امتناع کارکنان چین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قانون امتناع کارنان چین امریکی حکام کی طرف سے پاس کیا گیا ایک قانون ہے جس کے تحت چینی تارکین وطن کی امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس معاہدے سے پہلے چینیوں کے خلاف بہت سے قانون منظور کیے گئے جن کی تاریخ کچھ یوں ہے۔ 1849ء میں گولڈرش اور مرکزی بحرالکاہل روڈ کی تعمیر کے دوران بہت سے چینی تارکین وطن سستی مزدوری کی وجہ سے کام کرنے لگے۔ ان چینیوں میں زیادہ تعداد کوانتنگ صوبے کے مردوں کی تھی۔ یہ کام امریکا اور کینیڈا دونوں ملکوں کے غربی ساحل کے ساتھ ہو رہا تھا۔ امریکا نے 1868ء میں ایک معاہد برلنگیم پاس کیا جس کی رو سے چینیوں کے دخول کو منضبط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ برلینگم معاہدے کے کچھ ہی عرصہ بعد امریکی حکام نے تعصب اور بدلتی ہوئی معاشی صورت حال کی وجہ سے چینیوں کی آمد پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ 1870ء کے عشرے میں پیدا ہونے والے معاشی بحران نے سستی مزدوری کی طلب کم کر دی اور جلد ہی گورے کام کے حصول کے لیے چین تارکین وطن کے مقابلے پر آنے لگے۔ چینیوں کے خلاف نالپسندیدگی کے جذبات تو امریکیوں کے اندر پہلے ہی موجود تھے لیکن 1860ء اور 1870ء کے عشروں میں ڈینیس کرنی کی مزدور پارٹی کے احتجاجی مظاہروں نے ان جذبات کو مذید بڑھا دیا جس کی وجہ سے چینی مخالف رویہ کیلیفورنیا کی سیاست میں بہت اہمیت اختیار کر گیا۔ 1877ء میں سان فرانسسکو میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ سان فرانسسکو کے علاقے میں بپا ہونے والی ٹریڈ یونین تحریک جزوی طور پر ایک چینی مخالف تحریک تھی۔ ہر مصنوعات پر چسپاں کیے جانے والے یونین لیبلوں نے صارفین کو مزید شہہ دی کہ وہ گوروں اور خارجیوں کی بنائی ہوئی چیزوں کے متعلق امتیازی رویہ اختیار کریں۔ 1879ء میں امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی نے برلنگیم معاہدے میں ترمیم کر کے کانگریس کے سامنے ایک نیا قانون منظوری کے لیے پیش کیا جسے پندرہ مسافر ایکٹ کا نام دیا گیا۔ صدر رُدر فورڈ نے اس قانون کو ویٹو کر دیا لیکن اس کے بعد چینی تارکین وطن کی آمد پر پابندیاں لگانے کے لیے برلنگیم معاہدے (جونستا نزم تھا) کی جگہ ایک نیا قانون تشکیل دے دیا گیا۔ اس معاہدے کی رو سے معلمین، سیاحوں اور سوداگروں کو مستشنی قرار دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد ایک سے ایک بڑھ کر سخت قانون منظور ہونے لگا جن میں سب پہلا قانون 1882ء میں پاس ہوا جس کا نام قانون امتناع کارکنان چین تھا۔ اس معاہدے کے تحت چینی کارکنوں کی آمد پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ چینیوں کے داخلے پر یہ پابندی 1943 تک برقرار رہی۔ جب چین امریکا کے فوجی اتحادیوں میں شامل ہوا اس وقت بھی قانون امتناع کارکنان چین ختم نہیں ہوا بلکہ امریکی حکام نے نسل پرستی کی وجہ سے ایک نیا قانون منظور کیا جس کے تحت صرف 105 کارکنوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا۔ یہ کوٹا سسٹم دوعشروں تک یونہی چلتا رہا لیکن 1965ء میں ایک ترمیم کے ذریعے امیگریشن پالیسی سے نسلی امتیاز کے عنصر کو خارج کر دیا گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عالمی ثقافت کی لغت تالیف کوامے انتھونی اپیاہ اور ہنری لوئی گیٹس جونئیر اردو مترجم پروفیسر حنیف کھوکھر صفحہ 229 ، 230