتبار جاتا رہے گا۔ اس لیے کوئی ایک بات طے کر لیجیے جسے سب بالاتفاق کہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو کاہن کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہیں، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے، جیسی وہ باتیں گنگناتے ہیں اور جس طرح کے فقرے وہ جوڑتے ہیں، قرآن کو ان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کچھ اور لوگ بولے، انہیں مجنون کہا جائے۔ ولید نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں ہیں۔ ہم نے دیوانے اور پاگل دیکھے ہیں۔ اس حالت میں آدمی جیسی بہکی بہکی باتیں اور الٹی سیدھی حرکات کرتا ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ کون باور کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جو کلام پیش کرتے ہیں وہ دیوانگی کی بڑ ہے یا جنون کے دورے میں آدمی یہ باتیں کر سکتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اچھا تو پھر ہم شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا، وہ شاعر بھی نہیں ہیں۔ ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہیں۔ اس کلام پر شاعری کی کسی قسم کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔ لوگ بولے، تو ان کو ساحر کہا جائے۔ ولید نے کہا وہ ساحر بھی نہیں ہیں۔ جادوگروں کو ہم جانتے ہیں اور اپنے جادو کے لیے جو طریقے وہ اختیار کرتے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ یہ بات بھی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر چسپاں نہیں ہوتی۔ پھر ولید نے کہا ان باتوں میں سے جو بات بھی تم کرو گے لوگ اس کو ناروا الزام سمجھیں گے۔ خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت ہے، اس کی جڑ بڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمر دار ہیں۔ اس پر ابو جہل ولید کے سر ہو گیا اور اس نے کہا تمہاری قوم تم سے راضي نہ ہوگی جب تک تم محمد کے بارے میں کوئی بات نہ کہو۔ اس نے کہا اچھا مجھے سوچ لینے دو۔ پھر سوچ سوچ کر بولا قریب ترین بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ تم عرب کے لوگوں سے کہو یہ شخص جادوگر ہے، یہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو آدمی کو اس کے باپ، بھائی، بیوی بچوں اور سارے خاندان سے جدا کر دیتا ہے۔ ولید کی اس بات کو سب سے قبول کر لیا۔ پھر ایک منصوبے کے مطابق حج کے زمانے میں قریش کے وفود حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور انہوں نے آنے والے زائرین کو خبردار کرنا شروع کیا کہ یہاں ایک ایسا شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کا جادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے، اس سے ہوشیار رہنا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام خود ہی سارے عرب میں مشہور کر دیا[3] اس قصے کا یہ حصہ کہ ابو جہل کے اصرار پر ولید نے یہ بات کہی تھی عکرمہ کی روایت سے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔

یہی واقعہ ہے جس پر اس سورت کے دوسرے حصے میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے مضامین کی ترتیب یہ ہے۔ آیت 8 سے 10 تک منکرین حق کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا برا انجام وہ قیامت کے روز دیکھ لیں گے۔

آیت 11 سے 26 تک ولید بن مغیرہ کا نام لیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس شخص کو کیا کچھ نعمتیں دی تھیں اور ان کا جواب اس نے کیسی حق دشمنی کے ساتھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کی ذہنی کشمکش کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ ایک طرف دل میں وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن کی صداقت کا قائل ہو چکا تھا، مگر دوسری طرف اپنی قوم میں اپنی ریاست و وجاہت کو بھی خطرے میں نہ ڈالنا چاہتا تھا، اس لیے نہ صرف یہ کہ وہ ایمان لانے سے باز رہا، بلکہ کافی دیر تک اپنے ضمیر سے لڑنے جھگڑنے کے بعد آخر کار یہ بات بنا کر لایا کہ خلق خدا کو اس کلام پر ایمان لانے سے باز رکھنے کے لیے اسے جادو قرار دینا چاہیے۔ اس کی اس صریح بد باطنی کو بے نقاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اپنے اس کرتوت کے بعد بھی یہ شخص چاہتا ہے کہ اسے مزید انعامات سے نوازا جائے، حالانکہ اب یہ انعام کا نہیں بلکہ دوزخ کا سزاوار ہو چکا ہے۔

اس کے بعد آیت 27 سے 48 تک دوزخ کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کس اخلاق اور کردار کے لوگ اس کے مستحق ہیں۔

پھر آیات 49 - 53 میں کفار کے مرض کی اصل جڑ بتا دی گئی ہے کہ وہ چونکہ آخرت سے بے خوف ہیں اور اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ قرآن سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے شیر سے ڈر کر جنگلی گدھے بھاگے جا رہے ہوں، اور ایمان لانے کے لیے طرح طرح کی غیر معقول شرطیں پیش کرتے ہیں، حالانکہ خواہ ان کی کوئی شرط بھی پوری کر دی جائے، انکار آخرت کے ساتھ وہ ایمان کی راہ پر ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکتے۔

آخر میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے کہ خدا کو کسی کے ایمان کی کوئی ضرورت نہیں پڑ گئی ہے کہ وہ اس کی شرطیں پوری کرتا پھرے۔ قرآن ایک عام نصیحت ہے جو سب کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس کو قبول کر لے خدا اس کا مستحق ہے کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈریں، اور اسی کی یہ شان ہے کہ جو شخص بھی تقویٰ اور خدا ترسی کا رویہ اختیار کرلے اسے وہ معاف کر دیتا ہے خواہ وہ پہلے کتنی ہی نافرمانیاں کر چکا ہو۔

حوالہ جات

  1. ابن جریر
  2. بخاری، مسلم، مسند احمد، ابن جریر
  3. سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 288 – 289
پچھلی سورہ:
المزمل
سورہ 74 اگلی سورہ:
القیامہ
[[:File:Sura74

.pdf|عربی متن]]