الیگزینڈر ہیڈلے آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الگزینڈر ہیڈلے آزاد اردو کے مشہور شاعر غالب کے شاگرد تھے۔ آزاد اُن کاتخلص تھا۔ باپ کا نام جیمس ہیڈلے تھا اور ان کے خاندانی حالات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوسکیں۔ ان کے والد انیسویں صدی میں دہلی آئے تھے اور ایک مسلمان عورت سے شادی کی تھی۔ 27 جولائی 1861ء میں آزاد نے بتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس طرح ان کا سنہ ولادت 1829ء بنتا ہے۔ اس کی تاریخ وفات 7 اگست بھی بیان کی جاتی ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

زہے وحدت وہی دیر حرم میں جلوہ آرہ ہے
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
میری صورت سب کہے دیتی ہے ہے میرا رزا دل
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ بدظن ہو گیا
سوزش دل نے الہی کونسی کی تھی کمی
جلانے کو میرے داغ جگر پید ا ہوا
تمام عمر رہا سبھوں سے بیگانہ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا
حریص مایہ ہستی تھا کس قدر آزاد
تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا
ہزار مشکل سے بارے رخ سے اس نے الٹا نقاب آدھا
خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا
نہ ہوگا فیصل تمام دن مگر بروز حساب آدھا

حوالہ جات[ترمیم]