امارت ارمینیہ
| امارت ارمینیہ | |||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| خلافت امویہ اور خلافت عباسیہ کا صوبہ | |||||||||||||||||||||
| ت 605ء–884ء | |||||||||||||||||||||
عباسی عہد میں صوبہ ارمینیہ (750ء–884) | |||||||||||||||||||||
| دار الحکومت | دوین | ||||||||||||||||||||
| تاریخ | |||||||||||||||||||||
| تاریخی دور | قرون وسطی | ||||||||||||||||||||
| 654 | |||||||||||||||||||||
• امارت ارمینیہ کا قیام | ت 605ء | ||||||||||||||||||||
• آشوت اول نے خود کو آرمینیا کا بادشاہ گھوشت کیا | 884ء | ||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||
امارت ارمینیہ (عربی: إمارة أرمينية، آرمینیائی: Արմինիա ոստիկանություն) اسلامی عربی سیاسی اور جغرافیائی اصطلاح ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے قبضے کے بعد آرمینیا، آئبیریا اور قفقازی البانیا کے لیے استعمال ہوتی تھی۔[1]
ابتدائی طور پر خلفا نے ارمینیہ کے امیر کو اجازت دی تھی کہ وہ علاقے کی نمائندگی کرے اور جنگ کے اوقات میں ارمنیوں کی وفاداری کے بدلے میں اس کی حکومت قائم رہے لیکن بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اس علاقے پر عربی حکومت قائم کر دی۔ اس نام کو ”ارمینیہ“ لکھا جاتا ہے نہ کہ ”آرمینیا“، کیونکہ پہلی اصطلاح اس خطے کے لیے ہے جو قفقاز اور مشرقی اناطولیہ پر محیط ہے جبکہ دوسری موجودہ ملک کا نام ہے۔
تاریخی جائزہ
[ترمیم]پہلا مرحلہ: عربوں کا آرمینیا پر حملہ
[ترمیم]آرمینیا پر عربوں کے ابتدائی قبضے کی تفصیلات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں کیونکہ مختلف عربی مصادر یونانی اور آرمینی مصادر سے متصادم ہیں چاہے بات ترتیبِ واقعات کی ہو یا تفصیلات کی۔ تاہم عرب حملوں کا عمومی نقشہ اکثر ذرائع میں یکساں پایا جاتا ہے، جس سے موجودہ محققین واقعات کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔[2] عربی مصادر کے مطابق عربوں کی پہلی فوجی مہم 639ء/640ء میں آرمینیا تک بڑھا دی گئی، جس کا سلسلہ مسلمانوں ہاتھوں شام کی فتح اور فارس کی فتح کے آغاز کے ساتھ تھا۔[3] یہ فوج عیاض بن غنم کی قیادت میں بدلیس تک پہنچی۔ 642ء میں ایک دوسری مہم بھی ہوئی لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور عرب ملک سے واپس چلے گئے۔[3] 645ء میں سلمان بن ربیعہ کی قیادت میں آذربائیجان سے صرف ایک چھوٹا سا حملہ ہوا جو صرف سرحدی علاقوں تک محدود رہا۔[3] مسلم مصادر کے مطابق ملک پر حقیقی قبضہ 645ء/646ء میں حبیب بن مسلمہ فہری کی قیادت میں ہوا۔ عربوں نے پہلے ملک کے مغربی (بازنطینی علاقوں) پر پیش قدمی کی تھیودوسیوپولس کو فتح کیا اور بازنطینی فوج کو شکست دی پھر جھیل وان کے ارد گرد کے آرمینی امرا کو مات دی اور دوین (جو سابقہ ساسانی حصے کا دار الحکومت تھا) پر حملہ کیا۔ دوین چند روز کے محاصرے کے بعد سر نگوں ہو گیا اور شمال میں تبلیسی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔[4] اسی دوران عراق سے ایک اور عرب فوج نے قفقازی البانیا (اران) پر قبضہ کیا۔[5] اگرچہ عربی مصادر کے مطابق ملک عربوں کے زیرِ اثر آ گیا موجودہ مورخین عام طور پر ہم عصر آرمینی بشپ سیبیوس کے بیانات کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں، جس کی جزوی طور پر بازنطینی مورخ تیوفانس بھی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی عرب حملوں (640ء–650ء) کی تفصیلات دوبارہ ترتیب دی جا سکتی ہیں لیکن واضح ہے کہ اس وقت ملک مکمل طور پر عربی حکمرانی کے تحت نہیں تھا۔[4] آرمینی تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ عرب 642ء میں پہلی بار آرمینیا پہنچے، ایرارات کے وسطی علاقے میں داخل ہوئے، دوین کو لوٹ لیا اور 35 ہزار سے زائد قیدی لے کر واپس گئے۔[5] 643ء میں عرب دوبارہ آرمینیا پر حملہ آور ہوئے، ایرارات کو تباہ کیا اور آئبیریا تک پہنچے، لیکن آرمینی رہنما تیودور رشتونی کی قیادت میں شکست کھا کر واپس چلے گئے۔[5] اس کامیابی کے بعد رشتونی کو بازنطینی شہنشاہ قسطنطین دوم نے آرمینیا کا حکمران تسلیم کیا بشرطیکہ وہ بازنطینی خود مختاری قبول کرے۔ جب 653ء میں قسطنطین کا عربوں کے ساتھ معاہدہ ختم ہوا تو رشتونی نے نئے عرب حملے سے بچنے کے لیے مسلمانوں کے زیرِ اثر رہنے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا۔ شہنشاہ قسطنطین نے خود آرمینیا میں مہم چلائی اور بازنطینی حکمرانی بحال کی لیکن 654ء کے اوائل میں اس کے روانہ ہونے کے بعد عرب ملک میں داخل ہوئے۔ عربوں کی مدد سے رشتونی نے بازنطینی چھاؤنیوں کو آرمینیا سے نکال دیا اور عربوں نے اسے آرمینیا، آئبیریا اور البانیا کا حکمران تسلیم کیا۔[5] بازنطینی جنرل موریانوس نے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ 655ء میں حتیٰ کہ بازنطینی آرمینیا بھی عربوں کی طرف سے فتح کیا ھیا اور تھیودوسیوپولس (عربی: قلیقلہ) پر قبضہ کر کے عربوں نے رشتونی کو دمشق بھیجا جہاں وہ 656ء میں وفات پا گئے اور ان کی جگہ حریف ہامازاسپ مامیکونیان کو مقرر کیا۔[5] 657ء میں پہلی مسلم خانہ جنگی شروع ہونے پر عربوں کا اثر ملک پر ختم ہو گیا اور مامیکونیان فوری طور پر بازنطینی حکمرانی کے تحت واپس آگیا۔[5] 661ء میں معاویہ (جو خانہ جنگی کے فاتح تھے) نے آرمینی امرا کو دوبارہ اپنے تابع ہونے اور خراج دینے کا حکم دیا۔ امرا نے جنگ سے بچنے کے لیے فرماں برداری اختیار کی۔[6] عربوں کی طرف سے خراج کی شرط نے آرمینی معیشت اور معاشرت پر اثر ڈالا۔ دوین میں سکے چلائے گئے اور آرمینی عوام کو اضافی زرعی اور صنعتی مصنوعات تیار کر کے فروخت کرنا پڑیں۔ اقتصادی بحالی کے ساتھ قفقاز میں شہری زندگی ترقی پزیر ہوئی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "معلومات عن إمارة أرمينية على موقع id.loc.gov"۔ id.loc.gov۔ 2020-04-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ Canard & Cahen 1960, pp. 635–637
- 1 2 3 Canard & Cahen 1960, p. 635
- 1 2 Canard & Cahen 1960, pp. 636–637
- 1 2 3 4 5 6 Canard & Cahen 1960, p. 636
- ↑ Canard & Cahen 1960, p. 637
- امارت آرمینیا
- خلافت عباسیہ کی ذیلی تقسیم
- سابقہ امارات
- سابقہ امارتیں
- ساتویں صدی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 885ء کی تحلیلات
- اموی خاندان
- سابقہ فرماں روائیاں
- ایشیا کی سابقہ فرماں روائیاں
- ایران کا تاریخی جغرافیہ
- خلافت امویہ
- 650ء کی دہائی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- تاریخ آرمینیا
- قدیم آرمینیا
- مشرق وسطی کے سابقہ ممالک