امام بری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سید عبدالطیف کاظمی قادری کا تعلق قادری سلسلہ سے ہے [1] آپ بری امام (خشکی کے امام)کے لقب سے زیادہ مشہور ہیں آپ کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پور شاہاں میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں اس سے پہلے یہ جگہ چور پور کہلاتی تھی[2]

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

والدین[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری کے والد کا نام سید سخی محمود شاہ کاظمی ہے سیدسخی محمود شاہ کاظمی کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر واقع ہے[3]

سلسلہ نسب[ترمیم]

شاہ لطیف بری بن محمود شاہ بن سید احمد یا حامد بن بودلا شاہ بن اسکندربن عباس بن عبد الغنی بن سید حسین بن سید آدم بن علی شیر بن عبد الکریم بن وجیہ الدین بن محمد ولی بن محمد ثانی الغازی بن رضا دین بن صدر الدین بن محمد احمد ثابق بن ابو القاسم بن پیر بربریاں بن سلطان عبد الرحمن بن اسحاق ثانی بن موسیٰ اول بن محمد عالم بن قاسم عبد اللہ بن محمد اول بن اسحاق بن موسیٰ کاظم[3]

حالات بچپن[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری ( 1617) عیسوی اور (1026) ہجری میں چکوال کے ایک گاؤں کرسال میں پیدا ہوئے یہ شاہجہان کا عہد حکومت تھا سید عبدالطیف کاظمی قادری کے والد سید سخی محمود شاہ کاظمی اپنے پورے خاندان سمیت ہجرت کر کے با غ کلاں آ گئے جو اب آبپارہ کے نام سے مشہور ہے [3]

پرورش[ترمیم]

تعلیم[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ غورغشی (اٹک) گئے جہاں پر دو سال قیام کے دوران آ پ نے فقہ، حدیث، منطق، ریاضی اور علم طب کے متعلق سیکھا کیوں کہ اس دور میں غور غشی (اٹک)علم کا مرکز جانا جاتا تھا [4]

مرشد[ترمیم]

سخی حیات المیر جو غوث اعظم کے پوتے تھےجو حسن ابدال میں مقیم تھے انکا سلسلہ قادریہ تھا [5] جب تک سخی حیات المیر حیات رہے یہ ان کی صحبت میں رہے

شادی[ترمیم]

ضلع ہزارہ کے ایک معزز خاندان کے سردار سید نور محمد کی صاحبزادی بی بی دامن خاتون سے شادی ہوئی ایک بچی پیدا ہوئی جو بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو گئیں اس کے بعد آپکی کی زوجہ بھی وفات پا گئیں دوبارہ آپ نے شادی نہ کی[6]

کرامات[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری بچپن میں مویشی چرایا کرتے تھے ایک بار آپ مویشی چرانے لے کر گئے آپ نے مویشیوں کو کھلا چھوڑ دیا کھ مویشی چر لیں اور خود درخت کے نیچے آرام کرنے لگے آپ کے مویشی چرتے ہوئے کھیتوں میں گھس گئے اور فصل کو نقصان پہنچایا آپ مویشی لے کرواپس آ گئے اتنے میں کھیت کا مالک بھی آ پہنچا اس نے آپ کے والد صاحب کو شکایت لگائی کہ آپ کے مویشیوں نے میری فصل تباہ کر دی ہے اور میرے پاس چشم دید شواہ بھی موجود ہیں جنہوں نے خود مویشیوں کو کھیت میں گھس کر فصل کو تباہ کرتے دیکھا اس پرسید عبدالطیف کاظمی قادری نے جواب دیا کہ فصل کو کسی نے تباہ نہیں کیا فصل بالکل ٹھیک ہے یہ سن کر کھیت کا مالک نے آپ کے والد صاحب سے کہا کہ آپ خود جا کر کھیتوں کی حالت دیکھیں جب آپ کے والد صاحب کھیتوں میں پہنچے تو وہاں کا نظارہ کچھ اور تھا کھیت لہلہا رہے تھے اور فصلیں بھی بالکل ٹھیک تھیں یہ نظارہ دیکھ کہ کھیت کا مالک حیران رہ گیا کہ اس نے جب دیکھا اس وقت کھیتوں کی حالت اور تھی اور اب اور ہے کھیت کا مالک اپنی بات پر پشیمان ہوا اور معافی مانگ کر واپس چلا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ پیدائشی ولی تھے[4]

سید عبدالطیف کاظمی قادری ایک بار پتھر پر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے کہ اس علاقے سے بادشاہ وقت اورنگزیب عالمگیر کا اپنی فوج کے ساتھ گزر ہوا رات ہونے کی وجہ سےاورنگزیب عالمگیر نے فوج کو پڑاؤ کا حکم دیا اور لنگر کی تیاری کا بھی حکم دیا جب لنگر تیار ہوا تواورنگزیب عالمگیر نے حکم دیا کہ تمام علاقے کی عوام کو بھی کھانے میں شرکت کی دعوت دی جاۓ حکم کے مطابق لوگ کھانے کے لیے آ گئے اور کھانا شروع کر دیا اس اثنا میں چند سپاہی اورنگزیب عالمگیر کے پاس حاضر ہوئے اور شکایت لگاتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے آپ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے یہ سن کر اورنگزیب عالمگیر برہم ہوا اور بولا کہ جاؤ اور دوبارہ انہیں ہمارا حکم سناؤ سپاہی چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد جب لوٹے تو انہوں نے دوبارہ وہی جواب دیاجسے سن کر اورنگزیب عالمگیر نے سپاہیوں سے کہا کہ ہم خود جا کر اس شخص کو ملنا چاہتے ہی جب اورنگزیب عالمگیر سید عبدالطیف کاظمی قادری کےپاس پہنچا تو تحکمانا انداز میں سید عبدالطیف کاظمی قادری سے مخاطب ہوا ”کیا وہ تم ہی ہوجس نے ہمارا حکم ماننے سے انکار کیا“سید عبدالطیف کاظمی قادری نے جواب دیا ”ہاں وہ میں ہی ہوں“اس پر اورنگزیب عالمگیر بولا ”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم بادشاہ وقت ہیں اور تم ہماری جاگیر میں موجود ہو“سید عبدالطیف کاظمی قادری نے جواب دیا ”تم جو بھی ہو جاگیر صرف اللہ کی ہے اور اگر تمھیں جاگیر دیکھنے کا بہت شوق ہے تو ہمارے ساتھ اس پتھر پر بیٹھو “ جب اورنگزیب عالمگیر بیٹھا تو اسے اپنے چاروں طرف ہیرے جواہرات سے بنا دربار نظر آیا اور وہ پتھر جس پرسید عبدالطیف کاظمی قادری بیٹھے تھے وہ ایک بہت خوبصورت تخت کی صورت میں نظر آیا “ تواورنگزیب عالمگیر سید عبدالطیف کاظمی قادری سےبولا”مجھے معاف کیجئے گامیں آپ کو نہیں پہچان پا یا تھا اس لیے آپ سے گستاخی کر بیٹھا تھا “یہ سن کرسید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اورنگزیب عالمگیر کو معاف کیا اوراس کے حق میں دعا بھی فرمائی [7]

سیرو سیاحت[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری نے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا جن میں کشمیر، بدخشاں، بخارا ، مشہد، بغداد اور دمشق شامل ہیں آپ حج کی غرض سے مکہ مکر مہ بھی گئےاورمدینہ منورہ بھی گئے تقریبا 25 سال کی عمر میں واپس تشریف لائے۔[2]

اشاعت اسلام[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری نے نور پور شاہاں میں قیام کے دوران اسلام کی تعلیمات کے ذریعے لا تعداد ہندوؤں کے دلوں میں اسلام کی شمع کو روشن کیا [8]

چلہ گاہیں[ترمیم]

آپ کی کئی چلہ گاہیں ہیں جن میں نیلاں بھوتو، گنگڑ [5] نور پور کے غار میں چلہ کشی کی[9] مرشد نے چلہ کشی کے بعد آکر نکالا اور فرمایا امام البر ہو جو بعد میں بری امام ہو گیا

وصال[ترمیم]

شاہ عبدالطیف کا وصال 1117ھ بمطابق 1706ءمیں نور پور شاہاں اسلام آباد میں ہوا۔[10]

مزار[ترمیم]

آپ کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پور شاہاں میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔[6] دربار اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں تیار کروایا[11]

مریدین[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیاء پاکستان جلد اول ،عالم فقری، صفحہ190 شبیر برادرزلاہور
  2. ^ 2.0 2.1 ایضاً صفحہ192
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 ایضاً صفحہ190
  4. ^ 4.0 4.1 ایضاً صفحہ191
  5. ^ 5.0 5.1 ایضاً صفحہ197
  6. ^ 6.0 6.1 ایضاً صفحہ204
  7. ایضاً صفحہ202
  8. ایضاً صفحہ194
  9. ایضاً صفحہ195
  10. حدیقۃ الاولیاء،غلام سرور قادری صفحہ33،تصوف فاؤنڈیشن لاہور
  11. http://www.newsofgujrat.com/sufis.php?id=11873