امراؤ جان (1981 فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امراؤ جان (1981 فلم)
Umrao Jaan movie poster.jpg
امراؤ جان فلم کا پوسٹر
ہدایت کار مظفر علی
پروڈیوسر مظفر علی
تحریر مظفر علی
جاوید صدیقی
شمع زیدی (مکالمے)
منظر نویس مظفر علی
جاوید صدیقی
شمع زیدی
ماخوذ از اردو ناول امراؤ جان ادا 
از مرزا محمد ہادی رسوا
ستارے ریکھا
سیما ستھیو
فاروق شیخ
نصیر الدین شاہ
ام فروا
شوکت کیفی
دینا پاٹھک
پریم ناراین
گجانن جاگیردار
راج ببر
بھرت بھوشن
ستیش شاہ
موسیقی خیام
شہریار (گیت کار)
سنیماگرافی پروین بھٹ
ایڈیٹر بی۔ پرساد
تاریخ اشاعت
  • 1981 (1981)
  • بھارت (بھارت)
دورانیہ
145 دقیقہ
زبان اردو

امراؤ جان 1981ء کی ایک بالی وڈ اردو فلم ہے۔ اس فلم کی کہانی اردو ناول نگار مرزا ہادی رسوا کے مشہور ناول امراؤ جان ادا (1905ء) پر مبنی ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار مظفر علی ہیں۔ یہ فلم لکھنؤ کی ایک طوائف کی زندگی پر بنی ہے۔ جس میں اہم کردار ریکھا اور فاروق شیخ نے نبھایا ہے۔

پلاٹ[ترمیم]

1840ء میں صوبہ اودھ کے شہر فیض آباد کے ایک خاندان سے ایک لڑکی امیرن (سیما ستھیو)، اپنے جیل سے رہا ڈاکو پڑوسی، دلاور خان (ستیش شاہ), کے ذریعہ، اغوا کرلی جاتی ہے اور شہر لکھنؤ کے ایک کوٹھے (طوائف خانہ) میں خانم جان (شوکت کیفی) کو بیچ دی جاتی ہے۔ خانم جان طوائفوں کو ناچ گانے کی تربیت دیا کرتی ہے۔ امیرن کا نام“امراؤ جان“ رکھ دیاجاتا ہے اور لکھنا پڑھنا، ناچ گانا، موسیقی کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ سب تربیت امیر لوگوں کی توجہ کھینچنے کے لیے کی جاتی ہے۔

امراؤ جان، نواب سلطان (فاروق شیخ) کی توجہ کھینچ لیتی ہے، دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ لیکن نواب سلطان اپنے خاندان والوں کی مرضی کے مطابق کسی اور سے شادی کرتا ہے۔ امراؤ کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔

امراؤ ایک لٹریرے فیض علی (راج ببر) سے ملتی ہے۔ دونوں چاہتے ہیں شادی کر لیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اس طوائف خانے کی دلدل سے رہا پائے ،امراؤ، فیض علی کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔ بد قسمتی سے فیض علی پولس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ امراؤ پھر سے اکیلی ہوجاتی ہے اور دوبارہ اسی دلدل میں آگرتی ہے۔

اس دوران برطانوی فوج لکھنؤ پر حملہ بولتی ہیں، عوام اپنے گھروں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ امراؤ کا پڑاؤ لکھنؤ کے قریب ایک گاؤں میں ٹہرتاہے۔ وہاں کے لوگ امراؤ کو ناچ گانے پر اسرار کرتے ہیں۔ یہ وہی فیض آباد وہی جگہ تھی جہاں سے وہ اغویٰ کی گئی تھی۔ وہ اپنی پچھلی داستان کو یاد کرتے ہوئے یہ گیت گاتی ہے “ یہ کیا جگہ ہے دوستو، یہ کونسا دیار ہے ‘‘۔ اس کو پتہ ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے سامنے رقص کر رہی ہے۔ بعد میں وہ اپنے گھر والوں سے ملتی ہے، ماں بہت خوش ہوتی ہے مگر بھارئی اسے اپنانے سے انکار کرتا ہے۔ وہ پھر سے مایوس اسی لکھنؤ کے طوائف خانے لوٹتی ہے، جو بالکل تنہا، اگر اس کے ساتھ کوئی ہے تو بس اس کی تنہائی، مایوسی، دلدلی پیشہ اور شاعری۔

نقادوں کی نظر میں[ترمیم]

نقاد ریکھا کے فن کی جم کے تعریف کی، باکس آفس پر بزنس مایوس اور اوسطاً رہا ۔[1] معاون کردار ادا کرنے والے نصیر الدین شاہ, فاروق شیخ, راج ببر اور بھرت بھوشن کی بھی تعریف ہوئی کہ ان اداکاروں نے اس فلم کو تاریخی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

نغمے اور موسیقی کا کمپوزیشن خیام نے کیا اور شاعر اور نغمہ نگار شہریار رہے۔ بہت سارے نغمے آشا بھوسلے کے گائے اور ان کے نغمے (غزلیات اور گیت کی شکل میں) رہے۔ مقبول نغمے، “دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجئے ‘‘، “جستجو جس کی تھی ‘‘، “ان آنکھوں کی مستی میں ‘‘، “یہ کیا جگہ ہے دوستو ‘‘ کافی سراہے اور سنے گئے۔

اداکار[ترمیم]

دیگر نویس[ترمیم]

اعزازات اور نامزگیاں[ترمیم]

سال فنکار اعزاز نتیجہ
1981ء ریکھا قومی فلمی اعزاز برائے بہترین اداکارہ فاتح
آشا بھوسلے قومی فلمی اعزاز برائے بہترین پس پردہ گلوکارہ فاتح
خیام قومی فلمی اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار فاتح
منظور [3] قومی فلمی اعزاز برائے بہترین فنی ہدایت فاتح
1982ء مظفر علی فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایت کار فاتح
محمد ظہور خیام فلم فیئر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار فاتح
ریکھا[4] فلم فیئر اعزاز برائے بہترین اداکارہ نامزد

نغمے[ترمیم]

نمبر شمارعنوانLyricsگلوکارطوالت
1."دل چیز کیا ہے"شہریارآشا بھوسلے6:06
2."ان آنکھوں کی مستی میں"شہریارآشا بھوسلے5:42
3."جب بھی ملتی ہے"شہریارآشا بھوسلے1:28
4."جھولا کننے ڈالا"شہریار 2:31
5."جستجو جس کی تھی"شہریارآشا بھوسلے4:37
6."کاہے کو بیاہی بدیس"امیر خسرو[5]جگجیت کور4:52
7."راگ مالا"شہریارمصطفے خان، رونا پرساد، شاہدہ خان، استاد غلام صادق خان5:22
8."یہ کیا جگہ ہے دوستو"شہریارآشا بھوسلے6:07
9."زندگی جب بھی"شہریارطلعت عزیز4:51

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]