شمس الائمہ سرخسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امام سرخسی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محیط سرخسی سے مغالطہ نہ کھائیں۔
شمس الائمہ سرخسی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1009  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرخس  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1090 (80–81 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فرغانہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Turkmenistan.svg ترکمانستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

شمس الائمہ سرخسی کا پورا نام ابو بکر محمد بن ابی سہل احمد الملقب بہ رضی الدین سرخسی ہے۔برہان الاسلام بھی ان کا لقب تھا ۔

ولادت[ترمیم]

علامہ سرخسی کی ولادت 400ھ بمطابق 1010ء یا 1009ء بمقام سرخس ہوئی وہ پانچویں صدی کے ان علما سے ہیں جنہیں آیۃمن آیات اللہ کہا جاتا ہے۔ : ابو بکر کنیت اور شمس الائمہ سرخسی سے ملقب تھے۔

حصول علم[ترمیم]

علم دین حاصل کرنے کے لیے شمس الائمہ عبد العزیز حلوانی سے حاصل کیا اور علوم و فنون میں اس قدر کمال حاصل کیا کہ جب ان کے استاد فوت ہوئے تو ان کی مسند پر بیٹھے۔

کنویں میں قید[ترمیم]

امام سرخسی یوں تو خراسان کی ایک بستی سرخس کی طرف منسوب ہیں لیکن حصول علم کے لیے فرغانہ کے علاقے اوزجند میں تشریف لائے آپ بڑے حق گو تھے اس لیے آپ نے ایک کلمہ حق کا بادشاہ کو کہا جس سے وہ ناراض ہو گیا اور آپ کو شہر اوزجند میں ایک کنوئیں کے اندر قید کر دیا جس میں آپ مدت تک قید رہے اور آپ کے شاگرد کنوئیں پر بیٹھ کر آپ سے سبق پڑھتے اور جو آپ کنوئیں کے اندر سے کہتے وہ لکھ لیتے تھے شرح کتاب عبادات اور شرح کتاب الاقرار کو مجلس میں تصنیف کر کے شاگردوں سے لکھوایا

المبسوط کی املا[ترمیم]

شمس الائمہ امام سرخسی کے دل کی خواہش تھی کہ امام حاکم شہید کی کتاب الکافی کی شرح لکھیں۔ چنانچہ انہوں اسی کنویں سے اپنی عظیم کتاب’’المبسوط‘‘املا کرانی شروع کی۔ یہ منفرد شاہکار اوزجندکے ایک گمنام کنویں نما قید خانے میں وجود میں آیا کہ تیس ضخیم جلدوں کی یہ کتاب املا کرادی۔ اس کتاب کو فقہ حنفی کے مستند ماخذ میں شمار کیا جاتا ہے۔
کتاب محیط جو آپ نے تصنیف کی ہے وہ اصل میں چار کتابیں ہیں ایک محیط کبیر جو چالیس مجلد ہے،دوسری دس مجلد،تیسری چار مجلد،چوتھی دو مجلدہے۔ بعض علما کہتے ہیں کہ پہلی محیط کبیر آپ کی تصنیف نہیں بلکہ اس کو حسام الدین صدر الشہید کے بھائی کے بیٹے محمود بن صدر السعید تاج الدین احمد بن برہان الدین صدر الشہیدعبدلعزیز بن عمر بن مازہ نے تصنیف کیا ہے اور اپنے دادا کی طرف منسوب کر کے محیط ب رہانی کے نام سے مشہور کیاہے،باقی تین محیط آپ کی تصنیفات سے ہیں اور ان کو محیط رضوی کہتے ہیں۔

امام سرخسی کی دوسری مشہور ترین کتاب شرح السیر الکبیر ہے جو جنگ اور بین الاقوامی تعلقات کے اسلامی قوانین پر مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب بھی قید ہی کی حالت میں لکھی گئی۔ اس کے علاوہ ایک اور مشہور معروف کتاب’’اصول السرخسی‘‘بھی قید ہی کی حالت میں آپ نے تالیف فرمائی۔ آخر الذکر دونوں کتابوں کا اختتام رہائی کی حالت میں فرمایا۔ جبکہ ’’المبسوط‘‘کتاب مکمل قید کی حالت میں لکھی گئی۔[1]

وفات[ترمیم]

ب رہان الاسلام امام سرخسی 483ھبمطابق 1096ء میں دمشق میں فوت ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الموسوعہ العربيہ العالميہ http://www.mawsoah.net