الیکزاندرپشکن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(الیگزیندر پشکن سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الیکزاندر پشکن
180px-AlexanderPushkin.jpg
پیدائش الیکزاندر سرگئی وچ پشکن
26 مئی 1799 (1799-05-26)
ماسکو، روسی سلطنت
وفات 29 جنوری 1837 (1837-01-29)
سینٹ پیٹرز برگ، روسی سلطنت
قلمی نام پشکن
پیشہ شاعر، ڈراما نویس، ناول نویس
زبان روسی،فرانسیسی
قومیت Flag of Russia.svg روس
صنف شاعری، ڈراما، ناول
ادبی تحریک حقیقت نگاری، رومانویت
نمایاں کام کپتان کی بیٹی
حکم کی بیگم
ایوگینی اونیگن
بوریس گودونوف
ایوان بیلکن کی کہانیاں
دوبرووسکی
شریک حیات نتالیہ پوشکینا
اولاد ماریا
الیکزاندر
نتالیہ
گریگوری

دستخط

الیکزاندر پشکن (/ˈpʊʃkɪn/;[1] روسی: Алекса́ндр Серге́евич Пу́шкин, نقل حرفی Aleksandr Sergeyevich Pushkin; روسی تلفظ: [ɐlʲɪˈksandr sʲɪˈrɡʲejɪvʲɪtɕ ˈpuʂkʲɪn] ( سنیے); 6 جون [ق‌ت 26 مئی] 1799 – 10 فروری [ق‌ت 29 جنوری] 1837) روس کا روشن خیال شاعر، ڈراما نویس اور جدید روسی ادب کا بانی تھے۔

پیدائش و حالاتِ زندگی[ترمیم]

الیکزاندر پشکن دو صدیوں کے ڈانڈوں پر 26 مئی 1799ء کو ماسکو، روسی سلطنت میں پیدا ہوئے۔ پشکن کے والد قدیم اور کسی زمانے میں دولت مند درباری امراء کی نسل سے تھے۔ پشکن کی ماں ابرام ہانیبال کی نواسی تھیں جو ملک حبش کے شہزادے تھے اور جن کو ترکوں نے اغوا کرکے زار پیٹر اول کو بطور تحفہ دیا تھا۔ پشکن کو اپنے جد پر فخر تھا جو پیٹر کے دور میں ممتاز سپہ سالار تھے اور انہوں نے ان کے اعزاز میں تاریخی ناول " پیٹر اعظم کا حبشی" لکھا[2]۔

پشکن نے اپنی مختصر زندگی میں شاندار تاریخی واقعات دیکھے۔ شاعر نے حب الوطنی کی اس زبردست لہر کو جو 1812ء کی جنگ سے پیدا ہوئی تھی، نپولین کی فوج کی تباہی اور فاتحوں کی دھوم دھام سے وطن کی طرف واپسی کو کبھی نہیں فراموش کیا۔

تخلیقی دور[ترمیم]

انیسویں صدی کی تیسری دہائی کی ابتدا میں مغربی یورپ میں قومی آزادی کی تحریک (نیپلز میں انقلاب،اسپین میں بغاوت،یونان میں‌ترکی کی حکومت کے خلاف جدوجہد) ابھری۔ روس کے سیاسی حالات میں بھی گرمی پیدا ہو رہی تھی۔ یہاں خفیہ سیاسی انجمنیں قائم کی گئیں جن کا مقصد کسان غلامی کو ختم کرنا اور مطلق العنانی کا تختہ الٹنا تھا۔ نوجوان پوشکن آزادی کی آرزوئیں رکھنے والے نوجوان، درباری امراء کے ہراول کے ترجمان شاعر بن گئے۔ انکی سیاسی نظمیں اور وہ منظوم لطیفے خاص طور سے مقبول ہوئے جو ظلم و استبداد کے خلاف اور عوام کے کچلے ہوئے حقوق کی حمایت میں تھے (غنائی نظم "آزادی" اور نظمیں "گاؤں" اور چاآدائف کے نام" وغیرہ)۔زار الیکساندر اول نے بڑی ناراضگی سے کہا تھا "پشکن نے نفرت انگیز شاعری سے روس کو پاٹ دیا ہے اور وہ سب نوجوانوں کی زبان پر ہیں۔ پشکن کو سائبیریا جلاوطن کردینا مناسب ہوگا"[3]۔ یہ دھمکی تو عمل میں نہیں لائی گئی لیکن سرکاری خدمات کے سلسلے میں تبادلے کی صورت میں‌ پشکن کو سینٹ پیٹرز برگ سے روس کے جنوبی علاقے میں جلاوطن کردیا گیا۔ جنوب میں جلاوطنی کا زمانہ ان کی انتھک تخلیقی کام، گہرے غوروفکر اور شاعرانہ جوہر کے پروان چڑھنے کا دور تھا۔

1820ء میں پشکن نئے اپنی پہلی بڑی تصنیف "روسلان اور لیودمیلا" نامی نظم ختم کی۔ نظم کی عوامی کہانی، شگفتہ بیان، اور سادہ و نازک اسلوب نے اسکو اس وقت کے تمام ادب میں نمایاں کردیا۔ تیسری دہائی کی ابتدا میں پشکن کی جنوبی رومانی نظمیں "قفقاز کا قیدی" (1822ء)، "بنجارے" (1824ء)۔ "بنجارے" خاص نوعیت کی ڈرامی نظم ہے۔

1824ء کی خزاں مین بھی زار کی حکومت غیور اور آزاد مزاج شاعر کے پیچھے پڑی رہی اور پشکن کو دورافتادہ "پسکوف" صوبے کے گاؤں بھیج دیا گیا جہاں پولیس ان کی نگرانی کرتی رہی۔

"روسی ٹھیٹر کو نیا روپ" دینے کی کوشش کرتے ہوئے، عوامی ڈرامے کی تخلیق کے لئے پشکن نے روس کی ماضی کی تاریخ کی طرف توجہ کی۔ "بوریس گودونوف" نامی المیئے میں پشکن نے روسی تارخ کا ایک بہت ہی کٹھن دور (سولہویں صدی کا آخر اور سترہویں صدی کی ابتدا) پیش کیا۔ "بورس گودونوف" سارے عالمی ادب میں پہلا حقیقی سماجی تاریکی المیہ ہے جس میں صرف چند افراد نہیں بلکہ "قوم کی تقدیر" کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

1830ء میں پشکن کی عظیم تصنیف، منظوم ناول "ایوگینی اونیگن" ختم ہوئی۔ شاعر نے اس پر آٹھ سال سے زیادہ کام کیا۔ عظیم روسی نقاد اور جمہوریت پسند "ویسارین بیلینسکی" نے پشکن کی اس تصنیف کو "روسی زندگی کی انسائیکلوپیڈیا" کہا۔ اپنے منظوم ناول "ایوگینی اونیگن" میں پشکن نے ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے ادب میں فنکارانہ حقیقت پسندی کی بنیاد ڈالی[4]۔

1931ء میں پوشکن کی زندگی میں ایک اہم واقعہ ہوا۔ ان کی شادی ماسکو کی ایک بہت ہی حسین لڑکی "نتالیا گونچاووا" سے ہوگئی۔ شادی سے پہلے اپنے معاملات کو طے کرنے کے لئے پشکن اپنے والد کی چھوٹی سی جاگیر "بولدینو" گئے۔ یہاں انھوں نے اپنے بہترین ڈرامے " چھوٹے المیئے" داستانی ڈراما "جل پری"، نظم "کولومنا میں بنگلہ" اور اپنی پہلی بڑی نثر کی کتاب "ایوان بیلکن کی کہانیاں" لکھی۔ "ایوان بیلکن کی کہانیاں" میں پشکن کی تخلیقات کی جمہوریت پسندی بہت صاف نظر آتی ہے۔ عظمین روسی ادیب ٹالسٹائی نے کہا "---- پشکن کی نثر سب سے زیادہ اچھی ہے۔ ادیبوں کو چاہیے کہ وہ متواتر اس خزانے سے مستفید ہوتے رہیں۔ کتنے یہ سب لاجواب ہیں۔ "ایوان بیلکن کی کہانیاں" اور ارے "حکم کی بیگم" یہ تو بے نظیر ہے"[5] ۔

1834ء میں پشکن کی لکھی ہوئی طویل کہانی "حکم کی بیگم" اپنی قاضح ساخت، دلکش پلاٹ، ماہرانہ طرزنگارش کے لحاظ سے ایک مختصر اور جامع ناولٹ کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

چوتھی دہائی میں پشکن نے سمانی زندگی سے متعلق اپنا بڑا ناول "دوبرووسکی" لکھا جو مصنف کی المیہ موت کے بعد 1841ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کا پلاٹ زندگی کے حقیقی واقعات سے لیا گیا ہے۔ اس میں غربت زدہ زمین دار دکھایا گیا ہے جس نے اس کی ساری زمین ہڑپ کر لی اور اس کو اپنے گاؤں سے نکال باہر کیا۔

پشکن کی نثر نگاری کا فن ان کی آخری بڑی تصنیف "کپتان کی بیٹی" (1836ء) کی کہانی میں بامِ عروج تک پہنچ جاتا ہے جو واقعی حقیقی تاریخی تصنیف کا نمونہ ہے۔ "کپتان کی بیٹی" میں ہنگامی کسان بغاوت کی واضح تصویر کشی کی گئی ہے اور کسان لیڈر یمیلیان پوگاچیف کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ پشکن نے اس میں زارینہ"ایکا تیرینا" کے زمانے کے روسی سماج کے رسم و رواج کی تصویر کشی کی ہے۔ بہت سی تصویریں اپنی سچائی اور ماہرانہ طرز بیان کے لحاظ سے مکمل معجزہ ہیں۔

تخلیقات[ترمیم]

نظمیں[ترمیم]

  • آزادی
  • گاؤں
  • چاآدائف کے نام
  • 1820ء - روسلان اور لیودمیلا
  • 1822ء - قفقاز کا قیدی
  • 1824ء - بنجارے
  • 1828ء - پولتاوا
  • 1833ء - تانبے کا شہ سوار

ڈراما[ترمیم]

  • 1825ء - بوریس گودونوف

منظوم ناول[ترمیم]

  • 1830ء - ایوگینی اونیگن

کہانیاں[ترمیم]

  • 1831ء - ایوان بیلکن بیلکن کی کہانیاں

ناولٹ[ترمیم]

  • 1834ء - حکم کی بیگم

ناول[ترمیم]

  • 1828ء - پیٹر اعظم کا حبشی
  • 1836ء - کپتان کی بیٹی
  • 1841ء - دوبرووسکی

ہم عصر ادیبوں کی رائے[ترمیم]

پشکن کے ہم عصر اور دوست عظیم روسی حقیقت پسند ادیب گوگول نے لکھا ہے[6]۔

پشکن کے نام سے ہی فوراً روسی قومی شاعر کا تصور پیدا ہوتا ہے----- پشکن ایک غیر معمولی مظہر ہے اور غالباً روسی اسپرٹ کا واحد مظہر۔ اس میں روسی مناظرِ قدرت، روسی جذبات، روسی زبان اور روسی کیریکٹر کی عکاسی ایسی پاکیزگی اور شفاف حسن کے ساتھ ملتی ہے جیسے وہ کسی بصری شیشے کی ابھری ہوئی سطح سے معکوس ہورہی ہو۔

آخری سال اور وفات[ترمیم]

پشکن کے آخری سال بڑے کٹھن گزرے۔ زار سے تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے اور سینٹ پیٹرزبرگ کے بااثر درباری امیروں کے حلقوں سے دشمنی ہو گئی تھی۔ فرانسیسی نژاد "دانتیس" کے کے ساتھ ڈوئل نے ان کے جوہر کے عین شباب میں عظیم شاعر کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ پشکن کو ڈوئل میں مہلک زخم لگا اور روس کا قومی شاعر، جدید روسی نثر نگاری کا بانی، صاحب طرز ڈراما نویس 29 جنوری 1837ء کو وفات پا گئے[7]۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Pushkin". Random House Webster's Unabridged Dictionary.
  2. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، روس, ص7
  3. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، داراشاعت ترقی ماسکو، روس, ص9
  4. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، روس, ص17
  5. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، روس, ص 21
  6. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، روس
  7. ^ الکساندر پوشکن: منتخب تصانیف نظم و نثر، دارالاشاعت ترقی ماسکو، روس, ص 24