امجد حیدرآبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Amjad Hussain
Amjad-hyderabadi Photo.jpg
پیدائش1 جنوری 1888(1888-01-01)
حیدرآباد، دکن
وفات31 جنوری 1961(1961-10-31) (عمر  73 سال)
حیدرآباد، دکن
قلمی نامAmjad Hyderabadi امجد حيدرابادى
پیشہRuba'i شاعر
دورنظام حیدرآباد's era
اصنافRuba'i
موضوعانسانیت, فلسفہ

امجد حسین ( اردو: سيد امجد حسين ‎ 1878–1961) ، جو امجد حیدرآبادی ( امجد حيدرابادى حیدرآبادی ) کے نام سے مشہور ہیں ) ، ہندوستان اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والےاردو اور فارسی کے رباعی گو شاعر تھےا ۔ اردو کے شعری حلقوں میں وہ حکیم الشعرا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ [1]

حیدرآباد کے نظام حکمرانی کے دوران ، دریائے موسی پر 28 ستمبر 1908 کو ایک سیلاب آیا تھا۔ حیدرآبادی ان 150 افراد میں شامل تھا جنھوں نے ایک املی کے درخت کی شاخوں کو پکڑ کر اپنی جان بچائی تھی۔ بعد میں انہوں نے ایک نظم "قیامت صغرا" (معمولی قیامت) لکھی جس میں اس ذکر ملتا ہے۔ امجد حیدر آبادی کے 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ستیاناریانہ دانش نے یہ نظم سنائی۔ [2] [3]

ہندوستان کے مشہور قوالوں کی جوڑی وارسی بردرس نے ان کے کلام کو مختلف ملکوں میں ہوئے اپنے پروگراموں میں گایا ہے [4]

سوانح[ترمیم]

امجدحیدرآبادی حیدرآباد دکن میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔

ان کی آنکھوں کے سامنےان کا پورا خاندان ، جس میں اس کی ماں ، بیوی اور بیٹی بھی شامل تھیں 1908 ء میں موسی ندی میں آئی طغیانی میں بہہ گئے تھےاور ان کے خاندان میں زندہ بچ جانے والے یہ واحد فرد تھے۔ ان کی بیشتر رباعیات میں اپنے خاندان والوں کو کھونے کا غم نمایاں ہے[2] یہ ایک مثال ہے۔

اتنی دریا میں بھی نہ دبا امجد

ڈوبنے والوں کو بس ایک چُلو کافی ہے

امجد حیدرآبادی اردو کتب  [ترمیم]

[ حوالہ کی ضرورت ]

  • رباعیات امجد حیدرآبادی
  • ادبی اجلاس و مشاعرہ

امجد حیدرآبادی پر کتابیں[ترمیم]

  • حکیم الشعرا امجد حیدرآبادی [5]
  • کے سی کنڈا کے ذریعہ اردو رباعیات کے شاہکار ۔ [6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]