امراؤ بندو خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امراؤ بندو خان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1915  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 اکتوبر 1979 (63–64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گائیک،  موسیقار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

استاد امراؤ بندو خان (پیدائش: 1915ء - وفات: 4 اکتوبر، 1979ء) بر صغیر ہند و پاک کے نامور گایک اور سارنگی نواز تھے۔ وہ ہندوستان کے نامور کلاسیکی گایک اور سارنگی نواز استاد بندو خان کے بیٹے تھے جو خیال گایکی کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت کے حامل تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

استاد امراؤ بندو خان 1915ء کو معروف سارنگی نواز استاد بندو خان کے گھر پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد استاد بندو خان راگ کا مجسمہ تھے، انہوں نے کلاسیکی گایکی کے علاوہ سارنگی نوازی میں میں بھی ایک اہم مقام حاصل کیا، بیسویں صدی کی خیال گایکی کا پورا خزانہ ان کے سینے میں محفوظ تھا۔ یہ ساری چیزیں انہوں نے اپنے فرزند امراؤ بندو خان کو سکھا دیں۔ امراؤ بندو خان نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد استاد بندو خان کے علاوہ استاد چاند خان سے بھی حاصل کی۔ موسیقی کی اسی تعلیم کی وجہ سے امراؤ بندو خان نے 16 برس کی عمر میں آل انڈیا میوزک کانفرنس میں اپنی گلوکاری کی دھوم مچا دی۔ استاد امراؤ بندو خان خان نے اپنےو الد کی وراثت یعنی سارنگی کو بھی زندہ رکھا اور بے شمار شاگردوں کو موسیقی کی تعلیم دی۔ والد کے انتقال کے بعد امراؤ بندو خان نے سارنگی بجانی بالکل چھوڑ دی اور گانا اختیار کیا۔ جوانی جا چکی تھی، پھر بھی انہوں نے ایسا ستھرا، با سلیقہ اور انوکھی باریکیوں والا گانا خلوص کے ساتھ گایا کہ کیا کوئی گائے گا۔ راگوں کے اندر حسن آفرینی کے رموز اور امکانات سے آپ کو بے مثال واقفیت تھی۔ اچھوب راگ بھی آپ کو خوب یاد تھے۔ ان کی بڑی نا قدری ہوئی۔ آخر عمر میں وہ کراچی کی ایک کٹیا میں پھٹی بنیان اور میلے تہبند میں بیٹھے رہتے تھے یا کراچی کے ریڈیو اسٹیشن کے چائے خانے میں چائے اور سگریٹ سے غم غلط کرتے تھے۔[2] ان کے شاگردوں میں ثریا ملتانیکر، نکہت سیما وغیرہ شامل ہیں۔ استاد امراؤ بندو خان نے بے شمار فلموں کے گیت بھی گائے۔ 1981ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی دیا۔ استاد امراؤ بندو خان 4 اکتوبر 1979ء میں کراچی، پاکستان میں وافت پا گئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ذکی احمد ذکی، صدائے پاکستان، جنرل نالج اکیڈمی کراچی، 2015ء، ص 186
  2. ڈاکٹر داؤد رہبر، باتیں کچھ سُریلی سی، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور، 2001ء، ص 60