المستعین باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
المستعین باللہ
(عربی میں: أبو العباس أحمد المستعين بالله خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
(خلافت عباسیہ کا بارہواں خلیفہ 865ء)

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 831  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 اکتوبر 866 (34–35 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قطع الراس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنیت
والد المعتصم باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلافت عباسیہ
مناصب
خلیفۂ خلافت عباسیہ (12 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
8 جون 862  – 5 فروری 865 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png المنتصر باللہ 
المعتز باللہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

المستعین باللہ (پیدائش: 836ء– وفات: 27 اکتوبر 865ء) خلافت عباسیہ کا بارہواں خلیفہ تھا جس نے 862ء سے 866ء تک حکومت کی۔ المستعین باللہ کے مختصر عہد خلافت میں خلافت عباسیہ کو سرحدی حدود میں مختلف نقصانات جھیلنے پڑے۔ المتوکل علی اللہ کے بعد المستعین دوسرا خلیفہ تھا جسے قتل کیا گیا۔ مستعین باللہ کا عہد خلافت انتشار سامراء کے دورانیہ میں گزرا۔ 865ء میں اُسے المعتز باللہ کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔

نام و نسب[ترمیم]

مستعین کا نام احمد بن المعتصم باللہ ہے۔ کنیت ابو العباس اور خطاب المستعین باللہ ہے۔[1] مستعین کا والد عباسی خلیفہ المعتصم باللہ العباسی تھا جبکہ والدہ مخارق تھی جو ایک ام ولد تھی اور صقلیہ کی رہنے والی تھی۔ مستعین متوکل علی اللہ کا بھائی تھا۔[2] مستعین کا نسب یوں ہے :

المستعین باللہ ابو العباس احمد بن محمد بن المعتصم باللہ ابن ہارون الرشید بن موسیٰ الہادی بن المہدی باللہ بن ابو جعفر المنصور بن محمد ابن علی ابن عبداللہ ابن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ابن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ۔

ولادت اور حلیہ[ترمیم]

مستعین کی ولادت 221ھ/ 836ء میں بغداد میں ہوئی۔[3][4] اُس وقت اُس کا دادا المعتصم باللہ خلیفہ تھا۔ مستعین کا گورا رنگ ملاحت لیے ہوا تھا۔ چہرے پر چیچک کے نشانات تھے اور زبان میں لکنت یعنی توتلا پن تھا۔ نہایت لحیم جسم اور داڑھی سیاہ تھی۔[2][5]

عہد خلافت[ترمیم]

جب المنتصر باللہ کا انتقال ہوا تو اراکین سلطنت یعنی ترک امرا نے مشورہ کیا کہ المتوکل علی اللہ کی اولاد سے کسی کو تخت پر بٹھایا جائے، کچھ اراکین کی رائے تھی کہ احمد بن محمد المعتصم باللہ کو منتخب کر لیا جائے کہ وہ ہمارے اُستاد کا بیٹا (یعنی پوتا) ہے (ترکوں کو المعتصم باللہ کے عہدِ حکومت میں اقتدار ملنا شروع ہوا تھا، اِسی لیے وہ المعتصم باللہ کو اپنا استاد سمجھتے تھے)، چنانچہ اِسی رائے پر اتفاق ہو گیا اور احمد بن محمد بن المعتصم باللہ کو المستعین باللہ کا لقب دے کر بیعت کے لیے تیار کیا گیا۔[2] بغاء الکبیر، بغاء الصغیر اور اتامش ترکی نے اتراکِ مفارینہ اور اشروشینہ کے امرا سے حقِ انتخابِ خلیفہ لے کر موسیٰ ابن شاکر منجم کی رائے سے احمد بن محمد بن المعتصم باللہ کی تخت نشینی 8 جون 862ء تجویز کی۔[6] لیکن ترکوں کی ایک تھوڑی سی جماعت نے اُس کی خلافت سے انکار کرتے ہوئے بغاوت کی اور المعتز باللہ اور المنصور کے نعرے لگائے اور اپنے ہم خیالوں کو جمع کر لیا۔ مستعین کی مدد میں اُن کی فوج آگئی تو دونوں گروہوں میں کچھ دن تک سخت لڑائی ہوتی رہی، ہر طرف سے متعدد انسان قتل ہوئے۔ بغداد کے بہت سے گھرانے لوٹ لیے گئے۔ مختلف قسم کے فتنے کھڑے ہوئے۔ بالآخر مستعین کی خلافت قائم ہو گئی۔ سرکاری عہدوں سے ناپسندیدہ افراد کو معزول کر دیاگیا۔[1][7][8][9]

عہد خلافت کے متفرق واقعات[ترمیم]

248ھ[ترمیم]

  • جمادی الثانی 248ھ میں بغاء الکبیر فوت ہوا۔ مستعین نے اُس کے بیٹے موسیٰ ابن بغا کو اُس کی جگہ بحال کر دیا جو بلند خیال و بلند ہمت تھا۔ خلافت عباسیہ کی مشرقی و مغربی حدود کو اُس نے محفوظ کیا۔ محکمہ ڈاک اور برید کا انتظام بھی موسیٰ ابن بغاء کے سپرد کیا گیا۔[10]
  • 248ھ میں اہل حمص نے اپنے حاکم کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اُسے شہر سے باہر نکال دیا، تب مستعین نے اُن کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کرکے اُن کے مکانات کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا۔
  • ذوالحجہ 248ھ/ فروری 863ء میں محمد بن سلیمان الزینبی نے لوگوں کو حج کروایا۔[11]
  • والی خراسان طاہر بن عبد اللہ بن طاہر فوت ہوا۔[12]
  • اِس سال مستعین نے اتامش وزیر کو مصر اور مغرب پر حاکم مقرر کر دیا۔[11]

249ھ[ترمیم]

  • 864ء میں حسن ابن زید علوی نے طبرستان کو زیرنگیں کر لیا اور بحیثیتِ امیر طبرستان 37 سال تک فرمانروائی کرتا رہا۔[13] حسن ابن زید کی تخت نشینی سے شمالی ایران کی علویہ سلطنت کا قیام عمل میں آیا جسے مؤرخین طبرستان کی دولت علویہ کے نام سے پکارتے ہیں۔
  • ماہِ صفر 249ھ/ اپریل 863ء میں بغداد میں فتنہ برپا ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ عوام الناس اُن اُمراء سے نفرت کرنے لگے تھے جنہوں نے خلافت پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی اور خلیفہ المتوکل علی اللہ کو قتل کر دیا تھا۔ اِس قتل کے بعد المنتصر باللہ اور مستعین باللہ کو بھی کمزور کر دیا تھا۔ عوام نے بغداد کے جیل خانہ پر حملہ کر دیا اور تالے توڑ کر تمام قیدیوں کو آزاد کروالیا۔ اِس کے بعد یہ لوگ بغداد کے دونوں اطراف میں واقع پلوں پر گئے اور ایک پل کو توڑ کر آگ لگا دی۔ عوام الناس کی کثیر جماعت جمع ہو گئی اور بہت سے علاقوں میں لوٹ مار مچائی۔ یہ سب واقعات مشرقی بغداد میں رونما ہوئے۔ اِس تمام فتنہ کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مستعین باللہ کی فوج ملکِ روم میں جہاد کے واسطے نہ گئی، خلفا مقصدِ خلافت کو بھلا چکے تھے بلکہ کنیزوں کے گانے بجانے کی مجلسوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ رعایا اِن حرکتوں سے سخت ناراض ہوکر مذکورہ واقعہ و ہنگامہ سے لوٹ مار میں مصروف ہو گئی۔[14]
  • بروز جمعرات 21 ربیع الاول 249ھ/ 13 مئی 863ء کو سامراء کی عوام نے قید خانہ کی طرف جا کر وہاں کے قیدیوں کو بھی آزاد کروا لیا جیسے کہ اِس سے قبل اہل بغداد نے کیا تھا۔ اُس وقت وہاں کے سپاہی جنہیں زرافہ کہا جاتا تھا، عوام کے مقابلہ پر اُتر آئے مگر عوام نے اُن کو شکست دی۔ اِس ہنگامے کو ختم کرنے کے لیے وصیف الترکی اور بغاء الصغیر عموماً ترک باشندے اکٹھے ہوکر سامنے آئے اور مقابلہ شروع ہو گیا۔ عوام کی جماعتِ کثیر اِس فتنہ میں قتل ہوئی۔ ایک مدت گزرنے کے بعد یہ فتنہ اَز خود سرد پڑ گیا۔[14]
  • وصیف الترکی اور بغاء الصغیر جو کسی زمانے میں سپید و سیاہ کے مالک تھے، اتامش، وزیر اعظم خلافت عباسیہ سے ناراض ہو گئے۔ اتامش ترکی بیت المال سے اسراف کے ساتھ خرچ کرنے لگا تھا جس پر وہ اِن دونوں اشخاص سے زیادہ قوت پکڑچکا تھا۔ اِس پر وصیف الترکی اور بغاء الصغیر نے ترک امرا کو اُس کے خلاف بھڑکا دیا اورر 15 ربیع الثانی 249ھ/ 7 جون 863ء کو یہ فتنہ سامراء میں کھڑا ہوا کہ عوام نے شاہی محل کا محاصرہ کر لیا اور اتامش ترکی شاہی محل میں پناہ لیے ہوا تھا، لیکن اِس وقت مستعین کے لیے اُسے عوام کے حوالے کرنا مشکل ہو گیا اور اِنکار پر محال ہو گیا۔ بالآخر انتہائی ذلت کے ساتھ لوگوں نے اُسے گرفتار کرکے قتل کرڈالا اور اُس کا سارا مال اور گھر مع سامان کے لوٹ لیا۔ خلیفہ مستعین اپنی کمزوری کے سبب کچھ نہ کرسکا۔ اِس کے قتل کے بعد ابو صالح عبد اللہ بن محمد بن یزداد کو اپنا وزیر بنا لیا اور بغاء الصغیر کو فلسطین کا اور وصیف الترکی کو اہواز کا حاکم بنا دیاا تو ہنگاموں اور فتنوں کا زبردست سلسلہ شروع ہوا۔[15][16]
  • بروز جمعہ 15 رجب 249ھ/ 3 ستمبر 863ء کو جنگ لالاکیون کا معرکہ مالاطیہ میں لڑا گیا۔ یہ جنگ عرب بازنطینی جنگوں کے سلسلہ میں لڑی گئی۔ بازنطینی افواج نے مالاطیہ کی مسلم فوج کو شکست دے دی۔ دونوں فریقین کے متعدد افراد مارے گئے۔ امیر المسلمین عمر بن عبد اللہ الاقطع شہید ہوئے اور اُن کے ساتھ دو ہزار مسلمان قتل ہوئے۔ علی بن یحییٰ ارمنی بھی شہید ہوئے، وہ مسلمانوں کی ایک جماعت کے امیر تھے۔[11][14]
  • جمعہ 25 جمادی الثانی 249ھ/ 13 اگست 863ء کو سامراء میں زبردست کڑک، زور دار بارش اور مسلسل بجلی گرجتی رہی اور موسلا دھار بارش ہوتی رہی جو صبح سے شام کے وقت آفتاب کے زرد ہونے تک جاری رہی۔[17]
  • ماہِ ذوالحجہ 249ھ میں رے (شہر) میں زوردار زلزلہ آیا جس سے وہاں کی عمارات منہدم ہوگئیں اور کثیر لوگ جاں بحق ہوئے۔ باقی ماندہ لوگ جنگلوں میں رہائش پر مجبور ہوئے۔[17]
  • ذوالحجہ 249ھ/ جنوری 864ء میں عبد الصمد بن موسیٰ بن محمد بن ابراہیم جو مکہ مکرمہ میں امام تھے، نے لوگوں کو حج کروایا۔[15][17]

250ھ[ترمیم]

251ھ[ترمیم]

محرم الحرام 251ھ مطابق فروری/مارچ 864ء میں یہ فتنہ برپا ہوا کہ باغرترکی جو خلیفہ المتوکل علی اللہ کے قاتلین میں سے ایک تھا، نے جب دیکھا کہ وصیف الترکی اور بغاء الصغیر اُمورِ خلافت پر حاوی ہوچکے ہیں تو اُسے خود کوئی اختیار نہیں تو ااُس نے ایک جماعت ترکوں کی مسلح کرکے خلیفہ مستعین باللہ، وصیف الترکی اور بغاء الصغیر کے قتل کا منصوبہ تیار کیا۔ اِس سازش کی خبر خلیفہ مستعین کو ہو گئی اور اُس نے وصیف الترکی کو باخبر کر دیا۔ وصیف الترکی نے باغرترکی کو قتل کروا دیا۔ اُس کے منشی دلیل بن یعقوب نصرانی کا گھر لوٹ لیا گیا۔ باعز ترکی کے ساتھی خلیفہ اور وصیف الترکی کے مخالف ہو گئے اور کچھ عرصہ سامراء میں شورش برپا رہی۔ خلیفہ کے قتل کی سازشوں سے دور رہنے کے لیے وصیف الترکی اور بغاء الصغیر خلیفہ مستعین کو سامراء سے بغداد لے گئے اور امیر بغداد محمد بن عبد اللہ بن طاہر کے محل میں ٹھہرایا گیا۔ خلیفہ کے سامراء سے جاتے ہی شورش پسندوں نے المعتز باللہ کو قید خانہ سے نکال کر خلیفہ اور مؤید کو ولی عہد بنا دیا۔ مستعین نے سامراء کے اُمراء کو اور المعتز باللہ نے اُمرائے بغداد کو خطوط لکھ کر اپنی جانب مائل کرنا شروع کیا۔[19][20][21]

معزولی[ترمیم]

محرم الحرام 251ھ میں سامراء میں المعتز باللہ کی بحیثیتِ خلیفہ عباسی تخت نشیں ہونے سے مستعین باللہ اور ترک امرا میں مخالف کھل کر سامنے آگئی۔ محمد بن عبد اللہ نے بغداد کی فصیلوں پر افواج تعینات کر دیں اور سامراء کے راستے روک دیے تاکہ بغداد سے سامانِ رسد وہاں نہ پہنچ سکے۔ المعتز باللہ نے سامراء میں عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے بھائی ابو احمد بن المتوکل علی اللہ اور ترک امیر کلپاتکین کی قیادت میں فوج روانہ کی۔ مقامِ عکبراء میں یہ فوج خیمہ زن ہوئی اور محرم الحرام 251ھ کو یہ فوجیں بغدادی فوج پر حملہ آور ہوتی ہوئی آگے بڑھتی گئی۔ 7 صفر 251ھ کو سامراء کی فوج بغداد کی فصیلوں تک پہنچ گئی اور وہاں سخت لڑائی ہوئی۔ محمد بن عبد اللہ جان لڑا رہا تھا۔ عبید اللہ بن یحییٰ ابن خاقان، وزیر المتوکل علی اللہ نے اُمرائے فوج سے کہا کہ: کیوں مستعین کے لیے جان دیتے ہو، یہ منافق ہے۔ محمد بن عبد اللہ نے یہ سن کر کنارہ کشی اختیار کی۔ اہل بغداد بھی جنگ سے دستبردار ہو گئے۔ مستعین نے یہ رنگ دیکھ کر خلافت سے ہاتھ روک لیا اور اپنی دستبرداری کی خواہش ظاہر کردی۔ 10 ذوالحجہ 251ھ/ 12 جنوری 865ء کو محمد بن عبد اللہ، قضاۃ اور فقہا کو لے کر مستعین باللہ کے پاس گئے اور مسعین سے فیصلہ چاہا۔ مستعین نے کہا کہ: میں اپنا مجاز محمد بن عبد اللہ کو بناتا ہوں، جو فیصلہ کریں گے وہ مجھے منظور ہوگا۔ محمد بن عبد اللہ نے ایک خط کے ذریعہ سے مستعین کی جاں بخشی المعتز باللہ کو لکھی جو منظور کرلی گئی۔ 4 محرم الحرام 251ھ 5 فروری 865ء کو مستعین نے رِدائے خلافت اور مہر خلافت المعتز باللہ کے حوالے کردی اور مستعین باللہ کو واسط روانہ کر دیا گیا۔ اُس کے آرام و آرائش کا انتظام حکومت کی طرف سے کر دیا گیا۔ احمد بن طولون کو اُس کا نگران مقرر کیا گیا۔ سیر و شکار کی اجازت بھی دی گئی۔ 4 محرم الحرام 252ھ/ 5 فروری 865ء کو مستعین باللہ کی معزولی عوام الناس میں مشتہر کردی گئی اور المعتز باللہ بحیثیتِ خلیفہ عباسی تخت نشیں ہوا۔[22][23]

آخری ایام [ترمیم]

مستعین باللہ واسط میں نو مہینوں تک احمد بن طولون کی نگرانی میں رہا۔ رمضان 251ھ کے اواخر دِنوں میں المعتز باللہ نے احمد بن طولون کو لکھا کہ تم مستعین کو پاس جاؤ اور اُسے فوراً قتل کردو۔ اُس نے کہا کہ: واللہ! میں اولادِ خلفاء کو کبھی قتل نہیں کر سکتا۔ پھر اِس کام کے لیے سعید ابن صالح حاجب مقرر ہوا اور اُس نے مستعین باللہ کو بروز بدھ 16 اکتوبر 866ء کو قادسیہ کے علاقہ میں قتل کر دیا۔[24][25] القاطول، نہر سامراء کے پاس مستعین کا سر معتز کے سامنے پیش کر دیا گیا۔[26] میت بغداد لائی گئی جہاں مستعین کی والدہ نے اُس کی تدفین میں شرکت کی۔ مستعین کی عمراُس وقت 31 سال قمری، 29 سال شمسی تھی۔ مستعین کی مدتِ خلافت 2 سال 7 ماہ 28 دن شمسی ہے۔

خلافت عباسیہ کے زوال میں حصہ[ترمیم]

863ء میں جنگ لالاکیون کے بعد خلافت عباسیہ کی مغربی سرحدوں پر رومی بازنطینیوں کی شورش اور مداخلت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی، مستعین میں اب وہ دم نہ رہا تھا کہ کسی سردار سے کہتا کہ سرحدی فتنے کا سدِباب کرے۔ انتظام ملک میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوچکا تھا جسے انتشار سامراء کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ ترک جاہل قوم تھی جو ملکی انتظام میں مداخلت کرکے ہر معاملے کو بگاڑ دیتی تھی۔ وزارت پر بھی اُن کا قبضہ تھا، ترکوں کی مرضی بغیر وزیر کا انتخاب ممکن نہ تھا۔[27] مستعین کا زمانہ خلافت بہت مختصر تھا اور یہ مختصر مدت شور و فتن میں گزری۔ اُس کے دور کے خلفاء برائے نام رہ گئے تھے۔ حکومت مکمل طور پر ترکوں کے ہاتھوں میں آگئی تھی، وہ جسے چاہتے خلیفہ بناتے اور جسے چاہتے معزول کردیتے۔[28]

مزید دیکھیے[ترمیم]

المستعین باللہ
پیدائش: 836ء وفات: 16 اکتوبر 866ء
مناصب سنت
ماقبل 
المنتصر باللہ
خلیفہ اسلام
8 جون 862ء5 فروری 865ء
مابعد 
المعتز باللہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 25۔ مطبوعہ لاہور
  2. ^ ا ب پ جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 652، تذکرہ المستعین باللہ العباسی، مطبوعہ لاہور، 1997ء۔
  3. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص372۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  4. ابن العماد الحنبلی: شذرات الذھب، جلد 3، ص 236، ذکر تحت سنۃ 252ھ۔
  5. علامہ ذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 12، ص 46۔ مطبوعہ بیروت، لبنان
  6. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 372۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  7. ابن طقطقی: الفخری، ص 240۔ مطبوعہ مکتبہ دار صادر، بیروت، لبنان۔
  8. ابن طقطقی: الفخری، ص 240، مطبوعہ دارصادر، بیروت، لبنان۔
  9. ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 90۔ مطبوعہ لاہور۔
  10. ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 92۔ مطبوعہ لاہور۔
  11. ^ ا ب پ ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 93۔ مطبوعہ لاہور۔
  12. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 374۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  13. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص373۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  14. ^ ا ب پ ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 27، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 249ھ، مطبوعہ لاہور۔
  15. ^ ا ب ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 28، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 249ھ، مطبوعہ لاہور۔
  16. ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 95۔ مطبوعہ لاہور۔
  17. ^ ا ب پ ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 96۔ مطبوعہ لاہور۔
  18. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 30، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 250ھ، مطبوعہ لاہور۔
  19. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 33، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 251ھ، مطبوعہ لاہور۔
  20. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 375۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  21. ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 94۔ مطبوعہ لاہور۔
  22. ابو الفرج ابن جوزی: المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، جلد 12، ص 42، ذکر تحت النسۃ 251ھ۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1415ھ/ 1995ء۔
  23. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 375/376۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  24. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 653، تذکرہ المستعین باللہ العباسی، مطبوعہ لاہور، 1997ء۔
  25. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 41، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 251ھ، مطبوعہ لاہور۔
  26. ابن العماد الحنبلی: شذرات الذھب، جلد 3، ص 237، ذکر تحت سنۃ 252ھ۔
  27. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 373/374۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  28. شاہ معین الدین احمد ندوی: تاریخ اسلام، جلد 2، ص 220۔ مطبوعہ لاہور۔