امام (اسماعیلی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام نبی کے حقیقی وصی کو کہا جاتا ہے۔ اسلام کے دوسرے بڑے فرقے اہل تشیع کے دوسرے بڑے گروہ اسماعیلی میں ناطق، وصی اور امام کی اصطلاح نہایت اہم ہے۔ یہ ایک الہی عہدہ سمجھا جاتا ہے۔
اپنے ہر امام کو اسماعیلی فرقے اہل بیت کی ایک فرد سمجھتے ہیں اور ان کو الہی فیض کا سر چشمہ جانتے ہیں۔ صرف پہلے چھ اماموں تک اثنا عشری شیعوں سے ان کا اتفاق ہے۔ ان میں امام ظاہر اور امام مستور کا نظریہ ہے۔

اثنا عشر یہ شیعہ کے ساتھ مشترکہ امام[ترمیم]

ائمہ اسماعیلی[ترمیم]

یہاں سے اسماعیلیہ کا آغاز ہوتا ہے۔

یہاں سے اسماعیلیہ کے دو گروہ ہو گئے ایک گروہ نے نزار بن معاذ کو اگلا امام جانا اور دوسرے گروہ نے اگلے فاطمی خلیفہ احمد مستعلی کو امام بنا لیا اسی لحاظ سے نزاریہ اور مستعلیہ کہلائے۔

ائمہ مستعلیہ[ترمیم]

یہاں سے مستعلیہ فرقہ نمودار ہوتا ہے جو خود کو دعوت قدیم والا کہتے ہیں۔

  1. احمد مستعلی
  2. امیر بن مستعلی
  3. طیب ابوالقاسم

یہاں سے مستعلیہ کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک گروہ مستعلیہ طیبیہ ہے اور دوسرا مستعلیہ حافظیہ ہے۔

مستعلیہ طیبیہ کے داعی مطلق[ترمیم]

مستعلیہ طیبیہ وہ ہیں جو طیب ابوالقاسم کو اپنا آخری امام جانتے ہیں اور ان کی غیبت کے قائل ہیں۔ اور ان کے نائبین داعی مطلق کہلاتے ہیں۔ ان کو بوہرہ جماعت بھی کہتے ہیں۔
آج کل تمام مستعلیہ، مستعلیہ طیبیہ یا بوہرہ ہی ہیں۔ یہ یمن اور بھارت میں رہائش پزیر ہیں۔
تمام بوہروں کے 26 داعی مطلق مشترکہ ہیں۔ جن کو سب مانتے ہیں۔ بعد میں ان کا داعی مطلق میں اختلاف ہو گیا تو یمن میں ان کو سلیمانی بوہرہ کہا جاتا ہے۔ اور بھارت میں داؤدی بوہرہ کہا جاتا ہے۔ اور جو سنی ہو گئے وہ صغیری بوہرہ کہلاتے ہیں۔

داؤدی بوہرہ کے داعی مطلق[ترمیم]

داؤدی بہرہ کے ایک بہت چھوٹے گروہ علوی بوہرہ کو 1980 ء سے ضیاء الدین صاحب بطور 44 ویں داعی مطلق گجرات کے علاقہ برودہ میں چلا رہے ہیں۔ داؤدی بوہرہ کے 29 ویں داعی مطلق کے انتخاب پر علی بن ابراہیم کے اختلاف پر اس گروہ کو علوی بوہرہ کہا جاتا ہے۔ علوی بوہرہ کی وب گاہ

مستعلیہ حافظیہ کے ائمہ[ترمیم]

مستعلیہ حافظیہ وہ ہیں جو امامت کو اگلے تخت نشین فاطمی خلفاء میں ہی جاری سمجھتے تھے۔ یہ گروہ فاطمی خلفاء کے ختم ہوتے ہی اختتام پزیر ہو گیا۔

  1. الحافظ
  2. الظافر

ائمہ نزاریہ[ترمیم]

یہاں سے نزاریہ فرقے کا آغاز ہوتا ہے۔ جو ابومنصور نزار بن معاذ المصطفی لدین الله کو خلیفہ مانتے تھے۔ یہ دعوت جدید والے کہلاتے ہیں۔ ان کے مخالفین ان کو (حشاشین) کہتے ہیں۔


یہاں نزاریہ کے دو فرقے ہو گئے ایک گروہ مؤمنیہ کہلایا جو شمس الدین کے بڑے بیٹے مؤمن کو امام مانتے ہیں۔ دوسرا قاسمیہ جو شمس الدین کے دوسرے بیٹے قاسم شاہ کو امام مانتے ہیں۔ مؤمنیہ کے بقیہ امام یہ ہیں

ائمہ نزاریہ مؤمنیہ[ترمیم]

  1. مومن بن محمد
  2. محمد بن مومن
  3. رضی الدین بن محمد
  4. طاہر بن رضی الدین
  5. رضی الدین دوم بن طاہر
  6. طاہر بن رضی الدین دوم
  7. حیدر بن طاہر
  8. صدر الدین بن حیدر
  9. معین الدین بن صدر الدین
  10. عطیۃ اللہ بن معین الدین
  11. عزیز بن عطیۃ اللہ
  12. معین الدین دوم بن عزیز
  13. محمد بن معین الدین دوم
  14. حیدر بن محمد
  15. محمد بن حیدر (امیر باقر)

یہاں مؤمنیہ نزاریہ کی امامت کا سلسلہ امام محمد بن حیدر امیر باقر، چالیسویں امام پر سنہ ١٢١ ٠ ھ میں رک گیا۔

ائمہ نزاریہ قاسمیہ[ترمیم]

لیکن قاسمیہ نزاریہ کا (یعنی جو قاسم شاہ کو امام مانتے ہیں) امامت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اور آج کل نزاریہ کے اس بڑے گروہ (یعنی قاسمیہ نزاریہ) کو ان کے آخری چار اماموں کی وجہ سے بعض ممالک میں آغا خانی کہا جاتا ہے۔

منابع[ترمیم]

  • آغاخان کی سوانح عمری
  • ویلیام بوردہی۔ تحقیقی در آیین اسماعیلیہ۔ ترجمہ زہرا سعیدی۔ مشہد: تابناک پبلشر، 1364ھ ش۔
  • محمد بن زین العابدین۔ تاریخ جماعت اسمعیلیہ:ہدایت المومنین الطالبین۔ ترجمہ ہما خاقان زاده. الکساندر سیمونوف۔ تہران: اساطیر، 1362 ھ ش۔