المسعودی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عالمِ اسلام میں ابوالحسن المسعودی ایک مورّخ کی حیثیت سے جانا، پہچانا نام ہے، لیکن ان کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم تاریخی مواد دستیاب ہے۔ ان کی اپنی تصانیف اور دوسرے مصنفین کی تحریروں سے جو خال خال معلومات ملتی ہیں، ان کے مطابق وہ بغداد میں پیدا ہوئے اور مصر شہر الفسطاط (قاہرہ قدیم) میں وفات پائی۔ المسعودی نے نوعمری میں ہی سیاحت کا آغاز کیا۔ وہ بغداد سے تقریباً 915ء میں روانہ ہوئے اور اپنی بقیہ زندگی سیروسیاحت میں گزاردی۔ 941ء تک وہ خراسان، سجستان (جنوبی افغانستان)، کرمان، فارس، جرجان، طبرستان، جبال (میڈیا)، خوزستان، عراق (میسوپوٹیمیا کا نصف جنوب) اور جزیدہ (میسوپوٹیمیا کا نصف شمال) کی سیاحت کر چکے تھے۔ 941ء اور956ء کے درمیانی عرصہ میں انہوں نے شام، یمن، حضرموت، شحر اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے سندھ، ہند اور مشرقی افریقہ کا سفر بھی کیا اور بحیرۂ خزر، بحیرۂ احمر، بحیرۂ روم اور بحیرۂ عرب کے پانیوں کی سیر بھی کی۔ المسعودی نے عمر کا آخری حصہ مصر میں بسر کیا۔ ان کی مہمات کے دو بڑے محرکات سامنے آتے ہیں، ایک تو وہ دنیا کے ’’عجائب‘‘ دیکھنا چاہتا تھا، دوسرے اُن کا نظریہ تھا کہ حقیقی علم صرف ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے حاصل کیا جا سکتاہے۔ المسعودی کی دستیاب تصانیف اور دوسرے ذرائع سے اندازہ ہوتاہے کہ انہوں نے کم و بیش 37 کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے تاریخ اور جغرافیہ سے لے کر فقہ، مذہبیات، نسبیات اور فن نظامت و حکمرانی تک کو اپنا موضوع بنایا۔ ان میں سے اب صرف دو تصانیف دستیاب ہیں۔ ’’مروج الذہب ومعادن الجواہر‘‘ نومبر/ دسمبر 947ء میں مکمل ہوئی اور 956ء میں اس پر نظر ثانی کی گئی۔ دوسری تصنیف ’’التنبیہ والاشراف‘‘ ہے جو المسعودی کی وفات سے ایک برس قبل تکمیل کو پہنچی۔ المسعودی کا سب سے بڑا کارنامہ کتاب ’’اخبار الزمان ومن آبادہ لحدثان‘‘ ہے۔ اس کتاب میں دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب تیس جلدوں میں تحریر کی گئی تھی جن میں سے صرف پہلی جلد بچ سکی ہے۔ ویانا میں محفوظ ہے (اس کے علاوہ برلن میں بھی ایک قلمی نسخے کا پتہ چلاہے)۔ المسعودی اس نظریہ پر یقین رکھتے ہوئے، کہ وقت کے ساتھ ساتھ علم بھی آگے، بڑھتا ہے، وہ ان علما سے اتفاق نہیں کرتے جو قدماء کے نظریات کو بلا تنقید قبول کرنے کے حق میں تھے اور معاصرعلما کے کام کو مناسب اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وہ اس روایت پرستی کے سخت مخالف تھے جس نے سائنسی علوم کی ترقی پر منفی اثرات ڈالے اور قرونِ وسطی کے اسلامی معاشرے کے زوال کی بڑی وجہ بنی۔ اس زمانے میں منصورہ کا شہر اپنے عروج و ترقی کے شباب پر تھا اور اس کا شہرہ مشرق ومغرب میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ سندھ کی مسلم حکومت کا صدر مقام تھا۔ اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’مروج الذہب‘‘ میں مسعودی نے منصورہ کی بڑی تعریف کی ہے جہاں سیدوں کی بڑی آبادی تھی۔ اس کے قرب وجوار میں نومسلموں کی بڑی بڑی آبادیاں تھیں جن کو صوفیائے کرام نے اپنے بے مثل کردار اور تعلیمات سے حلقہ اسلام میں داخل کیا تھا۔ ہندو راجاؤں کے عہد حکومت میں مسلم صوفیا ہندوستان میں داخل ہوئے تھے اور ہر قسم کی مخالفت کے باوجود وہ اپنے مشن پر جمے رہے اور آخر کار ان کی تعلیم اور کردار نے غیر مسلموں کے دلوں کو موہ لیا اور ان کا قدم اس قدر مبارک سمجھا جانے لگا کہ بہت سے ہندو راجا مسلمانوں کے وجود کو خوش قسمتی کی دلیل تصور کرتے تھے اور عوام جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتے تھے۔ المسعودی نے ہندوستان اور مشرقِ بعید کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔ 918ء میں وہ گجرات بھی گئے تھے۔ اُس وقت گجرات کی بندرگاہ چمود میں دس ہزار سے زائد عرب مسلمان آباد تھے۔ مسعودی نے بحر خضر کے جنوبی ساحل ترکستان اور وسطی ایشیا کا بھی دورہ کیا ہے۔ کھمبات، دکن اور سیلون سے ہوتے ہوئے چند تاجروں کے ساتھ ہند چینی اور بعد ازاں چین پہنچے۔ واپسی میں مدغاسکر، زنجبار، عمان ہوتے ہوئے، بصرہ پہنچے، جہاں کافی عرصہ قیام کرکے انہوں نے اپنی بلند پایہ کتاب’’مروج الذہب‘‘ مکمل کی۔ اس کتاب میں مسعودی نے مختلف ملکوں، قوموں کا طرزمعاشرت اور خطوں کی آب وہوا پر اپنے تجربات اس قدر دلچسپ پیرائے میں بیان کیے ہیں کہ پڑھنے والا دم بخود ہوجاتا ہے۔ مسعودی نے اپنی کتاب میں ایسے ذاتی تجربات بھی بیان کیے ہیں جو دوران سفر انہیں یہودیوں، ایرانیوں اور ہندوستان اور عیسائیوں سے براہ راست حاصل ہوئے۔ مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی لکھتے ہیں ’’جغرافیہ اور تاریخ کی اس انسائیکلوپیڈیا میں مصنف نے اپنی وسیع النظری اور سائنسی تحقیق کا ثبوت دیا ہے۔ اور مختلف اقوام، ان کے رسم ورواج اور عقائد کی تفصیل بہت خوبی اور درستی سے لکھی ہے ‘‘۔ مسعودی کی کتاب ’’مروج الزمان‘‘ کا ایک ضمیمہ ’’کتاب الاوسط‘‘ ہے جس میں تاریخی واقعات کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے مسعودی کی آخری تصنیف957ء میں مکمل ہوئی اسی سال ان کا انتقال ہوا۔ یہ ’’کتاب التنبیہ والا شرف‘‘ ہے جس میں اس کی سابقہ کتابوں کا خلاصہ اور ان کی اغلاط کی درستی کی گئی ہے۔ اس کتاب کو ایم۔ جے۔ گٹخے نے ایڈٹ کیا اور 1894ء میں لیڈن (جرمن) میں طبع ہوئی۔ تاریخ مسلمان مورخوں کا خاص موضوع رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام میں عظیم مورخ مثلاً طبری، مسعودی اور ابن خلدون پیدا ہوئے، آخرالذ کرنے تاریخ کو سائنس کا درجہ دیا اور اس میں استدلال کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے علوم وفنون اور سائنس کے تمام میدانوں میں زمانہ وسطیٰ کے عظیم ترانسان پیدا کیے ہیں۔ مشہور مستشرق جارج سارٹن اپنی کتاب ’’سائنس کی تاریخ کی تمہید‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’انسانیت کا اہم کام مسلمانوں نے سر انجام دیا۔ سب سے بڑا فلسفی فارابی مسلمان تھا۔ سب سے بڑے ریاضی داں ابوالکامل اور ابراہیم ابن سینان مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں اور ہمہ داں عالم مسعودی مسلمان تھا اور سب سے بڑا مورخ طبری بھی مسلمان تھا‘‘۔ مغرب میں مسعودی کو عربوں کا ’’ہیروڈوٹس‘‘ اور ’’پلینسی‘‘ کہا جاتاہے۔ انہوں نے تاریخی واقعات کا تنقیدی مطالعہ کرکے تاریخ نویسی میں ایک انقلاب پیدا کیا جسے ابن خلدون نے بعد میں بہت ترقی دے کر ایک فن کی صورت دے دی۔ قوموں کے عروج وزوال سے متعلق ان کا مطالعہ بہت وسیع اور گہرا تھا۔ بہ حیثیت مورخ اپنی عظمت سے واقف تھے۔ مسعودی نے علومِ موسیقی میں بھی بیش بہا اضافے کیے ہیں انہوں نے موسیقی کی بہت کارآمد مفید معلومات فراہم کی ہیں۔ کتاب ’’مروج الذہب‘‘ میں ابتدائی عرب موسیقی اور دوسرے ممالک کی موسیقی پر دلچسپ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مسعودی نے اپنی کتابوں میں 955ء کے زلزلے کے اسباب بیان کیے ہیں۔ بحرمروار کے پانی اور دیگر طبقات الارض کے مسائل پر مفید بحث کی ہے۔ انہوں نے پن چکی کا سب سے پہلے تذکرہ کیاہے جو سجستان میں لگائی گئی تھیں اور مسلمانوں کی ایجاد تھیں۔ مسعودی کی تصانیف سے بعد کے مصنفوں نے بڑا استفادہ کیا۔ خصوصاً تاریخ نویسی پر وہ بہت اثر انداز ہوئے ہیں۔ سی فیلڈ نے 1909ء میں ’’خلفاء کے حقائق‘‘ تحریر کیے تو اس کا مواد مسعودی کی تصانیف سے حاصل کیا۔ المسعوی نے اپنی کتاب ’’مروج الذہب‘‘ اور ’’اخبار الزّمان‘‘ میں ایسے کئی لوگوں کے تذکرے بیان کیے ہیں جنہوں نے بحر اوقیا نوس کو عبور کیا اور ایک انجان زمین (ارضمجھولہ) میں جاپہنچے جسے ہم آج امریکا کے نام سے جانتے ہیں۔

المسعودی کے بنائے ہوئے دنیا کے اس نقشے میں السودان (افریقہ) سے آگے ارضمجھولہ کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ المسعودی کولمبس سے سواپانچ سو سال قبل ہی امریکا کی سرزمین سے واقف تھے .....