امّو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

کئی دہائیوں پر محیط دعوے موجود ہیں کہ سیارہ امّو کے باسی زمین سے رابط کر رہے ہیں۔ پروفیسر جین پیرے پیٹٹ ایک مشہور فرانسیسی طبیعیات دان ہیں اور فرانس کے نیشنل سینٹر برائے سائنٹفک ریسرچ National Center for Scientific Research CNRS کے (ریٹائرڈ) سینئر ریسرچر (senior researcher) ہیں، مائع میکانیات، گیسوں کے حرکی نظریات، پلازما طبیعیات، مقناطیسی ہائیڈرو ڈائنامک پاور جنریشن، فلکی طبیعیات اور سائنس کی دیگر بہت سی شاخیں ان کا میدانِ عمل ہیں، وہ کئی ایسی سائنسی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں پاپولر سائنس کو آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے.. مختصر یہ کہ اس شخص کی علمی حیثیت تمام تر شبہات سے بالا تر ہے..


پروفیسر جیں پیرے نے اس وقت پوری دنیا اور خاص طور سے سائنسی برادری کو حیرت میں مبتلا کردیا جب انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ نصف صدی سے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سے رابطہ میں ہیں، اور یہ کہ وہ انہیں تواتر سے اپنے خطوط ارسال کرتے رہتے ہیں، ان خطوط میں صرف ان کے وجود کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات حیران کن طبیعیاتی مساواتیں اور ایسے مسائل کا علمی حل موجود ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں کو ایک طویل عرصہ تک پریشان کر رکھا تھا. اور پروفیسر جین پیرے یہ یقین دلاتے ہیں کہ دنیا میں صرف وہی واحد شخص نہیں جسے دوسرے سیارے کی ان مخلوقات کے پیغامات موصول ہوتے ہیں، بلکہ وہ تو سائنسدانوں، ادیبوں اور مفکرین کے ایک بہت بڑے گروپ کے ایک فرد ہیں جنہیں تواتر سے یہ پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں، اور جو ان پیغامات میں پیش کی گئی معلومات، خبروں اور سائنسی مسائل کے حل سے حیرت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے..پروفیسر جین پیرے ان خلائی مہمانوں کے بارے میں ان کے خطوط کی روشنی میں جو کچھ بھی جانتے تھے اسے بیان کرنے لگے.. وہ خطوط جو انہیں نصف صدی تک موصول ہوتے رہے تھے…

یہ مہمان “یومو” (UMMO) نامی ایک سیارے سے تعلق رکھتے ہیں جو ہم سے تقریباً پانچ نوری سال دور واقع ہے، اس سیارے کی کشش زمین کی کشش سے کچھ زیادہ ہے چنانچہ جب وہ ہماری زمین پر آتے ہیں تو اپنے آپ کو تقریباً 20% فیصد ہلکا اور کم وزن محسوس کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یومو سیارے کا حجم (mass) ہمارے کرہ ارض سے کوئی ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، اس سیارے پر ایک دن 24 گھنٹوں کی بجائے 32 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم اس سیارے پر ہماری زمین کی طرح چار موسم ہی گزرتے ہیں البتہ اس سیارے کا کوئی چاند نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں رات انتہائی سیاہ ہوتی ہے، سیارہ براعظموں کے ٹوٹنے کے مرحلہ سے نہیں گزرا چنانچہ وہاں صرف ایک ہی برِ اعظم ہے اور ایک ہی طویل قامت بھوری نسل ہے جو ایک ہی زبان بولتے ہیں، اس وجہ سے وہاں جنگوں کے امکانات ختم ہوگئے اور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار ہوگئی..

اور چونکہ ہمارا سیارہ انہیں ہلکا نیلا اور مربع شکل میں نظر آتا تھا چنانچہ انہوں نے اپنی زبان میں اس کا نام “اویاگا” (OYA GAA) رکھ دیا، جس میں لفظ (OYA) کا مطلب مربع اور (GAA) کا مطلب ٹھنڈا ہے.. یعنی ہماری زمین ان کے ہاں “ٹھنڈے مربع” کے نام سے جانی جاتی تھی..

پھر انہوں نے زمین کی طرف رختِ سفر باندھنے کی ٹھانی اور یومو کے خلا نورد زمین کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے اور اٹھائیس مارچ 1950ء کو انہوں نے زمین پر پہلا قدم رکھا..

یومو کے ان مہمانوں نے اپنے ایک خط میں اپنے اترنے کی جگہ کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی اور جو کچھ دیکھا اسے بیان کیا، ان کے مطابق انہوں نے ایک پہاڑی غار میں بڑی مہارت سے اپنے آلات چھپائے اور اپنے چھ 6 ساتھیوں کو زبان اور مقامی عادتیں سیکھنے اور سمجھنے کے لیے زمین پر چھوڑ کر اپنے سفر کے ابتدائی نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے واپس یومو کی طرف روانہ ہوگئے..

معاملہ پر نظر رکھنے والوں نے ان معلومات کو ایسے ہی نہیں جانے دیا، انہوں نے ایک ٹیم بنائی اور اس مقام پر جا پہنچے جس کی یومو کے پیغامات میں نشاندہی کی گئی تھی..

مگر معاملہ اتنا آسان نہیں تھا.. شاید یومو والے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑنا چاہتے تھے.. اس کے با وجود وہاں ایسے سرخ رنگ کے پتھر دریافت ہوئے جو زمین پر اب تک کہیں نہیں پائے گئے..

خود یومو کے خطوط ایک ایسے کاغذ پر پرنٹ ہوتے ہیں جنہیں انتہائی اعلی ٹیکنالوجی کے بغیر بنانا نا ممکن ہے، ان خطوط پر موجود مہر سے محدود تعداد میں ایٹمی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جیسے انہیں کسی خاص قسم کے شعاعی مادے سے بنایا گیا ہو، ایسا مادہ زمین کی اعلی ترین کیمیکل لیبارٹریوں میں بھی نہیں بنایا جاسکتا، حتی کہ خود جین پیرے اس بارے میں کہتے ہیں:

- تمام ثبوت اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یا تو یہ خطوط ارسال کرنے والے طبیعیات کے غیر معمولی سائنسدان ہیں جنہیں غیر معمولی لیبارٹریوں کا تعاون حاصل ہے اور جو تاریخ کا سب سے بڑا مذاق کر کے ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں، یا پھر یہ واقعی یومو نامی سیارے کے لوگ ہیں.

دراصل جین پیرے نے یہ بات یوں ہی نہیں کہی، ایک طبیعیات دان کی حیثیت سے وہ جانتے ہیں کہ یومو کے خطوط میں جن مشکل طبیعیاتی مسائل کا حل بڑی آسانی سے پیش کیا گیا ہے ویقیناً حیران کن ہے.. ان کے خیال میں ان خطوط کی موجودگی ہی دراصل یومو اور اس کے زمینی مہمانوں کی موجودگی کی دلیل ہے..

اپنی کہانی پر سے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے اس سنجیدہ فرانسیسی سائنس دان نے اس معاملے پر ایک کتاب لکھی جس میں تمام اہم دستاویزات کی تصاویر شائع کیں اور ان پر طویل علمی بحث بھی کی تاکہ سائنسی کمیونٹی کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیا جاسکے..


یہ بات یقینی تھی کہ اعتراض کرنے والے یہ نقطہ اٹھاتے کہ یومو کے لوگ اتنی جلدی یعنی صرف دو سال کے عرصہ میں زمین پر کیسے پہنچ گئے جبکہ ان کا سیارہ زمین سے پانچ نوری سال دور واقع ہے..؟

جواب یومو کے خطوط میں ہی ہے..

اپنے خطوط میں اہلِ یومو نے ایک نظریہ کا تذکرہ کیا ہے جسے انہوں نے “جڑواں کائنات” کا نام دیا، یہ نظریہ کسی حد تک نوبل انعام یافتہ برطانوی سائنسدان پال ڈیراک (PAUL DIRAC) کے رد مادہ نظریے سے مشابہت رکھتا ہے جسے اس نے 1928ء میں وضع کیا تھا، جس کے مطابق ایک رد مادہ وجود رکھتا ہے جس میں ذرے کا نیوکلیئس منفی اور اس کے الیکٹران مثبت چارج کے حامل ہوتے ہیں..

یومو کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ ایک کائنات نہیں ہے، بلکہ دو جڑواں کائناتیں ہیں جنہیں آپس میں سیاہ شگاف مربوط کرتے ہیں، ان سیاہ شگافوں سے ایک خاص نوعیت کے نیٹ ورک کے ذریعے گزر کر یومو کے خلائی جہاز زمان ومکان کو مختصر کرتے ہوئے لاکھوں خلائی یونٹ چند دنوں میں پار کر جاتے ہیں..

یقیناً اس نظریہ کو بھی سخت اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا..

مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک عظیم نظریہ ہے جس نے سابقہ تمام نظریات کو مات دے دی ہے..

اور لوگ جو کچھ نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں..

چاہے وہ سائنسدان ہی کیوں نہ ہوں..

ایسے ہی کچھ سائنسدانوں نے طنزاً یہ سوال اٹھایا کہ اہلِ یومو نے بجائے ان گول مول خطوط کے اپنے وجود کا کھلے طور پر اعلان کیوں نہیں کیا..؟

اس سوال کا جواب بھی یومو کے خطوط میں ہی موجود ہے..

وہ کہتے ہیں کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ وہ اپنے وجود کا اعلان کردیں، مگر اب بھی انہوں نے فرانس کے جنگلوں میں اپنا خفیہ ٹھکانہ قائم رکھا ہوا ہے جس میں موجود اعلی ترین ٹیکنالوجی کے حامل آلات ان کے وجود کا ثبوت ہیں، جب مناسب وقت آئے گا وہ خود ہی تمام ممالک کے حکمرانوں سے رابطہ کر کے اپنے وجود کا اعلان کردیں گے..

یومو کے ان زمینی مہمانوں کے خلائی لباس میں ایک خاص قسم کا نشان ہے جو پروں والے سانپ پر مشتمل ہے، اس نشان کے مفہوم کے حوالے سے جین پیرے ایک طویل عرصہ تک متفکر رہے مگر انہوں نے کبھی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا..

یومو کے لوگ اس طرح انسانوں کے درمیان گھوم پھر سکتے ہیں کہ کسی کو ذرا بھی شک نہ گزرے.. ان کی ظاہری وضع قطع قطعی انسانی ہے ما سوائے اس کے کہ وہ ذرا دراز قد اور کچھ اترے ہوئے چہرے کے حامل ہیں مگر انسانوں کے طوفان میں گم ہونے کے لیے یہ کوئی اتنی بڑی رکاوٹ نہیں ہے خاص طور سے دنیا کے بڑے بڑے گنجان آباد شہروں میں جیسے نیویارک، روم، اور شاید کراچی بھی..!!

سب سے عجیب بات جو یومو کے مہمانوں نے کی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں..

صاف لفظوں میں ان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہم اور وہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں..

اس بات کا کیا مطلب ہے یہ انہوں نے واضح نہیں کیا..

کیا ان کے اباء واجداد زمین کی کسی سابقہ تہذیب سے تعلق رکھتے تھے اور پھر وہ اس دور دراز سیارے پر ہجرت کر گئے، یا ہم اور وہ کسی دوسرے سیارے سے آئے مگر کچھ لوگ زمین اور کچھ لوگ یومو کی طرف چلے گئے؟!

میرا نہیں خیال کہ اس سوال کا جواب اتنا آسان ہے..

دراصل یہ سارا قصہ ہی ناقابلِ یقین ہے، اور ہزاروں سوالوں کو جنم دیتا ہوا نظر آتا ہے چنانچہ ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا..

مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے بہت سوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا ہوگا..

بلکہ کچھ نے تو اسے سرے سے مسترد ہی کردیا ہوگا..

اور شاید مجھ پر پاگل پن کا الزام بھی لگایا ہوگا کہ میں قاری کو ایک جھوٹی کہانی سناکر بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ بلاگ کو زیادہ مقبول بنا سکوں..

مگر مجھے اس کی فکر نہیں ہے..

پروفیسر جین پیرے کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے اہلِ یومو کے بارے میں اپنی کتاب شائع کی تھی..

مگر اس فرانسیسی سائنسدان نے اپنی کتاب کے آخر میں فرانس کی حکومت کو اپنے تمام تر سرکاری اور علمی اداروں سمیت چیلنج کیا کہ وہ اس کی کتاب کو مسترد کر کے دکھادیں..

اس نے چلینج کیا کہ حکومت کے ذمہ داران کو بھی یومو کے مہمانوں سے ایسے سینکڑوں خطوط موصول ہوچکے ہیں اور یہ کہ علمی ادارے معاملہ پر سنجیدگی سے تحقیق کر رہے ہیں بلکہ ان مہمانوں سے براہ راست رسمی رابطہ کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں..

تعجب کی بات یہ ہے کہ حکومتِ فرانس نے اس کے چیلنج کو نا تو چھٹلایا اور نا ہی مسترد کیا..

مگر کسی نے اسے قبول بھی تو نہیں کیا..

تو کیا اس سے آپ کے ذہن میں کوئی سوال اٹھتے ہیں؟!

اور کیا آپ جانتے ہیں کہ جین پیرے کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے زمین پر خلائی مخلوق کے وجود کی طرف اشارہ کیا ہے..؟!

اس سے پہلے مشہور مصنف چارلس بیرلٹز نے اسی حوالے سے اپنی ایک طویل تحقیق کو “روزویل کا واقعہ” کے عنوان سے شائع کیا..

روزویل امریکی ریاست نیو میکسیکو کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کے رہائشی جولائی 1947ء کی ایک رات کو ایک زور دار دھماکے اور افق میں اٹھتی ہوئی آگ کی لپٹوں کے شور پر بیدار ہوئے، اور اس سے پہلے کہ وہ جائے حادثہ پر پہنچتے جہاں کوئی نامعلوم چیز گر کر تباہ ہوئی پڑی تھی اور جس کا گنبد نما سبز حصہ واضح طور پر نظر آرہا تھا فوج نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور لوگوں کے شدید احتجاج کے با وجود کرفیو نافذ کردیا..

جب چارلس بیرلٹز نے اس معاملے کی تحقیق کی تو اسے پتہ چلا کہ وہ چیز جو روزویل میں اس رات گری تھی وہ سوائے ایک اڑن طشتری کے اور کچھ نہیں تھا جس میں خلائی مخلوق کی لاشیں تھیں، ان میں سے ایک اڑن طشتری کے گرنے کے باوجود بچ گیا تھا اور امریکی ایئر فورس نے تحقیق کی غرض سے اس پر قبضہ کر لیا تھا مگر وہ ایک ہفتہ بعد ہی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مرگیا کہ اس دور کا زمینی طب اسے بچانے میں ناکام رہا تھا..

جب بیرلٹز نے اپنی یہ کتاب شائع کی تو امریکی معاشرے کو شدید صدمہ پہنچا، لوگوں نے حکومت سے اس واقعہ سے متعلق تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا مگر امریکی حکومت نے خاموشی اختیار کیے رکھی..

حکومت کی اس خاموشی سے خلائی تحقیق سے متعلق ایک تنظیم کے رکن کو شدید غصہ آیا اور اس نے قوم سے حقائق چھپانے پر سی آئی اے پر کیس کردیا، جب جنوری 1972ء میں اس کیس کی کارروائی شروع کی گئی تو سی آئی اے نے عدالت سے استدعاء کی کہ قومی سلامتی کے پیشِ نظر عدالتی کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، بند کمرے میں منعقدہ سات نشستوں کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے امریکی سی آئی اے کو قصور وار ٹھہرایا مگر ساتھ ہی قومی سلامتی کے پیشِ نظر عدالت نے کیس کی تفصیلات شائع نہ کر سکنے پر افسوس کا اظہار کیا..

اور لوگوں نے اس فیصلہ کو حکومت اور سی آئی اے کی طرف سے بیرلٹز کی کتاب میں لگائے گئے الزامات کا اعتراف قرار دیا..

مگر اس سے معاملہ طے نہیں ہوا..

1994ء میں اومنی (OMNI) میگزین نے اپنے قارئین کو ایک بار پھر روزویل کے واقعہ کی یاد دلائی اور قارئین سے استدعاء کی کہ وہ حکومت سے روزویل کے واقعہ کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کریں خاص طور سے جبکہ اس وقت اس واقعہ کو 45 سال ہوچکے تھے..

دسمبر 1994ء تک مطالبہ کرنے والے امریکیوں کی تعداد چودہ ملین سے تجاوز کرگئی مگر امریکی حکومت اب بھی معاملہ کو “ٹاپ سیکرٹ” سمجھتی ہے..

یہ جملہ وہ حدِ فاصل ہے جہاں جین پیرے اور چارلس بیرلٹز جیسوں کی تحریریں ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں، “ٹاپ سیکرٹ” کی یہ حد تب تک قائم رہے گی جب تک کہ کسی سیارے کی مخلوق خود ہی اپنے وجود کا اعتراف نہ کر لے..

یہاں قابلِ غور نقطہ یہ ہے کہ جین پیرے جن اہلِ یومو کی بات کرتے ہیں ان کا ان لوگوں سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے جن کی اڑن طشتری 1947ء میں روزویل میں گری تھی، ان کے بارے میں بیرلٹز کا کہنا تھا کہ ان کے قد چھوٹے اور سر بڑے تھے اور پھر یہ حادثہ 1947ء کو وقوع پزیر ہوا تھا جبکہ اہلِ یومو نے زمین پر پہلی بار 1950ء میں قدم رکھا تھا..

تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا کرہ ارض اب صرف ہم پر ہی منحصر نہیں رہا..

بلکہ ہماری زمین اب ایک خلائی سٹیشن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جہاں مختلف سیاروں کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں..

مگر کیوں..؟!

جواب کچھ بھی ہو، یہ بات یقینی ہے کہ ہم کسی ایسی تحقیق کا نشانہ ہیں جس کا فیصلہ ہمیشہ وہاں ہوتا ہے..

ستاروں سے آگے.