الپ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الپ خان
معلومات شخصیت
تاریخ وفات دہائی 1310  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر

الپ خان (وفات: 1315ء کے اواخر یا 1316ء کے اوائل میں) ایک ہندوستانی سالار اور سلطان دہلی علاء الدین خلجی کے داماد تھے۔ الپ خان علاء الدین کی جانب سے گجرات کے فرماں روا بھی رہے۔ بادشاہ کے آخری برسوں میں شاہی دربار میں ان کا اثر و رسوخ خاصا بڑھ گیا تھا۔ الپ خان کو علاء الدین خلجی کے قتل کی سازش کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی۔ یہ سزا غالباً ملک کافور کی ایک سازش تھی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

الپ خان کا اصل نام جنید تھا جو بعد میں ملک سنجر ہو گیا۔ تاریخی قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق خلجی شرفا کے کسی خاندان سے تھا۔ مورخ عبد الملک عصامی کے مطابق علاء الدین خلجی نے ملک سنجر کو بچپن ہی میں اپنے پاس رکھ کر ان کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی۔[1]

سنہ 1296ء میں جب علاء الدین خلجی تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوئے تو انہوں نے ملک سنجر کو "الپ خان" (طاقت ور خان) کے خطاب سے نوازا۔[2] الپ خان کی بہن (سولہویں سترہویں صدی عیسوی کے ایک وقائع نویس نے ان کا نام مہرو لکھا ہے[3]) سے علاء الدین کا نکاح ہوا اور مہرو کے بطن سے خضر خان پیدا ہوئے۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

علاء الدین خلجی نے الپ خان کو امیر مجلس کے منصب سے سرفراز کرکے ملتان کا اقطاع عطا کر دیا تھا۔ سنہ 1310ء میں علاء الدین نے گجرات کا اقطاع بھی عطا کر دیا۔[1] جین مصنفین نے مسلمان فاتحین کی منہدم کردہ مندروں کی تعمیر نو کی اجازت دینے پر الپ خان کی خوب تعریف کی ہے۔[4] کاکا سوری نے اپنی کتاب نبھی نندن جنودھر پربندھ میں الپ خان کی اجازت سے شترنجیہ مندر کی تجدید کا تذکرہ کیا ہے۔[5]

سنہ 1308ء میں علاء الدین نے الپ خان کو دیوگیری پر حملہ کرنے میں ملک کافور کی امداد پر مامور کیا۔ الپ خان کی افواج باگلان پر حملہ آور ہوئیں جہاں دیوگیری فرماں روا رام چندر نے واگھیلا بادشاہ کرن کو امارت دے رکھی تھی۔ گوکہ الپ خان کی فوج کرن کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی لیکن انہوں نے کرن کی بیٹی دیول دیوی کو پکڑ لیا۔ الپ خان نے دیول دیوی کو دلی روانہ کر دیا جہاں ان کی شادی خضر خان سے ہوئی۔[6][7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Peter Jackson 2003، صفحہ۔ 171.
  2. Sunil Kumar 2013، صفحہ۔ 61.
  3. Kishori Saran Lal 1950، صفحہ۔ 42.
  4. Iqtidar Alam Khan 2008، صفحہ۔ 24.
  5. John Cort 2010، صفحات۔ 213-214.
  6. Kishori Saran Lal 1950، صفحات۔ 190-191.
  7. Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحات۔ 402-403.

کتابیات[ترمیم]