امریش پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امریش پوری
Amrish Puri
(ہندی میں: अमरीश पुरी ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Amrish Puri.jpg
امریش پوری

معلومات شخصیت
پیدائش 22 جون 1932(1932-06-22)
لاہور، صوبہ پنجاب، برطانوی ہند[1]
وفات 12 جنوری 2005(2005-10-12) (عمر  72 سال)
ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
وجہ وفات سرطان  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (1947–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 1.75 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ارمیلا دیویکر (1957–2005)
(وفات)
اولاد راجیو (بیٹا)
نمرتا (بیٹی)
تعداد اولاد 2   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکار
پیشہ ورانہ زبان ہندی،  ملیالم،  تیلگو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1970–2005
اعزازات
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین معاون اداکار (1986)
سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ  (1979)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
امریش پوری کے دستخط
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امریش پوری 1932 میں پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بالی وڈ کے منفی رول کرنے والے مشہور اداکار۔ اپنی فلمی زندگی کا آغاز انیس سو اکہتر میں فلم ’ ریشما اور شیرا‘ سے کیا۔ وہ آرٹ فلموں کے مشہوراداکار اوم پوری کے بھائی تھے اور ابتدائی طور پر فلموں میں ہیرو کے طور پر کام کرنا چاہتے تھے۔ ہیرو بننے کے خواب دیکھنے والے امریش پوری نے بطور ہیرو اسکرین ٹیسٹ دیا اور ناکام رہے لیکن پروڈیوسرز نے انہیں ولن کے روپ میں کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بالی وڈ میں فلمی ولن کے کردار کے طور پر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا کئی برسوں تک منوایا۔ انیس سو ستاسی میں بننے والی فلم ’ مسٹر انڈیا‘ میں اپنے ایک کردار ’ موگامبو‘ کی وجہ سے امریش پوری کو لا زوال شہرت ملی۔ اس کے علاوہ انہیں اسی اور نوے کی دہائی میں فلم ’ودھاتا‘، ’پھول اور کانٹے‘ اور ’ دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کے حوالے سے بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ دسمبر میں ریلیز ہونے والی فلم ’ ہلچل‘ ان کی آخری بڑی فلم تھی۔

امریش پوری نے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں بھی کام کیا جن میں انیس سو چوراسی میں ہالی وڈ کے مشہور ہدایتکار سٹیون سپیلبرگ کی فلم ’ انڈیانا جونز اینڈ دی ٹیمپل آف ڈوم‘ کے سبب انہیں بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ امریش پوری نے رچرڈ اٹینبرا کی فلم ’ گاندھی‘ میں ایک عام کردار ادا کیا۔ دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ سے بمبئی میں انتقال ہوا۔

کیرئیر[ترمیم]

تھیٹرز اور چند ایک کرداروں کے بعد انہیں 39 سال کی عمر میں 1971 میں “ریشماں اور شیرا “ فلم ملی۔انہوں نے آرٹ فلموں سمیت 400 سے زائد فلمز میں کام کیا ، ہندی، پنجابی، تیلگو،تامل اور انگریزی فلمز indiana jones, temple of doom )میں اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں بالی وڈ کی تاریخ کا سب سے بہترین ولن کہا جائے تو غلط نا ہوگا بھاری بھر کم آواز ، قہر برساتی آنکھیں اور بے مثال لب و لہجہ ان کی شخصیت کو مذید رعب دار بنا دیتا تھا۔55 سال کی عمر میں انہوں نے “موگیمبو “ کا کردار کیا۔ انکا یہ ڈائیلاگ “ موگیمبو خوش ہوا کافی مقبول ہوا۔ ” فلم “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” میں کاجول کے باپ کا کردارانہوں نے بے حد خوبصورتی سے نبھایا، “ جا سمرن جا” ڈآئیلاگ بھی مقبول ہوامریش پوری نے کئی طرح کے کردار کیے اور خود پر محض ولن کی چھاپ نہی لگنے دی مگر اس کے باوجود وہ آج بھی بھارتی سینما کے بہترین ولنز میں شمار ہوتے ہیں۔ نصیب، ودھاتا، میری جنگ،مسٹر انڈیا، کرن ارجن،گھاتک، دامنی، پردیس،کوئلہ، بادشاہ، چائینا گیٹ، چاچی چار سو بیس،وراثت، تال،نائیک ، غدر ، مسکراہٹ ، نگینہ ، دل جلے سوداگر ،دیوانہ وغیرہ میں یادگار کردار نبھائے۔2005 ان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔ وراثت، گھاتک،میری جنگ میں فلم فئیر ایوارڈز حاصل کر چکے۔



حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Mogambo Amrish Puri lives on: A tribute". Hindustan Times. 11 January 2010. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 مئی 2016.