امامت (اہل تشیع)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Imamah Islamic
إمام
بادشاہت
120px
Imamah
Al mehdi.jpg
موجودہ:
امام مہدی امام مہدی -
محمد بن الحسن مہدی for اثنا عشریہ

Aṭ-Ṭayyib Abī'l-Qāṣim - طيب ابو القاسم for Ṭāyyibī-Mustā‘lī اسماعیلی Muslims
The living Imām for نزاریہ Muslims
Imāms continuing by the President of Yemen for زیدیہ with no divine attributes

انداز: {{{his/her}}} منصب شاہی
پہلا بادشاہ / شہنشاہ: ابوبکر صدیق
قیام: 17 جون 656

امامت یا عقیدہ امامت تمام شیعہ مکاتب فکر کی اصل بنیاد اور شیعیت کا اصل الاصول ہے۔ اہل تشیع کے عقیدہ امامت سے مراد ہے کہ جس طرح اللہ نے صفت عدل ااور حکمت و رحمت کے لازمی تقاضے سے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا اور انبیاء و رسل کو لوگوں کی ہدایت رہنمائی اور ان کی قیادت و سربراہی کے لئے بھیجا۔ جن کی بعثت سے بندوں پر اللہ کی حجت قائم ہوئی تھی اور وہ اس اتمام حجت کے بعد ہی آخرت میں ثواب یا عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی طرح اللہ نے انبیاء و رسل کے بعد بندوں کی ہدایت و رہنمائی اور قیادت و سیادت جاری رکھنے کے لئے اور ان پر حجت قائم رہنے کے لئے امامت کا سلسلہ قائم کر کے قیامت تک کے لئے امام نامزد کر دیئے۔تمام شیعہ مکاتب فکر میں ہر شخص کے لئے اپنے زمانے کے امام کی معرفت اطاعت کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔۔


مکاتب فکر[ترمیم]

اثنا عشری نقطہ نظر[ترمیم]

شیعہ کے سب سے بڑے گروہ[کون سا ؟] کا نظریہ ہے امامت ایک مکمل نظام ہے۔ اور ان پاک اور معصوم ہستیوں کے وجود سے کائنات کا نظام اللہ کے حکم سے چلتا ہے۔ شیعہ[کون سا ؟] بارہ آئمہ کو مانتے ہیں۔ بعض لوگوں کا دعوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے بارہ ائمہ علیہم السلام پر کوئی تصریح نہیں فرمائی یا بعض لوگ کہتے ہیں کہ بارہ امام معاذ اللہ امام ہی نہيں ہیں بلکہ امام تو چار فقیہ ہیں جو چار فقہوں کے بانی سمجھے جاتے ہیں اور ان کو بارہ اماموں کو امام کہا جاتا ہے تو یہ صرف احترام کی خاطر ہے جو ایک نادرست اور بےبنیاد دعوی ہے۔ اور اس قول کی سبکی اور خفت بخوبی واضح ہوگی بشرطیکہ فریقین کے منابع و مصادر کا اجمالی سا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی رسالت کے دور میں بار بار امت اسلامی کی رہبری و امامت و پیشوائی کی وضاحت فرمائی ہے اور اپنے بعد مسلمانوں کے فرائض کو بھی واضح فرمایا ہے۔ البتہ ان احادیث میں اجمال اور تفصیل کے لحاظ سے اختلاف ہے جنہيں ہم تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: 1۔ پہلی قسم: وہ احادیث جو اجمالی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد امامت و رہبری اور آپ(ص) کی جانشینی پر تصریح کرتی ہیں۔ یہ احادیث رسول خدا(ص) نے اپنے خاندان اور اہل بیت علیہم السلام تک محدود رکھی ہیں۔ ان احادیث میں مشہور ترین حدیث "حدیث ثقلین" ہے جو شیعہ اور سنی کتب میں تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ حدیث ثقلین مشابہ عبارات کے ساتھ نقل ہوئی ہے لیکن عبارت ثابت ویکسان ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ نے فرمایا: "انی قد تركت فیكم الثقلین، ما ان تمسكتم بهما لن تضلوا بعدی واحدهما اكبر من الآخر، كتاب الله حبل ممدود من السماء الی الأرض وعترتی اهل بیتی، ألا وانهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض([1])»; یعنی بےشک میں تمہارے درمیان در گران بہا امانتیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کا دامن تھامے رہو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا ہے اور دوسری میری عترت اور اہل بیت، ان میں سے ایک امانت دوسری سے بڑی ہے، کتاب اللہ جو اللہ کی کھنچی ہوئی رسی ہے آسمان سے زمین تک اور میری عترت یعنی میرا خاندان۔ اور جان لو کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے حتی کہ قیامت کے دن حوض کے کنارے مجھ پر وارد ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ اہل بیت اور عترت رسول(ص) کو قرآن کے برابر ثقل و عِدل کے طور پر بیان متعارف کرایا گیا ہے اور اگر کوئی ان دونوں کا سہارا لے تو وہ گمراہی سے نجات پائے گا اور قیامت تک قرآن کے ہمراہ ہیں اور قرآن کے مفسر اور مُبَیِّن ہیں۔ یہ ارشاد نبوی شیعہ عقائد کے ساتھ مکمل طور پر موافق و مطابق ہے اور اسلام کے بعض فرقوں کے عقائد کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ پس امامت صرف گل سر سبد اور سرسلسلۂ امامت حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ذات با برکات میں ہی محدود و منحصر نہیں ہے بلکہ بعد کے زمانوں میں ان کے فرزندوں تک اور قائم آل محمد حضرت مہدی(عج) تک میں جلوہ گر ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ثقلین سے تمسک کا حکم ناقص ہوتا جبکہ قرآن مجید میں ارشاد رب متعال ہے: "وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى"۔ (2) اور وہ نفسانی خواہشوں سے بات نہیں کرتا ٭ نہیں ہوتی وہ (آپ(ص) کی بات) مگر وحی جو بھیجی جاتی ہے۔ 2۔ دوسری قسم: یہ وہ روایات ہیں جن میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی تعداد پر تصریح کی گئی ہے اور ان روایات میں تعداد کو 12 ائمہ طاہرین تک محدود کیا جاتا ہے۔ یہ احادیث مختلف اسناد اور مختلف عبارات کے ساتھ نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کرتے ہیں: الف) صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جابر بن سمرہ کہتا ہے: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ(ص) نے فرمایا: "یكون بعدی اثنا عشر امیراً۔ ۔ ۔ كلهم من قريش"۔ میرے بعد بارہ امیر اور خلیفہ ہونگے اور وہ سب قریش سے ہونگے۔ یہ حدیث اسی صورت میں شیخ صدوق کی الامالی اور الخصال میں بھی نقل ہوئی ہے اور دوسرے شیعہ منابع میں بھی۔ (3) ب) صحیح مسلم میں بھی جابر بن سمرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: "لا یزال هذا الامر عزیزاً الی اثنی عشر خلیفهً۔ ۔ ۔ كلهم من قریش"۔ امامت کا یہ امر باقی ہے اور بار خلفاء کے ذریعے ہمیشہ قائم و دائم ہے اور وہ سب قریش سے ہیں۔ (4)۔ ج) شعبی مسروق سے نقل کرتا ہے کہ: ہم عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ہمارے لئے قرآن پڑھ رہے تھے۔ ایک شخص نے ابن مسعود سے کہا: کیا آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے پوچھا ہے کہ کتنے افراد اس امت پر خلافت کریں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا: "نعم و لقد سألنا رسول الله ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ فقال: اثنا عشر، كعدّه نقباء بنی اسرائیل"۔ جی ہاں! ہم نے پوچھا اور آپ(ص) نے جواب دیا: بارہ افراد بنی اسرائیل کے دینی پیشواؤں کے تعداد کے برابر۔ یہ حدیث مسند ابن حنبل (5)، مجمع الزوائد ہیثمی (6)، مسند ابی یعلی (7) اور حاکم نیسابوری کی مستدرک (8) میں بھی نقل ہوئی ہے۔ 3ـ تیسری قسم: وہ روایات جو ائمہ علیہم السلام کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے ناموں پر بھی تصریح کرتی ہیں۔ یہ حدیثیں فریقین کے منابع میں نقل ہوئی ہیں اور ہم یہاں نمونے کے طور پر بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں: الف) خوارزمی نے مقتل الحسین میں سلمان المحمدی سے نقل کیا ہے کہ: ہم رسول خدا(ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے جبکہ حسین(ع) آپ(ص) کی آغوش میں تھے، آپ(ص) نے ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا اور فرمایا: "انك سید ابو سادة، انك امام ابن ائمه، انك حجة ابن حجة ابو حجج تسعة من صلبك، تاسعهم قائمهم۔ (9) بےشک تم سید ہو سادات کے فرزند، بےشک تم امام ہو ائمہ کے فرزند، آپ حجت ہیں 9 حجتوں کے باپ، جو تمہاری صلب سے ہیں جن میں آخری قائم آل محمد(ص) ہیں۔ ب) جوینی نے فرائد السمطین میں نقل کیا ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) سے عرض کیا: ہمیں اپنے جانشین سے آگاہ کریں، کیونکہ کوئی بھی ایسا پیغمبر نہیں ہے جس کا کوئی جانشین نہ ہو اور ہمارے نبی نے یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین قرار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے جواب دیا: بےشک میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ علی بن ابی طالب ہیں اور ان کے بعد ان کے دو بیٹے حسن اور حسین اور ان کے بعد نو مزید امام ہیں جو حسین بن علی کی صلب سے ہیں۔ نعثل نے کہا: اے محمد(ص)! ان نو جانشینوں کے نام بھی میرے لئے بیان کریں۔ اور رسول اللہ(ص) نے ان کے نام بھی بیان فرمائے۔ (10) البتہ اہل سنت میں سے بعض نے اپنی کتب میں حقائق سے بھاگنے کی کوشش میں ان روایات کو نقل نہيں کیا ہے۔ حالانکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جب وہ بارہ امراء اور ائمہ کی حدیث کو تسلیم کرکے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں رکھتا سوا اس کے شیعیان آل رسول(ص) کے بارہ اماموں کو قبول کريں کیونکہ اہل سنت میں سے بعض علماء بارہ اماموں کو اپنے عقیدے کے مطابق مرتب کرنے کی کوشش میں انحراف کا شکار ہوئے ہیں اور غلط راستے پر چل نکلے ہیں۔ (11) اور انھوں نے ایسے افراد کے نام بارہ اماموں کے عنوان سے ذکر کئے ہیں جن کا فسق و فجور واضح و آشکار ہوچکا ہے اور حتی اہل سنت کی اپنی کتابوں میں بھی ان کے فسق و فجور پر تاکید ہوئی ہے۔ (12) حالانکہ ائمہ اور رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کو ہادی و راہبر اور ضلالت و گمراہی سے نجات دہندہ ہونا چاہئے نہ یہ کہ وہ خود ہدایت و راہنمائی کے محتاج ہوں۔ ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض لوگوں نے کہا ہے کہ تمام شیعہ مکاتب ائمہ کی تعداد پر متفق القول نہیں ہیں۔ ان لوگوں کا اشارہ اسماعیلی، بوہری اور زیدی فرقوں کی طرف ہے جن کے ہاں ائمہ کی تعداد 4 یا چھ یا سات ہے؛ اور ان کے جواب میں یہی کہنا کافی ہے کہ اگر مسلمانوں کے بعض فرقے اہل تشیع کے ساتھ بعض عقائد میں متفق ہیں اور شیعہ کہلاتے ہیں تو اس بات کی دلیل ہرگز نہيں ہے کہ وہ سب ایک مکتب میں شامل ہیں اور دوسرے فرقوں کو بھی مکتب امامیہ کا جزء قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیعہ کا نام بغیر کسی قید و شرط کے صرف اور صرف امامیہ اثناعشریہ اور جعفریہ مکتب کا دوسرا نام ہے۔ یہ وہی مکتب ہے جس کے ماننے والے اپنے آپ کو فرقہ ناجیہ یا نجات یافتہ مکتب، اور مذہب حقہ سمجھتے ہیں اور شیعہ اثنا عشریہ کے علماء کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اسی بنا پر شیعہ اثنا عشریہ ان فرقوں کو باطل اور مکتب سے خارج سمجھتے ہیں جو ائمہ علیہم السلام کی تعداد میں اس مکتب کے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں چاہے وہ شیعہ ہی کیوں نہ کہلائیں کیونکہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے فرمان کی مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں چنانچہ وہ شیعہ سے جدا ہیں۔ جیسا کہ شیعیان امامیہ نے غالیوں کو خارج از اسلام قرار دیا ہے جو امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کے لئے الوہیت کے قائل ہیں اور انہیں خدا سمجھتے ہیں۔ (معاذ اللہ) یہ لوگ شیعہ امامیہ کے ہاں کافر ہیں۔ علاوہ بریں یہ اعتراض خود اہل سنت پر بھی وارد ہے کیونکہ سنیوں کے بھی مختلف فرقے ہیں جیسے: اشعریہ، معتزلہ، ماتریدیہ، اور آج کل کے زمانے میں سلفیہ، تکفیریہ، وہابیہ، اخوانیہ، دیوبندیہ، بریلویہ وغیرہ جو اگرچہ نام "سنی" میں سب شریک ہیں تاہم ان میں سے ہر ایک کے اپنے خاص عقائد و نظریات ہیں اور بہت سے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں جن میں تکفیری ـ وہابی فرقہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو تقریبا تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔

اسماعیلی نقظہ نظر[ترمیم]

زیدی نقطہ نظر[ترمیم]

امام[ترمیم]

بارہ امام[ترمیم]

بارہ اماموں کی فہرست[ترمیم]

نمبر. نام
(مکمل)
کنیت
لقب
عربی
ترکی[lower-alpha 1]
تاریخf
پیدائش - وفات
(CE/AH).[lower-alpha 2]
مقام پیدائش
اہمیت وجہ اور مقام وفات، شہادت
اور مقام تدفین[lower-alpha 3]
1 علی ابن ابی طالب [lower-alpha 4][1]

Abu al-Hasan [lower-alpha 5][2]

امیرالمومنین[lower-alpha 6][3]
(The Commander of the Faithful)


علی بن ابی طالب[4]
600–661[3] / 23(before Hijra)–40[5]
مکہ,
سعودی عرب[3]
The First[6] Imam[1][7] and the rightful Successor of Muhammad[8] of all Shia however, the اہل سنتs acknowledge him as the fourth Caliph as well.[1] He holds a high position in almost all Sufi Muslim orders (Turuq); the members of these orders trace their lineage to Muhammad through him.[3] Assassinated by ابن ملجم, a خارجی in کوفہ, who slashed him with a poisoned sword while he was praying.[3][9]
Buried in نجف,[1] عراق.
2 حسن بن علی [lower-alpha 7][1]

ابو محمد [lower-alpha 8]خطا در حوالہ: Invalid <ref> tag;

refs with no content must have a name

المجتبی [lower-alpha 9][10]
(The Chosen)


İkinci Ali[4]
625–670[11] / 3–50[1][12]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[11]
He was the eldest surviving grandson of محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم through Muhammad's daughter, Fatimah az-Zahra. Hasan succeeded his father as the caliph in کوفہ, and on the basis of peace treaty with معاویہ بن ابو سفیان, he relinquished control of عراق following a reign of seven months.[11] Poisoned by his wife in مدینہ منورہ, سعودی عرب on the orders of the Caliph Muawiya, according to Twelver Shiite belief.[13]
Buried in جنت البقیع, مدینہ منورہ,[1] سعودی عرب.[11]
3 حسین بن علی [lower-alpha 10][1]

ابو عبداللہ [lower-alpha 11][14]

سید الشہدا[lower-alpha 12][15]
(شہیدوں کا استاد)


Üçüncü Ali[16]
626–680[17] / 4–61[1][18]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[19]
He was a grandson of محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم and brother of Hasan ibn Ali. Husayn opposed the validity of خلافت یزید بن معاویہ. As a result, he and his family were later killed in the واقعہ کربلا by Yazid's forces.[1] After this incident, the commemoration of Husayn ibn Ali has become a central ritual in Shia identity.[19] Killed and beheaded at the واقعہ کربلا.[19]
Buried at the روضۂ امام حسين in کربلا,[1][17] عراق.[19]
4 علی بن حسین [lower-alpha 13][20]

ابو محمد [lower-alpha 14][14][21]

السجاد [lower-alpha 15][20]

زین العابدین [lower-alpha 16][20][22]
(One who constantly Prostrates the Ornament of the Worshippers)


Dördüncü Ali[4]
658/9[22] – 712[23] / 38[20][22]–95[20][23]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[22]
Author of prayers in صحیفہ سجادیہ,[20] which is known as "The Psalm of the Household of the Prophet."[23] According to most Shia scholars, he was poisoned on the order of Caliph al-Walid I in مدینہ منورہ, سعودی عرب.[23]
Buried in جنت البقیع, مدینہ منورہ, سعودی عرب[20]
5 محمد بن علی [lower-alpha 17][20]

اوب جعفر [lower-alpha 18][14][24]

باقرالعلوم [lower-alpha 19][25]
(The Revealer of Knowledge)


Beşinci Ali[4]
677–732[25] / 57–114[20][25]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[25]
Sunni and Shia sources both describe him as one of the early and most eminent legal scholars, teaching many students during his tenure.[20][25][26] According to some Shia scholars, he was poisoned by Ibrahim ibn Walid ibn 'Abdallah in مدینہ منورہ, سعودی عرب on the order of Caliph ہشام بن عبدالملک.[23]
Buried in جنت البقیع, مدینہ منورہ,[20] سعودی عرب.
6 جعفر بن محمد [lower-alpha 20][20]

Abu Abdillah [lower-alpha 21][14][20]

الصادق [lower-alpha 22][27]
(The Honest)


Altıncı Ali[4]
702–765[20][27] / 83–148[20][27]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[27]
Established the Ja'fari jurisprudence and developed the theology of Twelvers.[20] He instructed many scholars in different fields, including ابو حنیفہ[20] and امام مالک in fiqh, Wasil ibn Ata and Hisham ibn Hakam in Islamic theology, and Geber in science and alchemy.[27] According to Shia sources, he was poisoned in مدینہ منورہ, سعودی عرب on the order of Caliph ابو جعفر المنصور.[27]
Buried in جنت البقیع, مدینہ منورہ, سعودی عرب.[20]
7 موسی بن جعفر[lower-alpha 23][20]

Abu al-Hasan I [lower-alpha 24][14][28]

الکاظم [lower-alpha 25][29]

(The Calm One)


Yedinci Ali[4]
744–799[20][29] / 128–183[20][29]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[29]
Leader of the Shia community during the schism of اسماعیلی and other branches after the death of the former Imam, جعفر الصادق.[30] He established the network of agents who collected khums in the Shia community of the مشرق وسطی and the خراسان. He holds a high position in Mahdavia; the members of these orders trace their lineage to Muhammad through him.[31] Imprisoned and poisoned in بغداد, عراق on the order of Caliph ہارون الرشید, according to Shiite belief.[32]
Buried in the Kazimayn shrine in Baghdad, Iraq.[20][29]
8 علی بن موسی[lower-alpha 26][20]

ابو الحسن II [lower-alpha 27][14]
[28]

ar-Rida [lower-alpha 28][33]
(The Pleasing One)


Sekizinci Ali[4]
765–817[20][33] / 148–203[20][33]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[33]
Made crown-prince by Caliph مامون الرشید,[34] and famous for his discussions with both Muslim and non-Muslim religious scholars.[33] According to Shia sources, he was poisoned in مشہد, ایران on the order of Caliph مامون الرشید.[34]
Buried in the مزار امام علی رضا in مشہد, ایران.[33][34]
9 محمد بن علی[lower-alpha 29][34]

ابو جعفر [lower-alpha 30][14]

al-Taqi [lower-alpha 31][34]

(The God-Fearing)

al-Jawad [lower-alpha 32][35]
(The Generous)


Dokuzuncu Ali[4]
809[34] or 810 –835[34][35] / 195–220[35]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[35]
Famous for his generosity and piety in the face of persecution by the خلافت عباسیہ caliphate.[36] Poisoned by his wife, Al-Ma'mun's daughter, in بغداد, عراق on the order of Caliph Al-Mu'tasim, according to Shiite sources.[37]
Buried in the Kazmain shrine in Baghdad, Iraq.[34][35]
10 علی ابن محمد[lower-alpha 33][34]

ابو الحسن III [lower-alpha 34][14]
[38]

الہادی [lower-alpha 35][39]

(The Guide)

النقی [lower-alpha 36][34]

(The Pure)


Onuncu Ali[4]
827–868[34][38] / 212–254[38]
Surayya, a village near مدینہ منورہ,
سعودی عرب[38]
He taught religious sciences until 243/857.[34] Strengthened the network of deputies in the Shia community. He sent them instructions, and received in turn financial contributions of the faithful from the khums and religious vows.[38] According to Shia sources, he was poisoned in سامرا, عراق on the order of Caliph Al-Mu'tazz.[40]
Buried in the Al Askari Mosque in Samarra, Iraq.[34]
11 حسن بن علی[lower-alpha 37][34]

Abu Muhammad [lower-alpha 38][41][42]

العسکری [lower-alpha 39][34][43]
(The Citizen of a Garrison Town)


Onbirinci Ali[4]
846–874[43] / 232–260[34][43]
مدینہ منورہ,
سعودی عرب[43]
For most of his life, the Abbasid Caliph, Al-Mu'tamid, placed restrictions on him after the death of his father.[44] Repression of the Shiite population was particularly high at the time due to their large size and growing power.[45] According to Shia, he was poisoned on the order of Caliph Al-Mu'tamid in سامرا,[44] عراق.
Buried in Al Askari Mosque in Samarra, Iraq.[34][44][45]
12 محمد ابن الحسن[lower-alpha 40][34]

ابو القاسم [lower-alpha 41][15]

مہدی [lower-alpha 42][34][46]

(The Guided One or The Guide),

امام غائب [lower-alpha 43][47]

al-Hujjah [lower-alpha 44][15][48]

(The Proof)

صاحب الزمان [lower-alpha 45][41] (The Lord of Our Times)

صاحب الامر[lower-alpha 46][41]

(The one vested with Divine authority)

القائم [lower-alpha 47][15]

(The one who will rise and fill the universe with the Justice)

بقیہ الله [lower-alpha 48][15]

(God's Remainder)


Onikinci Ali[4]
868–Now[49][49] / 255 or 256[34] –Now[49]
سامرا, عراق
According to Twelver Shiite doctrine, he is an actual historical personality and is the current Imam and the promised محمد مہدی, a messianic figure who will return with Christ. He will reestablish the rightful governance of Islam and replete the earth with justice and peace.[50] According to Shia doctrine, he has been living in the Occultation since 872, and will continue as long as God wills it.[49]

اسماعیلی امام[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: List of Ismaili imams

مزید دیکھئے: Mustali, Hafizi, اور Nizari

زیدی امام[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: Imams of Yemen

اہل سنت اور شیعہ عقیدہ امامت[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. ^ The Imam's Arabic titles are used by the majority of Twelver Shia who use عربی زبان as a liturgical language, including the Usooli, اخباری (اہل تشیع), Shaykhi, and to a lesser extent Alawi. Turkish titles are generally used by Alevi, a fringe Twelver group, who make up around 10% of the world Shia population. The titles for each Imam literally translate as "First Ali", "Second Ali", and so forth. Encyclopedia of the Modern Middle East and North Africa. Gale Group. 2004. ISBN 978-0-02-865769-1..
  2. ^ The abbreviation CE refers to the قبل مسیح solar calendar, while AH refers to the Islamic Hijri lunar calendar
  3. ^ Except Twelfth Imam
  4. ^ علي بن أبي طالب
  5. ^ أبو الحسن
  6. ^ امیرالمؤمنین
  7. ^ حسن بن علي
  8. ^ أبو محمد
  9. ^ المجتبی
  10. ^ حسین بن علي
  11. ^ أبو عبدالله
  12. ^ سیّد الشهداء
  13. ^ علي بن الحسین
  14. ^ أبو محمد
  15. ^ السجّاد
  16. ^ زین العابدین
  17. ^ محمد بن علي
  18. ^ أبو جعفر
  19. ^ باقرالعلوم
  20. ^ جعفر بن محمد
  21. ^ أبو عبدالله
  22. ^ الصادق
  23. ^ موسی بن جعفر
  24. ^ أبو الحسن الاول
  25. ^ الکاظم
  26. ^ علي بن موسی
  27. ^ أبو الحسن الثانی
  28. ^ الرضا
  29. ^ محمد بن علي
  30. ^ أبو جعفر
  31. ^ التقی
  32. ^ الجواد
  33. ^ علي بن محمد
  34. ^ أبو الحسن الثالث
  35. ^ الهادی
  36. ^ النقی
  37. ^ الحسن بن علي
  38. ^ أبو محمد
  39. ^ العسگری
  40. ^ محمد بن الحسن
  41. ^ أبو القاسم
  42. ^ المهدی
  43. ^ الامام الغائب
  44. ^ الحجة
  45. ^ صاحب الزمان
  46. ^ صاحب الامر
  47. ^ القائم
  48. ^ بقیةالله

حوالہ جات[ترمیم]

1۔ یہ روایت شیعہ اور سنی کتب میں مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ رجوع کریں: صحیح مسلم، ج4، ص1873 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی؛ سنن ترمذی، دار احیاء التراث العربی، ج5، ص663 و كنز العمال، فاضل هندی، مؤسسه الرساله، ج1، ص380، و بحار الانوار، مجلسی، دار احیاء التراث العربی، ج23، ص106۔ 2۔ سورہ نجم آیات 3 و 4۔ 3۔ صحیح بخاری، باب الاستخلاف حدیث 6796 ۔ دار احیاء التراث العربی، ج9، ص101۔ 4۔ صحیح مسلم، ج3، ص1453۔ 5۔ سند احمد بن حنبل، شعیب الارنؤوط، مؤسسة الرساله، ج6، ص321۔ 6۔ هیثمی، مجمع الزوائد، دار الكتاب العربی، بیروت، ج5، ص190۔ 7۔ مسند ابویعلی موصلی، دار المأمون، بیروت، ج8، ص444۔ 8۔ حاكم نیشابوری، مستدرك، دار المعرفه، بیروت، ج4، ص501۔ 9۔ خوارزمی، مقتل الحسین، مكتبه المفید، قم، ج1، ص146۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں: حدثنا أبي (ر) قال: حدثنا سعد بن عبد الله بن أبي خلف قال حدثني يعقوب بن يزيد عن حماد بن عيسى عن عبد الله بن مسكان عن أبان بن تغلب عن سليم بن قيس الهلالي عن سلمان الفارسي رحمه الله قال: دخلت على النبي صلی الله عليه وآله وإذا الحسين عليه السلام على فخذيه وهو يقبل عينيه ويلثم فاه، وهو يقول: أنت سيد إبن سيد، أنت إمام إبن إمام أبو الأئمة، أنت حجة إبن حجة أبو حجج تسعة من صلبك، تاسعهم قائمهم۔ الشيخ الصدوق - الخصال - رقم الصفحة 475۔ 10۔ جوینی، فرائد السمطین، مؤسسه المحمودی، بیروت، ج2، ص134۔ 11۔ رجوع کریں: فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، بیروت، دار المعرفة، ج13، ص214۔ (اس سلسلے میں بہت زیادہ اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور پھر ایک قول کو پسند کرتا ہے اور بعض افراد کو ائمہ اثنا عشر کے عنوان سے ذکر کرتا ہے جن میں ایک یزید بن معاویہ ہے) اور رجوع کریں: البدایة والنهایة، ابن كثیر، دار المكتب العلمیة، بیروت، ج6، ص256۔ 12۔ جن میں سے ایک یزید بن معاویہ ہے جس کے فسق و فجور میں کسی کو بھی شک و شبہہ نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر لکھتا ہے: "اكثر ما نقم علیه فی عمله (یزید) شرب الخمر واتیان بعض الفواحش" (البدایة والنهایة، ابن كثیر، دار الكتب العلمیة، ج8، ص235) یزید کے اعمال میں اس سے نفرت کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ وہ شراب خوار تھا اور بعض فحش اعمال انجام دیتا تھا۔ اور ابن حجر لکھتا ہے: اهل سنت یزید کی تکفیر میں اختلاف رکھتے ہیں۔۔۔ تاہم اگر اس کو مسلمان قرار دیا جائے تو بھی وہ ایک فاسق اور شراب خوار شخص تھا۔ (الصواعق المحرقة، ابن حجر هیثمی، مكتبة القاهرة، 1385 ق، ص221) تو کیا جس شخص کے کفر میں اختلاف ہو اور اس کے فسق و فجور پر اتفاق، مسلمانوں کا امام اور خلیفہ ہوسکتا ہے؟

  1. ^ 1.00 1.01 1.02 1.03 1.04 1.05 1.06 1.07 1.08 1.09 1.10 Chittick 1980, p. 137
  2. ^ Rizvi 1988, p. 48
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 3.3 3.4 Nasr 2007
  4. ^ 4.00 4.01 4.02 4.03 4.04 4.05 4.06 4.07 4.08 4.09 4.10 Encyclopedia of the Modern Middle East and North Africa. Gale Group. 2004. ISBN 978-0-02-865769-1.
  5. ^ Tabatabaea 1979, pp. 190–192
  6. ^ Poonawala 1985
  7. ^ Amir-Moezzi 2005
  8. ^ Mashita 2002, p. 69
  9. ^ Tabatabae 1979, p. 192
  10. ^ Corbin 1993, p. 50
  11. ^ 11.0 11.1 11.2 11.3 Madelung 2003
  12. ^ Tabatabae 1979, pp. 194–195
  13. ^ Tabatabae 1979, p. 195
  14. ^ 14.0 14.1 14.2 14.3 14.4 14.5 14.6 14.7 رضوی 1988, p. 49
  15. ^ 15.0 15.1 15.2 15.3 15.4 Amir-Moezzi 1994, p. 174
  16. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام .D8.B9.D9.84.D9.88.DB.8C کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  17. ^ 17.0 17.1 Tabatabaei 1975, pp. 198–199
  18. ^ Tabatabae 1979, pp. 196–199
  19. ^ 19.0 19.1 19.2 19.3 Madelung 2004
  20. ^ 20.00 20.01 20.02 20.03 20.04 20.05 20.06 20.07 20.08 20.09 20.10 20.11 20.12 20.13 20.14 20.15 20.16 20.17 20.18 20.19 20.20 20.21 20.22 20.23 20.24 Chittick 1980, p. 138
  21. ^ Qurashi 2007, p. 17
  22. ^ 22.0 22.1 22.2 22.3 Madelung 1985
  23. ^ 23.0 23.1 23.2 23.3 23.4 Tabatabae 1979, p. 202
  24. ^ Qurashi 1999
  25. ^ 25.0 25.1 25.2 25.3 25.4 Madelung 1988
  26. ^ Tabatabae 1979, p. 203
  27. ^ 27.0 27.1 27.2 27.3 27.4 27.5 Tabatabae 1979, pp. 203–204
  28. ^ 28.0 28.1 Madelung 1985c
  29. ^ 29.0 29.1 29.2 29.3 29.4 Tabatabae 1979, p. 205
  30. ^ Tabatabae 1979, p. 78
  31. ^ Sachedina 1988, pp. 53–54
  32. ^ Amir-Moezzi 2011, p. 207
  33. ^ 33.0 33.1 33.2 33.3 33.4 33.5 Tabatabae 1979, pp. 205–207
  34. ^ 34.00 34.01 34.02 34.03 34.04 34.05 34.06 34.07 34.08 34.09 34.10 34.11 34.12 34.13 34.14 34.15 34.16 34.17 34.18 34.19 Chittick 1980, p. 139
  35. ^ 35.0 35.1 35.2 35.3 35.4 Tabatabae 1979, p. 207
  36. ^ Qurashi 2005
  37. ^ Al-Tabataba'i 1977, p. 207
  38. ^ 38.0 38.1 38.2 38.3 38.4 Madelung 1985a
  39. ^ Dungersi, p. 2
  40. ^ Tabatabae 1979, pp. 208–209
  41. ^ 41.0 41.1 41.2 Rizvi 1988, p. 50
  42. ^ Qurashi 2005, p. 18
  43. ^ 43.0 43.1 43.2 43.3 Halm 1987
  44. ^ 44.0 44.1 44.2 Dungersi, p. 28
  45. ^ 45.0 45.1 Tabatabae 1979, pp. 209–210
  46. ^ Amir-Moezzi 2007
  47. ^ Amir-Moezzi 1994, p. 115
  48. ^ Nasr 2013, p. 161
  49. ^ 49.0 49.1 49.2 49.3 Tabatabae 1979, pp. 210–211
  50. ^ Tabatabae 1979, pp. 211–214