الیگزینڈر ہیڈلے آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الگزینڈر ہیڈلی آزاد اردو کے مشہور شاعر اور مرزا اسد اللہ خان غالب کے شاگر تھے۔ الگزینڈر ہیڈلی نام اور آزاد تخلص تھا۔ باپ کا نام جیمس ہیڈلی تھا اور ان کے خاندانی حالات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوسکیں۔ ان کے والد انیسویں صدی دہلی آئے تھے اور ایک مسلمان عورت سے شادی کی تھی۔ جس کی وجہ سے ہندستانی معاشرت اختیار کی۔ اس لیے آزاد کی پرورش اسلامی طرز پر ہوئی اور مقامی صحبت میں ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا ہوا اور کچھ فطرتاً بھی انہیں شاعری کا مزاق رکھتے تھے۔ اس لیے اٹھارہ برس کی عمر میں شعر کہنے لگے۔ جلد ہی ان کی کلام کی شہرت ہو گئی۔ آزاد نے نواب زین العابدین عارف دہلوی کے شاگرد تھے اور کبھی کبھی مرزا غالب سے بھی خطوط کے ذریعہ اصلاح لیتے تھے۔ آزاد نے اپنے استاد عارف کی تعریف میں ایک قصیدہ اوران کی وفات پر ایک مرثیہ معہ تاریخ وفات لکھا۔ جو ان کے دیوان میں موجود ہے۔

آزاد کو فن طب میں عبور حاصل تھا اور خصوصاً پرانے امراض میں ان کی شہرت تھی۔ آزاد کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ مریضوں کو دوائیں مفت دیا کرتے تھے۔ اس فیاضی کے نتیجے میں ان کا تمام سرمایا ختم ہو گیا تو مجبوراً ملازمت کرنی پڑی اور انہوں نے ریاست الور میں توپ خانہ کے کپتان کے طور پر ملازمت کرلی۔ لیکن اس ملازمیت کے ایک سال بعد ہی 27 جولائی 1861ء میں آزاد نے بتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس طرح ان کا سنہ ولادت 1829ء بنتا ہے۔

آزاد فطرتاً شاعری کا ذوق اور ہمہ گیر طبعیت رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ہر صنف کلام پر خوب طبع آزمائی کی۔ آپ کے کلام مضامین کی لطافت، الفاظ کی تلاش اور محاورات ترکیبیں قابل داد ہیں۔ آپ نے نئے اسلوب پر تشبہیں اور استعارے استعمال کیے ہیں۔ ان کی زبان بالکل صاف اور روانی بیان پختہ کار شاعر ہونے کی دلیل ہے۔ آزاد کبھی کبھی آزاد کے علاوہ الک تخلص استعمال کرتے تھے۔ جو غالباً الکزینڈر کا مخفف ہے۔ نواب سرور المک کا کہنا ہے کہ آزاد نے غذر کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا اور انہوں نے اپنا نام جان محمد رکھا تھا۔

آزاد کے بڑے بھائی تھامس ہیڈرلی نے آزاد کے دوست میر شوکت علی فتحپوری کی مدد سے آزاد کا کلام جمع کرکے ان کا دیوان ترتیب دیا اور 1869ء میں آگرہ سے شائع کیا۔ آزاد کے بھائی تھامس ہیڈرلی بھی اردو کے اچھے انشا پرواز تھے اور انہوں نے ہی دیوان کا دیباچہ لکھا۔ جب کہ فارسی کا دیباچہ شوکت علی نے لکھا۔ اس دیوان میں قصائد، غزلیات، منظوم خطوط، تاریخی قطعات اور تضمین ہیں۔

نمونہ کلام[ترمیم]

زہے وحدت وہی دیر حرم میں جلوہ آرہ ہے

ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا

میری صورت سب کہے دیتی ہے ہے میرا رزا دل

میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ بدظن ہو گیا

سوزش دل نے الہی کونسی کی تھی کمی

جلانے کو میرے داغ جگر پیدا ہوا

تمام عمر رہا سبھوں سے بیگانہ

رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا

حریص مایہ ہستی تھا کس قدر آزاد

تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا

بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب

جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا

نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا

ہزار مشکل سے بارے رخ سے اس نے الٹا نقاب آدھا

خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا

نہ ہوگا فیصل تمام دن مگر بروز حساب آدھا

نمونہ کلام[ترمیم]

زہے وحدت وہی دیر حرم میں جلوہ آرہ ہے
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
میری صورت سب کہے دیتی ہے ہے میرا رزا دل
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ بدظن ہو گیا
سوزش دل نے الہی کونسی کی تھی کمی
جلانے کو میرے داغ جگر پید ا ہوا
تمام عمر رہا سبھوں سے بیگانہ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا
حریص مایہ ہستی تھا کس قدر آزاد
تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا
ہزار مشکل سے بارے رخ سے اس نے الٹا نقاب آدھا
خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا
نہ ہوگا فیصل تمام دن مگر بروز حساب آدھا

حوالہ جات[ترمیم]

  • تذکرہ یورپین شعرا۔ محمد سردار علی