الیکساندرفادیئیف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الیکساندرفادیئیف

Alexander Alexandrovich Fadeyev

الیکساندرفادیئیف.jpg
پیدائش الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف
24 دسمبر 1901(1901-12-24)
توور ، روسی سلطنت
وفات 13 مئی 1956(1956-05-13)ماسکو اوبلاست، سویت یونین
قلمی نام الیکساندرفادیئیف
پیشہ مصنف
زبان روسی
قومیت Flag of Russia.svg روس
اصناف ناول
نمایاں کام قافلہ شہیدوں کا
اہم اعزازات اسٹالن انعام

الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف روسی: Алекса́ндр Алекса́ндрович Фаде́ев, نقل حرفی Alexander Alexandrovich Fadeyev (پیدائش: 24 دسمبر 1901ء - وفات: 13 مئی 1956ء) سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

الیکساندرفادیئیف روسی سلطنت کے صوبے توور کے کمری نامی قصبے میں 24 دسمبر 1901ء کو پیدا ہوئے[1]۔

تخلیقی دور[ترمیم]

الیکساندرفادیئیف کا شمار سوویت ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ میکسم گورکی کی موت کے بعد انھوں نےبہت برسوں تک "سوویت ادیبوں کی انجمن" کی رہنمائی کی۔ روپوش چھاپہ ماروں اور خانہ جنگی کی زندگی سے زبردست سبق حاصل کرکے انھوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ فادیئیف کے ناولوں "شکست"، "قافلہ شہیدوں کا" اور"اودے گے قوم کا آخری آدمی" کو سوویت ادب کے بیش بہا خزانے میں جگہ ملی[2]۔

تخلیقات[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • شکست
  • قافلہ شہیدوں کا (1945ء)
  • اودے گے قوم کا آخری آدمی

اعزازات[ترمیم]

الیکساندرفادیئیف کو 1946ء میں ناول"قافلہ شہیدوں کا" پر سوویت ریاستی" اسٹالن انعام"دیا گیا[3]۔

وفات[ترمیم]

الیکساندرفادیئیف 54 سال کی عمر میں 13 مئی 1956ء میں ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں خودکشی کی[4]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://russia.rin.ru/guides_e/5780.html
  2. قافلہ شہیدوں کا از الیکساندر فادیئیف، دارالاشاعت ترقی، ماسکو، 1970 ص-579-580
  3. http://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=9118248
  4. http://www.sovlit.net/fadeevsuicide/