امریکی جامعہ افغانستان
| دانشگاه آمریکایی افغانستان د افغانستان امریکايي پوهنتون | |
| قسم | نجی جامعہ |
|---|---|
| قیام | 2006 |
| بانی | شریف فائز |
| ایان بک فورڈ | |
| پرو ووسٹ | وکتوریا سی فونٹانا |
| مقام | کابل، افغانستان 34°28′32″N 69°7′35″E / 34.47556°N 69.12639°E |
| ماسکوٹ | سیمرغ |
| ویب سائٹ | www.auaf.edu.af |
امریکی جامعہ افغانستان (AUAF؛ (پشتو زبان امریکايي پوهنتون) ایک آن لائن نجی جامعہ ہے۔[1] سقوط کابل 2021ء کے بعد جامعہ کے زیادہ تر طلبہ بیرون ملک منتقل ہو گئے اور 2022ء میں قطر میں ایک نئے کیمپس کے قیام کے منصوبے پر غور کیا گیا۔[2] امریکی جامعہ افغانستان ملک کی پہلی نجی غیر منافع بخش اعلیٰ تعلیمی جامعہ تھی۔[3] یہ جامعہ پہلے دارالامان کے علاقے کابل میں واقع تھی۔[4] 2004ء میں چارٹر حاصل کرنے والی اس جامعہ نے ایم بی اے، چار انڈرگریجویٹ ڈگری پروگرام، پری کالج تیاری (اکیڈمی) اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کنٹینیونگ ایجوکیشن پروگرامز (پروفیشنل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ) پیش کیے۔ جامعہ نے 2006ء میں 50 طلبہ کے ساتھ آغاز کیا جو بعد میں بڑھ کر 1,700 کل وقتی و جز وقتی طلبہ تک پہنچ گئے۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ میں 29 فلبرائٹ اسکالرز شامل ہیں۔[5] جامعہ کا 2025ء کا بہار کا سمسٹر یو ایس ایڈ کی فنڈنگ میں کٹوتی کے باعث عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، تاہم فنڈز جون 2025ء تک کے لیے بحال کر دیے گئے۔[6][7]
تاریخ
[ترمیم]امریکی جامعہ افغانستان کا تصور 2002ء میں اُس وقت کے افغان وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر شریف فیاض نے پیش کیا، جنھوں نے افغانستان کی پہلی نجی جامعہ کے قیام کی تجویز دی۔ اگلے برس یونیسکو کے سامنے خطاب میں اُس وقت کی امریکی خاتون اول لورا بش نے افغانستان میں تعلیمی منصوبوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد، جو امریکن یونیورسٹی بیروت سے فارغ التحصیل تھے، نے بھی اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی۔ افغانستان کے "ہائی کمیشن فار پرائیویٹ انویسٹمنٹ" نے دارالامان کے علاقے میں 55.354 ایکڑ زمین 2103ء تک کے لیے لیز پر دی۔ امریکی جامعہ افغانستان کارپوریشن کو ریاست ڈیلاویئر میں بطور غیر منافع بخش ادارہ رجسٹر کیا گیا، جس کے سربراہ ڈاکٹر جیکب فان لُٹسن برگ ماس تھے۔ 2007ء میں یہ ادارہ امریکی قانون کے تحت 501(c)(3) ٹیکس استثنا یافتہ تنظیم بن گیا۔

26 جولائی 2004ء کو افغان وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے جامعہ کے قیام کا چارٹر منظور کیا۔ اس کے بعد امریکی "کوارڈینیٹنگ کونسل آف انٹرنیشنل یونیورسٹیز" نے ایک فیزیبلٹی اسٹڈی تیار کی تاکہ ادارے کا فریم ورک طے کیا جا سکے۔[8] دسمبر 2004ء میں بورڈ آف ٹرسٹیز کا پہلا اجلاس دبئی، متحدہ عرب امارات میں ہوا۔ ڈاکٹر فیاض کو عبوری صدر منتخب کیا گیا، جنھوں نے 2007ء تک خدمات انجام دیں اور بعد ازاں "بانی" کے طور پر تسلیم کیے گئے۔ وہ 2019ء میں وفات تک جامعہ سے وابستہ رہے۔ مارچ 2005ء میں امریکی خاتون اول لورا بش نے جامعہ کے مقام کا دورہ کیا اور یو ایس ایڈ کی جانب سے بڑے مالی تعاون کا اعلان کیا۔[9] جامعہ کے پہلے طلبہ مارچ 2006ء میں داخل ہوئے۔ ابتدا میں ان کے لیے انگریزی اور مطالعہ کی تیاری کے کورسز رکھے گئے، جب کہ ستمبر 2006ء میں پہلا انڈرگریجویٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ اسی سال پروفیشنل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا گیا۔ 8 جون 2008ء کو مسز بش نے مزید 40 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا تاکہ آئندہ پانچ سال تک ادارے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ جامعہ کی پہلی گریجویشن تقریب مئی 2011ء میں منعقد ہوئی، جس میں 32 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں۔ 2014ء میں سب سے بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں 180 طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔ مئی 2015ء میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی، جنھوں نے خطاب بھی کیا۔ 2019ء تک 1,700 سے زائد طلبہ تمام 34 افغان صوبوں سے جامعہ میں زیر تعلیم تھے، جن میں 36% خواتین تھیں اور 85% طلبہ کو مالی معاونت حاصل تھی۔[3] 2012ء–2013ء کے تعلیمی سال میں داخل ہونے والے طلبہ میں خواتین کی شرح 50% سے زائد تھی۔[10]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Ruchi Kumar (23 Apr 2025). "U.S. college grants for 208 Afghan women are cut, then restored -- yet still in limbo". NPR (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-06-28.
- ↑ "What remains of the American University of Afghanistan?". NPR.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-09-29.
- ^ ا ب "A Brief History"۔ www.auaf.edu.af۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-04-03[مردہ ربط]
- ↑ "Taliban Rename American University Of Afghanistan, Plan Relocation & Expansion". www.afintl.com (بزبان انگریزی). 18 Jun 2025. Retrieved 2025-06-28.
- ↑ "The American University of Afghanistan"[مردہ ربط]
- ↑ Announcement! Suspension of the Spring 2025 Semester at the American University of Afghanistan (AUAF)، اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-09
- ↑ Ruchi Kumar (23 Apr 2025). "U.S. college grants for 208 Afghan women are cut, then restored -- yet still in limbo". NPR (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-06-28.
- ↑ "Study Launched for Building an American University in Afghanistan"۔ usinfo.state.gov۔ 2005-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "American University in Afghanistan To Train Future Leaders"۔ usinfo.state.gov۔ 2007-02-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "Dr. C. Michael Smith on Education and Women Empowerment in Afghanistan"۔ Filmannex.com۔ 14 مارچ 2013۔ 2013-03-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-12
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر امریکی جامعہ افغانستان سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |