امہات الامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امہات الامہ
امہات الامہ.jpg
مصنف ڈپٹی نذیر احمد
ملک ہندوستان
زبان اردو
صنف علم کلام
ناشر ساقی بک ڈپو
تاریخ اشاعت
1935ء (اشاعت دوم)
صفحات 188

امہات الامہ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کی کتاب ہے جو انہوں نے پادری معظم احمد شاہ شائق کی کتاب امہات المومنین کے رد میں لکھی تھی۔[1] ڈپٹی صاحب کی زندگی کی یہ آخری تصنیف ہے۔ احمد شاہ شائق نے مذکورہ کتاب میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کی زوجات امہات المومنین کے سیاق میں ان کے کردار کا جائزہ لینے کی کوشش کی تھی اور اسے سنہ 1897ء میں شائع کیا۔[2] ڈپٹی نذیر نے امہات الامہ میں اسی کتاب کا مفصل جائزہ لیا ہے اور تعقلی تنقید کی روشنی میں مسیحی پادری کے اعتراضات کے معقول جوابات بھی دیے ہیں۔

تاہم ڈپٹی صاحب سے اس کتاب کی تصنیف کے دوران میں یہ چوک ہو گئی تھی کہ انہوں نے بعض جگہوں پر مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کے ناموں کے ساتھ ضروری القاب نہیں لکھے اور بعض فقرے ایسے درج کر دیے جو گوکہ لسانی اعتبار سے درست تھے لیکن انہیں ان ہستیوں کی شان میں ہتک آمیز سمجھا گیا۔[3] چنانچہ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد دہلی کے مسلمانوں میں شورش برپا ہوئی۔ کچھ عرصے بعد دہلی میں تحریک ندوۃ العلماء کا ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں سر عام اس کتاب کے بیشتر نسخوں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔[4]

سبب تصنیف[ترمیم]

برطانوی ہندوستان میں حکومت برطانیہ کی زیر سرپرستی مسیحیت کی تبلیغ زور و شور سے جاری تھی اور اسی ضمن میں اسلام کے مسلمہ عقائد، اصول اور شخصیات پر تردید کا سلسلہ بھی چل پڑا تھا۔ چنانچہ سنہ 1897ء میں لداخ سے تعلق رکھنے والے پادری معظم احمد شاہ شائق نے پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کی ازدواجی زندگی، تعدد ازدواج اور ان کی زوجات پر اعتراضات لکھ کر امہات المومنین کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب کا شائع ہونا تھا کہ مسلمانوں میں شورش بھڑک اٹھی۔ ایک طرف تو کتاب کے خلاف مسلمانوں نے استغاثے کیے اور اپنی نالش لے کر شملہ پہنچے، جس کے نتیجے میں اس کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی۔[5] اور دوسری طرف مسلمان علما نے اس کتاب کا تحقیقی جائزہ لیا اور پادری احمد شاہ شائق کے اعتراضات کا مفصل جواب شائع کیا۔ سرسید احمد خان نے بھی اس کا جواب لکھا تھا لیکن ڈپٹی نذیر احمد نے سب سے مفصل، محقق اور مدلل جواب لکھا جو امہات الامہ کے نام سے شائع ہوا۔

موضوعات[ترمیم]

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کی یہ آخری تصنیف ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں انہوں نے قوت تولید، تعدد ازدواج کی ضرورت و اہمیت، زن و شوئی تعلقات، عرب کے آداب تمدن اور اسلام میں عورتوں کی آزادی پر منطقی گفتگو کی ہے۔ بعد ازاں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کی شرافت و حیا، عفت و پاکدامنی اور سبب تعدد ازدواج پر مبسوط روشنی ڈالی ہے۔ پھر آگے ہر ہر بیوی کے احوال اور پیغمبر اسلام سے ان کے نکاح کا واقعہ درج ہے۔ اس طرح مصنف نے پادری کے اعتراضات کا مکمل اور مدلل جواب دینے کی کوشش کی۔

اکابر کی آرا[ترمیم]

گوکہ امہات الامہ کی اشاعت کے بعد اس کے خلاف زبردست ہنگامہ ہوا اور اسے ناپید کرنے کی کوششیں ہوئیں لیکن مسلمانان ہند کے منصف مزاج اکابر علما نے اس کتاب کو خوب سراہا اور اس کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے والوں کے طرز عمل کو سخت ناپسند کیا۔ ذیل میں کچھ اکابر کی آرا سے مختصر اقتباس نقل کیے جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا اقتباسات امہات الامہ کے طبع ثانی سے ماخوذ ہیں۔

خواجہ حسن نظامی[ترمیم]

کتاب کی اہمیت پر خواجہ حسن نظامی فرماتے ہیں:

حق الامر یہ ہے کہ امہات الامہ وہ کتاب تھی کہ نہ آج مسلمانوں میں کوئی ایسا نظر آتا ہے نہ آیندہ برسوں ایسا نظر آنے کی امید ہے کہ غیر مسلموں کے سامنے اس قابلیت سے پیغمبر اسلام صلعم کی رسالت کو ثابت کر جائے۔ اور مسلمانوں کے لیے اتنا لٹریچر مہیا کردے جو امہات الامہ میں ہے۔ امہات الامہ عمّ مغفور و استاد مرحوم کی آخری تصنیف اور اردو لٹریچر کا ایک بیش بہا ذخیرہ تھا جو چند خوش اعتقاد طلبا کی عنایت سے پردہ دنیا سے ناپید ہوئی۔[6]

مولوی عبد الحق[ترمیم]

کتاب چھپنے کے بعد دلی میں برپا شورش کے متعلق بابائے اردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں:

بڑے اور نامور لوگوں پر اکثر اپنے ہمعصروں کے ہاتھوں بڑے بڑے ظلم ہوئے ہیں۔ مولانا بھی آخری عمر میں اس سے نہ بچے۔ امہات الامہ کا شائع ہونا تھا کہ دلی میں ایک ہنگامہ بیا ہوگیا۔ مولوی تو پہلے ہی ان سے جلے بیٹھے تھے، ان کی بن آئی۔ خوب جلے پھپھولے پھوڑے۔ مخالفت میں رسالے چھپوائے۔ طرح طرح کے بہتان باندھے، کفر کے فتوے لکھے اور بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، طرح طرح سے عوام کو بھڑکایا یہاں تک کہ بعض تو جان کے لاگو ہو گئے۔[4]

تنازع[ترمیم]

کتاب کی تصنیف کے دوران میں بعض مقامات پر ڈپٹی نذیر احمد نے مسلمانوں کی کچھ مقدس ہستیوں کا تذکرہ اس طرح کیا جسے عموماً ان ہستیوں کی شان کے شایاں نہیں سمجھا گیا نیز بعض جگہوں پر کچھ ایسے فقرے بھی درج ہو گئے جو اردو زبان کے محاوروں اور روزمرہ کے لحاظ سے یقیناً درست تھے لیکن مذہبی تناظر میں بقول شاہد احمد دہلوی اسے ناموزوں بلکہ ہتک آمیز سمجھا گیا۔[3] چنانچہ اسی بنا پر کتاب کی اشاعت کے بعد اس کے خلاف دہلی کے مسلمانوں میں خاصا ہنگامہ ہوا جو بعد میں ہندوستان کے دوسرے مقامات تک بھی پہنچا۔ ڈپٹی نذیر احمد سے کتاب کے تمام نسخوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ اسے مجمع عام میں جلایا جائے لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ان کے اس انکار نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا اور آتش فتنہ مزید بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں حکیم اجمل خان کو ڈپٹی صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا، وہ اس وعدہ پر کتاب کے نسخے لے آئے کہ انہیں بحفاظت اپنی تحویل میں رکھیں گے۔[3] اسی اثنا میں تحریک ندوۃ العلماء کا ایک جلسہ دہلی میں منعقد ہو رہا تھا۔ چنانچہ علما نے ساز باز کرکے وہ سارے نسخے حاصل کر لیے اور انہیں جلسہ گاہ میں لا کر دھر دیا۔ حبیب الرحمن خان شیروانی آگے بڑھے، تیل چھڑکا اور بسم اللہ کرکے کتابوں کے اس ڈھیر کو آگ لگا دی۔

اس جارحانہ کارروائی کے بعد ڈپٹی نذیر احمد کچھ اتنے آزردہ ہو گئے تھے کہ پھر باقی عمر قلم کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ساری شورش کے پیچھے رقابت کا جذبہ کارفرما تھا۔[3] نیز اس کارروائی کے ساتھ ساتھ علما کی جانب سے اس کتاب کی تردید بھی شائع ہوئی جس میں مولوی عبد الغنی کی "کشف الغمہ فی رد امہات الامہ" قابل ذکر ہے۔[1]

طبع نو[ترمیم]

کتاب سوزی کی اس کارروائی کے بعد امہات الامہ کے نسخے ناپید ہو چکے تھے۔ تقریباً ربع صدی کے بعد ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور مشہور اردو ادیب و صحافی شاہد احمد دہلوی نے ادریس المطابع دہلی سے چھاپ کر سنہ 1935ء میں ساقی بک ڈپو سے اسے دوبارہ شائع کیا۔ کتاب کا شائع ہونا تھا کہ پھر سے شورش برپا ہو گئی اور اس کے خلاف تحریک چھڑ گئی۔ حکومت سے درخواست کی گئی لیکن اس نے کان نہیں دھرا تو اکابر علما کے ذریعہ دباؤ ڈالا گیا۔ بالآخر شاہد احمد دہلوی نے عظیم بیگ چغتائی کی درخواست پر کتاب کے دو سو نسخے انہیں بھیج دیے اور کتاب کی اشاعت روک دینے کا اعلان کر دیا۔ تاہم عظیم بیگ چغتائی نے اس کے بعد انقلاب، لاہور میں اپنا ایک مراسلہ شائع کروایا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ کتابیں اب میرے پاس موجود ہیں، جس میں ہمت ہو وہ مجھ سے حاصل کر لے۔ اعلان کا چھپنا تھا کہ جودھپور کے مسلمان اور علما ان کے درپئے ہو گئے۔ جبراً سارے نسخے چھین کر لے گئے اور ایک جلسہ منعقد کیا جس میں چغتائی صاحب سے بر سر عام توبہ کروائی، کلمہ پڑھوایا اور دوبارہ مشرف بہ اسلام کیا۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب امہات الامہ، 1935ء، صفحہ 8 
  2. اسٹڈی اسلام ڈاٹ آرگ
  3. ^ ا ب پ ت گنجینہ گوہر، صفحہ 25 
  4. ^ ا ب امہات الامہ، 1935ء، صفحہ 3 
  5. امہات الامہ، 1935ء، صفحہ 10 
  6. امہات الامہ، 1935ء، صفحہ 4 
  7. گنجینہ گوہر، صفحہ 125 

بیرونی روابط[ترمیم]