امرء القیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

چھٹی صدی عیسوی

ظہور اسلام سے قبل عرب کا نامور شاعر نجد میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ حجربن عمر و قبیلہ کندہ کا سردار تھا۔ لڑکپن ہی سے آزاد طبع اور سیلانی تھا۔ جوانی کا بیشتر حصہ صحرانوردی میں گزارا۔ جب حجر اپنے قبیلے کے ہاتھوں مارا گیا تو امرءالقیس جسٹینن قیصرروم سے مدد لینے کے لیے قسطنطنیہ گیا۔ قیصر نے فوج کا ایک دستہ اس کی کمان میں دے دیا۔ مگر ابھی راستے ہی میں تھا کہ قیصر نے اسے ایک زہر آلود عبا (یارزہ) بھیجی جسے پہنتے ہی وہ مر گیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے قیصر کی لڑکی کو ورغلایا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق اس کی موت چیچک سے ہوئی۔

عرب شاعروں نے امرء القیس کا درجہ بہت بلند ہے۔ اُس کے کمال فن نے نہ صرف عرب و ایشیا بلکہ یورپ تک کے نقادوں سے داد تحسین وصول کی۔ اس کا ایک قصیدہ (معلقہ) زمانہ جاہلیت کے ان سات لافانی قصائد (سبعہ معلقات) میں سے ہے جنھیں آب زر سے لکھ کر کعبہ پر آویزاں کیا گیا تھا۔ اس قصیدے کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس کا ایک دیوان بھی موجود ہے۔ جو پہلی بار پیرس سے 1877ء میں شائع ہوا۔